• صارفین کی تعداد :
  • 4391
  • 7/17/2012
  • تاريخ :

امام حسن مجتبي عليہ السلام پر طعن کرنے والے اشخاص سے وجہ پوچهی گئی ہے!

امام حسن مجتبی علیہ السلام

* ايميل کے ذریعہ امام حسن مجتبي عليہ السلام پر طعن کرنے والے شخص يا اشخاص سے پوچھا گیا کہ کيا وہ اپنے آپ کو باور کراسکتا/سکتے ہيں کہ امام حسن عليہ السلام اتني بڑي شان و منزلت کے باوجود اپنے والد کے لئے شرم و حيا اور شرمندگي اور خجلت کے اسباب فراہم کرسکتے تھے؟! کيا امام حسن اور امام حسين اور ان کے والد سے منسوب کسي مبينہ پير، قلندر، مولوي اور مفتي سے وہ ايسي توقع کرسکتے ہيں کہ وہ امام اور اسلام اور خدا کي اس طرح نافرماني کرسکتے ہيں اور اس طرح اپنے امام اور اپنے باپ کي نافرماني کرسکتے ہيں؟؟! کيا اپنے ان ہي عام رشتہ داروں يا بيٹوں اور بھائيوں سے توقع رکھ سکتے ہيں کہ وہ علاقے کي قوموں اور قبيلوں ميں آپ کے لئے دشمنياں ابھاريں کہ اگر ايسا کريں تو آپ ان پر دين سے دوري ہي کا نہيں بلکہ عقل سے محرومي تک کا الزام لگائيں گے؟!

الف: ابن عساکر کي روايت ميں يہ ديني سقم اور نفسياتي مشکل بخوبي واضح ہے:

ابن عساکر سويد بن غفله سے نقل کرتے ہيں:

امام حسن (ع) کي ايک زوجہ قبيلہ خثعم سے تھيں جنہوں نے اميرالمۆمنين عليہ السلام کي شہادت کے بعد امام حسن (ع) کے ہاتھ پر بيعت کي اور آپ (ع) کو خلافت سنبھالنے پر مبارکباد دي چنانچہ امام (ع) نے ان سے فرمايا: تم نے اميرالمۆمنين (ع) کي شہادت پر اپني خوشي اور شماتت کا اظہار کرديا ""چنانچہ ميں نے تمہيں تين طلاقيں دے ديں!!!!!؟""

اس خاتون نے کہا: خدا کي قسم ميري بات کا مطلب يہ نہيں تھا- بہر حال يہ خاتون عدت کے ايام کے خاتمے پر آپ (ع) کے گھر سے خارج ہوگئيں!!!؟؟

امام (ع) نے رقم مہر کے ساتھ بيس ہزار درہم ملا کر ان کے لئے روانہ کرديئے تو خاتون نے کہا کہ يہ بہت ناچيز متاع ہے جو جدا ہونے والے دوست سے مجھے مل رہي ہے-

خاتون کي بات امام (ع) تک پہنچتي ہے تو آپ بہت روتے ہيں اور فرماتے ہيں: اگر ميں نے اپنے والد اور اپنے نانا سے نہ سنا ہوتا کہ "جب کوئي اپني بيوي کو ايک ساتھ تين ‍ طلاقيں ديدے جب تک اس عورت نے نيا شوہر اختيار نہ کيا ہو پہلے شوہر پر حلال نہيں ہوسکے گي، تو ميں رجوع کرتا-

اس من گھڑت افسانے کي جعلي پن کا پہلا ثبوت يہ ہے کہ:

1- امام حسن عليہ السلام کسي بھي تمہيد کے بغير اور اس خاتون کے مقصد کو توجہ ديئے بغير صرف خلافت کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد کہنے کي پاداش ميں اتنا سخت غصے ہوجاتے ہيں اور آپے سے باہر ہوجاتے ہيں کہ اپني عزيز زوجہ کو طلاق ديديتے ہيں جن کے درميان محبت کا ناطہ ابن عساکر کي روايت سے ظاہر ہے- ايک عقلمند انسان سے ـ معصوم نہ بھي ہو ـ ايسي حرکت کي توقع نہيں رکھي جاسکتي چہ جائيکہ امام حسن عليہ السلام سے ايسي حرکت سرزد ہوجائے-

