• صارفین کی تعداد :
  • 9754
  • 2/12/2014
  • تاريخ :

اسلامي انقلاب کي کاميابياں  ( حصّہ چہارم )

ایران

ب- خارجہ پاليسي  

1- مشرق نہ مغرب

ايران ميں نظام حکومت کي بنياد مشرقي اور مغربي نظاموں پر نہيں بلکہ اسلامي اصولوں کے عين مطابق ہے - جب دنيا  دو بلاکوں يعني مشرقي اور مغربي بلاک ميں منقسم تھي اور شاہ ايران امريکي جھولي ميں بيٹھا ہوا تھا اور يوں خليجي ممالک ميں امريکي اہدافات کي نگہباني کر رہا تھا تو ايسے ميں دنيا کے دوسرے اسلامي ممالک بھي بيچارگي کے عالم ميں کسي نہ کسي بلاک  کے ساتھ جڑے ہوۓ تھے - ايسي حالت ميں ايراني انقلاب کے رہنماۆں نے نہ مشرق اور نہ ہي مغرب کا نعرہ لگايا اور دنيا  ميں موجود دونوں بلاکوں کا انتخاب نہيں کيا بلکہ اپني آزادي اور  خودمختاري  کو قائم رکھتے  ہوۓ آزادانہ خارجہ پاليسي اپنائي - ايران کے انقلابي رہنماۆں نے يہ عہد کيا کہ ہم نہ مشرقي بلاک ميں شامل ہونگے نہ مغربي بلاک ميں يعني انہوں نے نہ تو  امريکي  سرپرستي کو قبول کيا اور نہ ہي روس کي بلکہ اپنے الگ قومي تشخص کو قائم رکھتے ہوۓ  ايران کو اسلامي شناخت دي اور اسلامي جمہوريہ ايران کے طور پر ملک کو متعارف کروايا -

2- امريکي تحقير

امريکي مظالم اور جرائم دنيا ميں اس حد تک زيادہ ہيں کہ باني انقلاب اسلامي ايران حضرت امام خميني رحمتہ اللہ عليہ نے امريکہ کو بڑے شيطان کا نام ديا  - يہي ايک وجہ ہے کہ امريکہ کي استعمارگري کے خلاف لڑائي  اسلامي جمہوريہ ايران  کي خارجہ پاليسي کا ايک بنيادي اصول ہے -

گذشتہ نصف صدي ميں ايران ميں آنے والا اسلامي انقلاب امريکہ کے ليۓ سب سے بڑا نقصان تھا اور  شہنشاہي  رژيم حکومت کا تختہ الٹ کر  ايراني عوام نے امريکہ کے اس خطے ميں بہت سارے منصوبے خاک ميں ملا ديۓ ہيں -

13 آبان مطابق 4 نومبر1979 کو امام خميني( رہ) کے پيرو طلباء نے تہران ميں امريکہ کے سابق سفارتخانے پر جو جاسوسي کا اڈہ بن چکا تھا قبضہ کرليا امريکہ کے جاسوسي اڈے ميں سفارتکاروں کے بھيس ميں امريکي جاسوس ايران کے اسلامي انقلاب اور اسلامي نظام کے خلاف مسلسل سازشوں ميں مصروف تھے جس کے بعد طلباء نے جاسوسي کے اس اڈے  پر قبضہ کرليا- اس واقعہ کے بعدامام خميني نے اپنے بيان ميں طلباء کے اس اقدام کي حمايت کرتے ہوئے اسے انقلاب دوم کا نام ديا تھا -اس سال کے بعد ہرسال اس دن ايران ميں عالمي سامراج کے خلاف جدوجہد کا قومي دن منايا جاتا ہے -

اسلامي انقلاب کي کاميابي  کے ساتھ امريکہ کو ايران سے اپنے ہزاروں جاسوسوں  کو نکالنا پڑا ، تہران ميں اسے اپنا سفارت خانہ بند کرنا پڑا  اور اس کے ساتھ  جاسوسي کے جرم ميں سفارتي عملے کي گرفتاري نے امريکہ کي عزت خاک ميں ملا کر رکھ دي - (جاری ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

ايران کے اسلامي انقلاب نے نيا ساختار متعارف کروايا

ايران کا اسلامي انقلاب اور اسلامي  جوش