• صارفین کی تعداد :
  • 2123
  • 8/14/2011
  • تاريخ :

کامياب ازدواجي زندگي کے سنہرے اصول ( حصہ سوّم )

شادی بیاه

ايک دوسرے کو خوش بخت کيجئے

بہت سي بيوياں اپنے شوہروں کو جنتي اور بہت سے مرد اپني بيويوں کو حقيقتاً سعادت مند بناتے ہيں، جبکہ اس کے بر خلاف بھي صورت حال تصور کي جا سکتي ہے- ممکن ہے کہ مرد اچھے ہوں ليکن ان کي بيوياں انہيں اہل جہنم بنا ديں يا بيوياں اچھي اور نيک ہوں مگر ان کے شوہر انہيں راہ راست سے ہٹا ديں- اگر مياں بيوي دونوں ان مسائل کي طرف توجہ رکھيں تو اچھي باتوں کي تاکيد، بہترين انداز ميں ايک دوسرے کي اعانت و مدد سے اور گھر کي فضا ميں ديني اور اخلاقي احکامات و تعليمات کو زباني بيان کرنے سے زيادہ اگر عملي طور پر ايک دوسرے کے سامنے پيش کريں اور ہاتھ ميں ہاتھ ديں تو اس وقت ان کي زندگي کامل اور حقيقتاً خوش بخت ہو گي-

ايک مرد اپني ہمدردانہ نصيحتوں، رہنمائي، وقت پر تذ کر دينے اور اپني بيوي کي زيادہ روي، زيادتي اور اس کے بعض انحرافات کا راستہ روک کر اسے اہل جنت بنا سکتا ہے- البتہ اس کے بر عکس بھي اس کي زيادتي، ہوس، بے جا توقعات اور غلط روشوں کي اصلاح نہ کرتے ہوئے اسے جہنمي بھي بنا سکتا ہے-

حق بات اور صبر کي تلقين

مياں بيوي کے دلوں کے ايک ہونے اور ايک دوسرے کي مدد کرنے کا معنيٰ يہ ہے کہ آپ راہ خدا ميں ايک دوسرے کي مدد کريں- ’’تَواصَوْا بِالحَقِّ وَتَوَاصَوْ بِالصَّبْرِ‘‘ (حق بات اور صبر) کي تلقين کريں-

اگر بيوي ديکھے کہ اس کا شوہر انحراف کا شکار ہو رہا ہے، ايک غير شرعي کام انجام دے رہا ہے يا رزق حرام کي طرف قدم بڑھا رہا ہے اور غير مناسب دوستوں کے ساتھ اٹھنے بيٹھنے لگا ہے تو سب سے پہلے جو اُسے ان تمام خطرات سے محفوظ رکھ سکتا ہے وہ اس کي بيوي ہے- يا اگر مرداپني بيوي ميں اسي قسم کي دوسري برائيوں کا مشاہدہ کرے تو اسے بچانے والوں ميں سب سے پہلے اس کا شوہر ہو گا- البتہ ايک دوسرے کو برائيوں سے بچانا اور خطرات سے محفوظ رکھنا محبت، ميٹھي زبان، عقل و منطق کے اصولوں کے مطابق حکيمانہ اور مدبّرانہ رويے کے ذريعے سے ہو نہ کہ بد اخلاقي اور غصے و غيرہ کے ذريعے سے- يعني دونوں کي ذمے داري ہے کہ وہ ايک دوسرے کي حفاظت کريں تا کہ وہ راہ خدا ميں ثابت قدم رہيں-

ايک دوسرے کا ساتھ ديں اور مدد کريں خصوصاً ديني امور ميں- اگر آپ يہ ديکھيں کہ آپ کا شوہر يا بيوي نماز کي چور ہے ، نماز کو کم اہميت ديتي ہے، سچ بولنے يا نہ بولنے ميں اسے کوئي فرق نہيں پڑتا، شوہر لوگوں کے مال ميں بے توجہي سے کام ليتا ہے اور اپنے کام سے غير سنجيدہ ہے تو يہ آپ کا کام ہے کہ اسے خواب غفلت سے بيدار کريں، اسے بتائيے، سمجھائيے اور اس کي مدد کريں تا کہ وہ اپني اصلاح کرے-

اگر آپ يہ ديکھيں کہ وہ محرم و نا محرم، پاک و نجس اور حلال و حرام کي پرواہ نہيں کرتا اور ان سے بے اعتنائي برتتا ہے تو آپ اسے متوجہ کريں، اسے آگاہي ديں اور اس کي مدد کريں تا کہ وہ بہتر اور اچھا ہو جائے- يا وہ جھوٹ بولنے اور غيبت کرنے والا ہو تو آپ کي ذمہ داري ہے کہ اسے سمجھائيے نہ کہ اس سے لڑيں جھگڑيں، نہ کہ اپنے گھر کي فضا خراب کريں اور نہ اس شخص کي مانند جو الگ بيٹھ کر صرف زباني تنقيد کے نشتر چلاتا ہے-

کتاب کا نام : طلوع عشق

مصنف :  حضرت آيۃ اللہ العظميٰ خامنہ اي

ناشر : نشر ولايت پاکستان

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

شادي کي پيشکش کرتے وقت  اہم نکات کا خيال رکھيں

عشق کيونکر احساس  درد کو کم کر ديتا ہے

زنا ايک حرام فعل  ہے

عقلمند بيوي اپنے شوہر کي معاون و مدد گار ہے

مرد کي خام خيالي اور غلط رويّہ