2- فقہ اہل بيت (ع) کے مطابق طلاق دو عادل گواہوں کے سامنے ہوني چاہئے جبکہ ابن عساکر کي روايت کے مطابق اس شرط کو ملحوظ نہيں رکھا گيا ہے! فقہ اہل بيت بھي امام علي، امام حسن، امام حسين اور دوسرے اماموں سے آئي ہے اب سوال يہ ہے کہ يہ کيونکر ممکن ہے کہ امام معصوم اپنے ہي احکام اور اپني ہي فقہ کي خلاف ورزي کرے؟

3- معلوم نہيں کہ يہ طلاق ہوئي بھي ہے يا نہيں؟ امام حسن عليہ السلام کي خثعمي زوجہ تھيں بھي يا نہيں تھيں؟ بہرحال اگر امام حسن عليہ السلام نے اپني زوجہ کو اپنے والد اور امام کي شہادت پر خوش ہونے کي پاداش ميں طلاق دي تھي تو حق مہر تو دينا چاہئے تھا ليکن يہ بيس ہزار درہم کا اضافہ کس لئے تھا-

اور ہاں! اس روايت ميں ابن عساکر کي اموي پرستي کا عنصر بھي تھوڑا تھوڑا عياں ہوا ہے اور وہ يوں کہ اس نے امام حسن عليہ السلام کو معاذاللہ جلدباز انسان کے طور پر متعارف کرايا ہے جو بات بے بات پر آپے سے باہر ہوجاتے ہيں؛ پھر زوجہ کي زبان سے امام حسن (ع) کو ابن عساکر کي جانب سے کہا گيا ہے کہ "خدا کي قسم ميرا مطلب يہ نہيں تھا: پھر تين طلاقوں کا الو سيدھا کرنے کے لئے انہيں امام حسن اور اہل بيت (ع) سے بھي منسوب کيا جاتا ہے؛ اور پھر امام حسن (ع) پر عدم ثابت قدمي کا الزام دھرتے ہوئے انہيں سابقہ زوجہ کو 20 ہزار درہم بھجواتے ہوئے دکھاتا ہے اور سابقہ زوجہ کي طرف سے پھر بھي امام حسن کو محبت بھرا پيغام بھجواتا ہے جس پر امام حسن (ع) نادم و پشيمان ہوتے ہيں اور رونے لگتے ہيں اور "تين طلاقوں کے ‍ قانون" کے استحکام پر مہر تصديق ثبت کرتے ہوئے اپني پياري زوجہ کو اس قانون پر قربان کرتے ہوئے دکھاتا ہے؟!!

4- تين طلاقوں والا قانون جس کے تحت ايک ہي مجلس ميں بيوي کو تين طلاقيں دي جاسکتي ہيں، مذہب اہل بيت (ع) سے دور دور کا تعلق بھي نہيں رکھتا اور يہ طلاق رسول اللہ (ص) کے زمانے ميں نہيں تھي اور اگر کوئي ايک ہي نشست ميں تين طلاقيں ديتا تو وہ ايک طلاق سمجھي جاتي تھي اور ابوبکر کے زمانے يہي درست شرعي قانون نافذ رہا جو اہل بيت (ع) کے مذہب ميں آج تک نافذ ہے اور دوسرے خليفہ کے دور کے ابتدائي دو برسوں تک بھي نافذ رہا جس کے بعد دوسرے خليفہ نے شرعي قوانين ميں تبديلي ضمن ميں اس قانون کو بھي تبديل کيا اور تين طلاقيں ايک ہي مجلس ميں دي جاني لگيں گو کہ مصر ميں يہ ‍ قانون منسوخ ہوگيا ہے اور شيعہ قانون طلاق رائج ہے جو وہي بنيادي اسلامي قانون ہے-35 چنانچہ ائمہ اہل بيت (ع) سے اس نئے قانون کي نسبت دينا مضحکہ خيزي کي انتہا ہے-

تحرير:  ف-ح-مہدوي

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

امام حسن عليہ السلام اور افسانۂ طلاق‏