• صارفین کی تعداد :
  • 5573
  • 2/19/2013
  • تاريخ :

ايک روز رنگيلا گيدڑ، انگور باغ کے کنويں ميں جاگرا اور قصہ اپنے اختتام کو پہنچا

گیدڑ‎

اچانک گيدڑ سوراخ سے پھسل کر اس مٹکے ميں جا گرا جس ميں سرخ رنگ بھرا تھا

گيدڑ اس بے دمي اور رنگوں کے ساتھ کہ ميں مور کي طرح ہوگيا ہے

گيدوس

گيدڑ جمع ہوئے- انھوں نے رنگيلے گيدڑ کو مبارک دي

گيد‎‎‎ڑ بولے رنگ ريز تو غافل نہ بيٹھا ہوگا کہ گيدڑ وہاں خود کو رنگ کرتا پھرے-"

گيدڑ بچہ بولا:" نہ، آخر يہ بات سوچنے کي ہے اور ميرے ليے حيرت کا باعث ہے کہ اگر يع واقعي طے تھا کہ کوئي نجات دہندہ کسي ايک حيوان کو نجات عطا کرے تو کيا حيوانوں کا قحط تھا؟ کيا يہ وہي بدفطرت گيدڑ نہيں کہ لوگوں کے انگوروں کو مسلتا اور خراب کرتا تھا؟"

گيدڑ بولے:" يہ ايک بھيد ہے- اور کوئي کسي کو نہيں پہچانتا- ممکن ہے اس نے کوئي ايسا اچھا کام کيا ہو جس کے سبب يہ فيض اور نجات کا مستحق قرار پايا ہو-"

گيدڑ بولا:" تسليم کر ليتے ہيں کہ ايسا ہي ہوگا ليکن وہ شخص جس کي مراديں بر آتي ہوں يہ آرزو کيوں نہيں کرتا کہ پرندے خود ہي اس کي طرف کھينچتے چلے آئيں- وہ تم سے پرندوں کي بھيک کيوں مانگتا ہے؟ اگر وہ سچا ہے تو ٹھيک ہے خود پرندوں کو بلائے اور کھائے-"

گيدڑ بولے:" ارے مياں! خاموش رہو، اسي ميں ہماري عافيت ہے- اگر اس نے جھوٹ بولا ہے تو خود اپني جان کو مصيبت ميں ڈالے گا-"

رنگيلے گيدڑ نے اسي نہج پر دو ہفتے تک مزے اور عيش کي زندگي گزاري- گيدڑ اس کے ليے کچھ پرندے بھي پھانس لائے- انگور کے باغ کے مالک کو بھي کوئي شکايت پيدا نہ ہوئي- وہ کہتا تھا:" جب سے يہ رنگيلا گيدڑ ظاہر ہوا ہے ہم دوسرے گيدڑوں کے شر و فساد سے محفوظ ہوگئے ہيں-"

ليکن ايک روز رنگيلا گيدڑ، انگور باغ کے کنويں ميں جاگرا اور قصہ اپنے اختتام کو پہنچا-

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان