• صارفین کی تعداد :
  • 2694
  • 5/10/2016
  • تاريخ :

شجاعت و بہادری

علی ابن طالب


 امیر المومنین علی  علیہ السلام کہ جو خود 'اشجع الناس 'تھے وہ آنحضرت ۖ کی شجاعت کے بارے میں یوں فرماتے ہیں :
''کُنَّا اِذَاحْمَرَّ الْبُأْسُ اتَّقَينَا بِرَسُولِ اللّٰه صلّیٰ اللّٰه عَلَيه وآله وسلّم فَلَمْ يکُنْ اَحَد مِنَّا اَقْرَبَ اِلَی العَدُوِّ مِنْه''٣٣
''ہمیشہ ایسا ہو تا ہے کہ جب جنگ میں شدت پیدا ہو جاتی او ر دو گروہ بر سر پیکار ہو جا تے تو ہم آنحضرت ۖ کی پناہ میں آ جاتے اور آپ کو اپنی سپر قرار دیتے کیونکہ آپ ۖ کے علاوہ کو ئی بھی دشمن کے قریب نہ ہو تا''
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت پر امیر المومنین ـ کے تاثرات :
رسول خدا ۖ کو غسل و کفن دیتے وقت فرمایا :
''بَاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّی يا رَسُولَ اللّٰه ! لَقَدْ اِنْقَطَعَ بِمَوْتِکَ مالم ينْقَطَعَ بِمَوْتِ غَيرِکَ مِنَ النُّبُوَّةِ وَاْلَانْبَائِ وَاَخْبَارِ السَّمَائِ خعَّصتَ حَتَّی صِرْتَ مُسَلِّياً عَمَّنْ سِوَاکَ،وَعَمَّمْتَ حَتَّی صَارَ النّاسُ فهلَ سَوَائً ،ولَوْلَا اَنَّکَ اَمَرْتَ بالصَّبْرِ وَنَهيتَ عَنِ الجَزَعِ ،لَاَ نْفَدْ نَا عَلَيلَ مائَ النتُّوُونِ ولَکَانَ الدَّائُ مُمَا طِلاً، وَالْکَمَدُمُحَالِفا ،وَقَلَّا لکَ ولٰکِنَّه مالا يمْلَکُ رَدُّه ،ولا يسْتَطَاعُ دَفْعُه ! بِاَبی انت اُمِّی! اذکُرْنَا عِنْدَ رَبِّکَ،وَاجْعَلْنَا مِنْ بالِکَ ۔ ''٣٤
''یا رسول اللہ ! میرے ما ں باپ آپ پر قربان ہوں ،آپ کے رحلت فرما جانے سے نبوت ،الٰہی احکام اور آسمانی خبروں کا سلسلہ ختم ہو گیا جو کسی اور نبی کے انتقال سے قطع نہیں ہو اتھا ،آپ کا غم اہل بیت کے ساتھ یوں خاص ہوا کہ ان کے لیے ہر غم میں باعث تسلی بن گیا اور ساری امت کے لیے عام ہواکہ سب برابر کے شریک ہو گئے ،اگر آپ نے صبرکا حکم نہ دیا ہو تا اور نالہ و فریاد سے منع نہ کیا ہو تا تو ہم آپ کے غم میں آنسوئوں کا ذخیرہ ختم کر دیتے اور یہ درد کسی درمان کو قبول نہ کر تا اور یہ رنج و الم ہمیشہ ساتھ رہتا پھر بھی یہ گریہ و بکا اور حزن و اندوہ آپ کی مصیبت کے مقابلے میں کم ہو تا لیکن موت ایسی چیزہے جس کا پلٹانا کسی کے بس میں نہیں اور جس کا ٹال دنیا کسی کے اختیار میں نہیں ۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان مالک کی بارگاہ میں ہمار ابھی ذکر کیجیے گا اور اپنے دِل میں ہمارا بھی خیال رکھیے گا ۔'' ( ختم شد )

 


حوالہ جات
١۔ القرآن :سورہ الاحزاب ،آیت ٢١
٢۔ نہج البلاغہ (ترجمہ مفتی جعفر حسین )خطبہ نمبر ١٥٨،ص٤٣٠،امامیہ پبلیکیشز١٩٩٩
نہج البلاغہ دکتر صبحی الصالح ،خطبہ ١٦٠،ص٢٢٦مرکز العبوث اسلامیہ ،ایران ١٣٩٥ء
٣۔ نہج البلاغہ (ترجمہ مفتی جعفر حسین )خطبہ نمبر ١٥٨،ص٤٣٢
٤۔ القرآن ، آلعمران ،آیت ٨١
٥۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ١،ص٩٠(بحار الا نوار ،١١،١٢)(بلاغ المبین ،ص٨٥)
٦۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ١،ص٩٠
٧۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ٢ ،ص٩٩
٨۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ٩٣ ،ص٢٩٧
٩۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ١٥٦ ،ص٤٢٧،خطبہ نمبر ١٨٩،ص٥٢٣
١٠۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ٢٦ ،ص١٦٤۔١٦٥
١١۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ١١٤ ،ص٣٤٣
١٢۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر١٩٤ ،ص٥٦٣۔٥٦٢
١٣۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ١٤٥ ،ص٣٩٩
١٤۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر١٩٦ ،ص٥٧٠
١٥۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر١١٤ ،ص٣٤٣
١٦۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر١٨٣ ،ص٥٠١
١٧۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر١٥٩ ،ص٤٣٥۔٤٣٤
١٨۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر١١٠٦ ،ص٣١٩
١٩۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر٩٢ ،ص٢٩٦
٢٠۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر١٤٥ ،ص٣٩٩
٢١۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر٩٢ ،ص٢٩٦
٢٢۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر٩٤ ،ص٢٩٨
٢٣۔ القرآن القلم ،آیت ٤
٢٤۔ مجلسی ،محمد باقر،بحارالانوار ،ج ١٦ ،ص٢٨٧،ح١٤٢،موسئسہ الوفاء بیروت ،١٩٨٣ء
٢٥۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر١٠٧ ،ص٣٢٩۔٣٢٨
٢٦۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر١٥٨ ،ص٤٣٣۔٤٣٢
٢٧۔ القرآن ، آلعمران ،آیت ١٥٩
٢٨۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر١٠٣ ،ص٣١٢
٢٩۔ القرآن ،التوبہ ،آیت ١٢٨
٣٠۔ القرآن ،الکہف ،آیت ٦
٣١۔ نہج البلاغہ (ترجمہ مفتی جعفر حسین )،خطبہ نمبر٩٣ ،ص٢٩٧
٣٢۔ نہج البلاغہ (ترجمہ مفتی جعفر حسین )،خطبہ نمبر١٠٦ ،ص٣١٩
٣٣۔ نہج البلاغہ فصل فذکر فیہ شیئا ً من اختیار غریب کلامہ المتحاج الی التفسیر، حدیث ٩
٣٤۔ نہج البلاغہ (ترجمہ مفتی جعفر حسین )،خطبہ نمبر ٢٣٢،ص٦٤١۔٦٤٠


 

 

بشکریہ مجلہ نورمعرفت


متعلقہ تحریریں:

مولا علي  عليہ السلام کي شان ميں

اونٹوں کي تقسيم اور حضرت علي عليہ السلام