• صارفین کی تعداد :
  • 4490
  • 11/28/2013
  • تاريخ :

شيخ فضل اللہ نوري کي  زندگي پر ايک مختصر نظر

شیخ فضل اللہ نوری کی  زندگی پر ایک مختصر نظر

شيخ فضل  اللہ ايراني   تاريخ کے ايک عظيم مذھبي رہنما تھے جو ايران کے صوبہ مازندران کے ضلع نور  ميں سن 1259 ہجري ميں پيدا ہوۓ - ان کے والد، ملا عباس کحوري، اپنے دور کے مشہور علماء ميں سے تھے- بچپن کا زمانہ گزرنے کے بعد شيخ نے ديني تعليم کي طرف متوجہ ہوئے- اپني ابتدائي تعليم ضلع نور اور تہران ميں حاصل کرکے ديني علوم کي تکميل کےليے نجف اشرف  چلے گئے اور آٹھ سال تک حوزہ نجف کے بڑے علماء  مثلا  ميرزا حبيب اللہ رشتي اور  شيخ راضي سے انہوں نے  فيض حاصل کيا- 1292ھ ميں سامرا کا رخ کيا اور ميرزا شيرازي( انگريزي سامراج کے خلاف مشہور مبارز) کے اہم شاگردوں کے زمرے ميں آئے- ان علماء کي تعليم اور اپني محنت کے بل بوتے پر اپنے عہد کے مشہور مجتہدوں اور فقہا ميں  شمار ہوۓ -  1300ھ کو تبليغ دين کے سلسلے ميں ايران واپس آئے اور ميرزا شيرازي کے کہنے پر 1303ھ کو تہران ميں رہنے لگے- اسي دوران   آمر اور سامراجي حکومت کے خلاف انہوں نے پہلا  قدم اٹھايا      اور اس کے بعد   تنباکو کي تحريک  زور پکڑنے لگي-

شيخ فضل اللہ ان  ابتدائي  علماء ميں سے تھے جو مشروطيت سے متعلق انگريزي سامراج کي سازشوں سے واقف ہوۓ   اور پھر انہوں نے  عوام اور دانشور طبقے کو ان حقائق سے باخبر کرنے کي کوشش کي- ان  اقدامات کي وجہ سے انگريزي سامراج نے ان کو اپنے راستے سے ہٹانے  کي تدبيريں سوچيں - چنانچہ ان کو مشروطيت کے مخالف دکھانے کي کوشش کي-

 

مشروطيت کي مخالفت :

اگرچہ آغاز ميں شيخ فضل اللہ نوري مشروطيت کے سرگرم اراکين ميں سے تھے مگر جب انہوں نے ديکھا  کہ  پارلمينٹ کے قوانين  اسلامي اصولوں کے  برعکس مغربي اصولوں کے مطابق ہے تو وہ  مشروطيت کي مخالفت کرنے لگے اور ايسي پارليمينٹ کے قيام کے ليے قدم اٹھايا جو اسلامي اصولوں کي بنياد پر ہو-

انہوں نے کئي بار کہا تھا: "قسم سے ميں مشروطيت کے مخالف نہيں ہوں، ان بےدين لوگوں کے خلاف ہوں جو اسلام کے خلاف کوشش کر رہے ہيں اور انبياء اور اوليا کي شان  ميں  گستاخي اور    ان کي توہين کرتے ہيں-" 

 

آثار:

شيخ فضل اللہ نے ديني تبليغ و تعليم اور سياسي معاشرتي سرگرميوں کے علاوہ کئي علمي کتابيں بھي لکھيں اور بعض کتابوں کي تشريح اور توضيح بھي لکھي  - ان کے بعض آثار مندرجہ ذيل ہيں:

1- بياض(دعا کي کتاب)

2- رسالہ فقہي في قاعدہ ضمان اليد

3- صحيفہ قائميہ (صحيفہ مہدويہ)

4- تحريم مشروطيت

 

علمي مقام:

دوست اور دشمن، سب شيخ فضل اللہ کے علمي مقام کا اظہار کرتے تھے- وہ ديني تعليمات کے علاوہ ديگر علوم سے بھي واقف تھے - ايک شخص نے جس کي ملاقات شيخ سے ہوئي تھي لکھاہے"شيخ کے علمي مقام کا  دوست اور دشمن سبھي اقرار کرتے تھے مگر يہ سمجھا جاتا  تھا کہ اس کي معلومات فقہ اور اصول کي  حدود سے باہر نہيں  مگر  ان سے ميري چند ذاتي ملاقاتوں کے بعد مجھے يہ بات  معلوم ہوئي  کہ آپ نہ صرف فقہ کے ميدان ميں بلکہ باقي علوم  سے  بھي کافي واقف ہيں[1]-

 

سياسي سرگرمياں:

نھضت تنباکو ميں وہ سب سے پہلے روحاني تھے جس نے  ميرزاي آشتياني کي حمايت ميں قدم اٹھايا اور ميرزاي شيرازي کے نمائندہ کي حيثيت سے لوگوں کي ہدايت کرنے ميں کوشاں    رہے-

عدالتخانہ کي قيام کےليے ان کا کردار بہت اہم تھا- عبدالعظيم ميں تہران کے  روحانيوں کا تحصن جن ميں شيخ بھي شامل تھے بادشاہ کو عدالتخانہ کے  قيام پر مجبور کرديا- جب اس اسلامي تحريک ميں انحراف  سامنے آيا   اور انگريزي سامراج کي کارروائيوں سے تحريک کا نام عدالتخانہ سے مشروطہ  ميں  بدل گيا تو شيخ کھلم کھلا اس کے خلاف ہونے لگے-

 

شہادت:

1328 ہجري ميں مشروطہ خواہاں کي عدالت ميں مشروطہ مشروعہ کے  جرم ميں شيخ کو پھانسي کي سزا ملي- ان کي شہادت کے بعد انگريزي سامراج کا اصلي چہرہ لوگوں کو معلوم ہوا اور بہت جلد دوسرے علما ء بھي پارلمينٹ سے نکالے گئے اور دين اور سياست الگ ہونے کي راہ ہموار ہوگئي -

 

حوالہ جات:

[1]. مكتوبات ، اعلاميه ها ، ... و چند گزارش پيرامون نقش شيخ فضل الله نورى ، محمد تركمان ، ج 2 ، ص 326

 

ترجمہ: منیرہ نژادشیخ


متعلقہ تحریریں:

سيد رضي  اور بحر بے كراں كا ايك قطرہ

شيخ مفيد کون ہيں ؟