• صارفین کی تعداد :
  • 3455
  • 9/23/2012
  • تاريخ :

 تربيت ميں  " نمونہ سازي "   کي اہميت

تربیت میں   نمونہ سازی    کی اہمیت

ماحول اور " مقدمہ سازي"

اچھي تربيت اچھے ماحول سے ممکن ہے

 کہا جا سکتا ہے کہ ہر ماحول کو بنا نے والے اس سماج اور ماحول برگزيدہ اور سر بر آور دہ افراد ہي ہوتے ہيں- لہٰذ ايک اچھے تر بيتي ماحول کي ايجاد کا ايک طريقہ اس ماحول ميں اچھے نمونوں کو وجود ميں لانا ہے اور برے نمونوں دور کر نا ہے- سماج ميں پسنديدہ اور محبوب نمونہ خود بخود اس ماحول ميں رہنے والوں کو ان کي طرف کھينچ لا تاہے اور ان کے مکارم اخلاق کو دوسرے لوگ نمونہ بناليتے ہيں-

آلبرٹ بنڈورا (1978) کہ جو اجتماعي تعلّم کے نظريہ کا واضع ہے- تعلّم (سيکھنے) کا سب سے اہم طريقہ مشاہداتي تعلّم کو جانتا ہے کہ وہي تقليد يا نمونہ کا اختيار کرنا ہے انسان ايک نمونہ يا سر مشق کا انتخاب کرکے اس کے عمل کي تقليد کرنے لگتا ہے- بنڈ ور ا اس طرح کے تعلّم کو چار مر حلہ ميں تو ضيح دتيا ہے: مر حلہ توجہ، حا فظہ کے حوالے کرنا، دوبارہ تخليق اور سبب ومحرّک- ممتا ز صفات، عطو فت ومہر باني کا بار، پيچيد گي، برجستگي اور استعمالي اہميت نمونہ ميں اور حسّي ظرفيت، ابھارنے کي سطح، درک کرنے کي آماد گي اور گزشتہ تقويت مشا ہدہ کر نے والے کے اندر نمونہ شخص کے عمل سے منطبق نتيجہء عمل کي مدد کرتي ہے-

زندہ نمونوں کے علا وہ جو کہ مساعد اورسازگار تر بتيي ماحول ايجاد کر تے ہيں مر بي حضرات ماضي کے اخلاقي اور انساني نمونوں کي شناخت کر ا کے انھيں حيات نو عطا کر سکتے ہيں اور بنڈورا کے نظريہ ميں مذ کو رہ خصو صيات پر نظر کر تے ہو ئے بار عاطفي، ممتاز حالت، بر جستگي وغيرہ کے اعتبار سے ان کے متعلق تا کيد اور سر مايہ گذاري کرسکتے ہيں نمونوں کے دقيق موئثر اور محبوب چہرہ کي ترسيم تربيت پانے والوں کے لئے ان کے ذہن وروح ميں حسب ضرورت نمونوں کے فقدان کے خلا کو پر کرسکتي ہے اور وہ تدريجاً ان کے مثل بن سکتے  ہيں -

ايک ماحول، کچھ خاص افراد مختلف چيزوں اور مختلف نظاموں سے مل کر بنتا ہے ليکن جو چيز اس سلسلے ميں قابل اہميت ہے وہ اس ماحول کو تشکيل دينے والے عناصر کي درمياني ”‌کيفيت“ سے عبارت ہے کہ جو اس ماحول کے بنيادي عوامل ميں شمار کي جاتي ہے- واضح سي بات ہے کہ جو شخص يہ چاہتا ہے کہ وہ ايک معاشرے کي اصلاح کرے اور اسے انسانوں کے کمال کے لئے خداوند عالم کي جانب سے قرار دي جانے والي ”‌شريعت اور شاہراہ سعادت“ کي جانب رہنمائي کرے اور لوگوں کو سعادت سے ہمکنار کرے تو اسے اس بات کے لئے کوشش کرني چاہيے کہ اس معاشرے کے افراد کے کمال کي جانب گامزن ہونے اور ان کے رشد و تربيت کے لئے ايک مناسب اجتماعي ماحول تشکيل ديا جائے-

اجتماعي ماحول، معاشرے کے افراد ميں عزت، عظمت اور سربلندي کا احساس اجاگر کرے!

ايک اور مسئلہ جو اس بارے ميں بہت زيادہ اہميت کا حامل ہے اور جس کا بہت خيال رکھنا چاہيے وہ مسلمانوں کے رشد کے لئے ايک اجتماعي ماحول کي اس طرح تعمير ہے کہ جس ميں اس معاشرے کے تمام افراد اپني شخصيت کي عظمت و بزرگي اور سرافرازي کا احساس کريں - اس لئے کہ اپني پستي اور حقارت کا احساس انسان کي ذلت و پستي اور شکست کے عوامل ميں سے ايک اہم ترين عامل ہے-

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان