• صارفین کی تعداد :
  • 1419
  • 3/22/2012
  • تاريخ :

اذان ميں ولايت علي عليہ السلام کي شہادت کيوں 2

عید غدیر

اذان ميں ولايت علي عليہ السلام کي شہادت کيوں 1

قرآن مجيد نے بھي سورہ مائدہ ميں علي عليہ السلام کي ولايت پر تصريح فرمائي ہے:

"إِنّما وليُّكُم اللّهُ ورسولُه وَالّذينَ آمَنُوا الّذينَ يُقيمُونَ الصَّلاةَ وَيُۆْتُونَ الزَّكاة وَهُمْ راكِعُون * وَمَنْ يَتَوَّلَ اللّه وَرَسُولهُ وَالّذينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزبَ اللّه هُمُ الْغالِبُون"- [2]

تمہارا ولي اور سرپرست صرف اور صرف اللہ اور اللہ کے پيغمبر اکرم (ص) اور وہ مۆمنين ہيں جو نماز قائم کرتے ہيں، اور حالت رکوع ميں زکواۃ ديتے ہيں اور جو اللہ اور رسول اور ان اللہ کي راہ ميں حالت رکوع ميں زکواة دينے والوں کي پيروي کرتے ہيں و اللہ کي حزب اور اس کي جماعت ہيں اور اللہ کي جماعت والے کامياب اور غلبہ پانے والے ہيں-

تقريباً تمام شيعہ اور سني مفسرين کا اتفاق ہے کہ يہ دو آيتيں اميرالمۆمنين علي ابن ابي طالب عليہ السلام کي شان ميں اس وقت نازل ہوئيں جب علي عليہ السلام نے حالت رکوع ميں اپني انگشتري اتار کر مدد مانگنے والے سائل کو اشارہ کيا اور وہ قريب آيا تو انگشتري اس کو عطا فرمائي پس يہ دو آيتيں نازل ہوئيں-

اس آيت کي شان نزول پر دلالت کرنے والي روايات کي تعداد اس سے کہيں زيادہ ہے کہ انہيں اس مختصر سي يادداشت ميں پيش کيا جاسکے چنانچہ اس يادداشت کے مآخذ ميں بعض منابع کي طرف اشارہ کيا گيا ہے- (3)

علامہ عبدالحسين اميني نے الغدير ميں، سني منابع سے نقل کيا ہے کہ يہ آيات علي عليہ السلام کي شان ميں نازل ہوئي ہيں- حتي کہ حسان بن ثابت نے غدير خم کے دن علي عليہ السلام کي ولايت و خلافت کے اعلان اور آپ (ع) سے اصحاب کي بيعت کے بعد شعر کي زبان ميں کہا ہے:

فأنت الذي أعطيت إذ أنت راكع

فدتك نفوس القوم يا خير راكع (4)

-------

مآخذ

2- سورہ مائدہ آيات 55 و 56-

3- تفسير طبري:6/86؛ ابو بكر جصاص: أحكام القرآن ج2 ص42؛ ابوالحسن واحدي نيشابوري اسباب النزول ص148؛ الزمخشري ـ تفسير  الكشاف ج1 ص422-

4- شيخ عبدالقادر بن محمد سعيد كردستانى "تقريب المرام فى شرح تهذيب الكلام " ج2 ص329- مطبوعہ مصر - عبدالحسين اميني - الغدير ج2 ص59- ج3 ص162-