• صارفین کی تعداد :
  • 3581
  • 1/10/2011
  • تاريخ :

حقیقت عصمت (حصّہ دوّم)

بسم الله الرحمن الرحیم

 اس سلسلہ میں بہت سی کلامی کتابوں میں بغیر سوچے سمجھے لکھ دیا گیا ھے اور اس سلسلہ میں ان لوگوں کے وھم کی وجہ سے قرآن مجید کی وہ آیات ھیں جن کے ظاھر سے اس بات کا اشارہ هوتا ھے کہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گناہ اور معصیت کے مرتکب هوئے۔

لیکن جب ھم بحثِ نبوت اور نبی کی عظمت کا صحیح طریقہ سے جائزہ لینا چاھیں تو ھمیں اس طرح کی آیات کے ظاھر سے پرھیز کرتے هوئے ان کے اصل مقصد تک پهونچنا چاہئے یھاں تک کہ ھم پر حقیقت امر واضح هوجائے اور ھم شکوک وشبھات کا سدّ باب، مستحکم دلیل وبرھان اور فھم صحیح سے کر دیں۔ (لہٰذا مناسب ھے کہ پھلے ھم ان آیات کو بیان کریں جن کے ذریعہ سے مخالفین عصمت نے استدلال کیا ھے اور پھر ان کا مکمل جواب پیش کریں۔)

ارشاد خداوند عالم هوتا ھے:

جیسا کہ بعض لوگوں کا گمان ھے کہ اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گناہ کرنے پر واضح طور پر دلالت کرتی ھے (اگرچہ ان کی بخشش کا وعدہ کیا گیا ھے)

جواب :

  اس سلسلہ میں لفظ ”ذنب“ کے بارے میں بعض مفسرین نے بہت سی وجوھات بیان کی ھیں ان میں سب سے بہتر وجہ وہ ھے جس کو سید مرتضیٰ ۺ نے اختیار کیا ھے ، (سید مرتضیٰ ۺ کا علم وادب اور لغت میں منفرد مقام ھے) چنانچہ موصوف فرماتے ھیں:

”آیہ کریمہ میں لفظ ”ذنبک“ سے مراد امت محمدی کے گناہ ھیں کیونکہ ذنب مصدر ھے اور مصدر کبھی کبھی فاعل کی طرف مضاف هوتا ھے مثلاً  ”اعجبنی شعرک اٴو ادبک اٴو نثرک“ (مجھے تمھارے اشعار یا نثر اور ادب پر تعجب ھے) کیونکہ اس مثال میں مصدر اپنے فاعل کی طرف مضاف هوا ھے، لیکن کبھی کبھی مصدر اپنے مفعول کی طرف بھی مضاف هوتا ھے مثلاً: ”ساء نی سجنک اٴ و مرضک“ ( میں آپ کے قید هونے یا مرض میں مبتلاهونے کی وجہ سے پریشان هوا) کیونکہ اس مثال میں مصدر اپنے مفعول کی طرف مضاف هوا ھے اور جس کو قید هوئی یا بیمارهو وہ مفعول ھے۔

اب آئیۓ قرآن مجید کی اس آیت میں دیکھتے ھیں کہ لفظ ”ذنب“ مفعول کی طرف اضافہ هوا ھے اور ذنب سے مراد امت کے ذریعہ نبی کے اوپر واقع هونے والے سبّ و شتم ا ورمذاق اڑانے کے گناہ ھیں نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تکذیب اور جنگ میں آپ کو اذیت دینے والے کے گناہ مراد ھیں۔

اور اگر قرآن کی آیت کے اس طرح معنی نہ کریں تو آیت کی تفسیر نھیں هوسکتی، آیت کو ملاحظہ فرمائیں ارشاد هوتا ھے:

”اے رسول  یہ حدیبیہ کی صلح نھیں (بلکہ) ھم نے حقیقتاً تم کو کھلم کھلا فتح عطا کی ھے تاکہ خدا تمھاری امت کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردے اور تم پر اپنی نعمتیں تمام کردے۔“

کیونکہ اس آیہٴ کریمہ میں فتح کے بعد غفران وبخشش کا ذکر ھے اور جس روز فتح حاصل هوئی اس روز غفران نھیں تھی کیونکہ یہ آیت صلح حدیبیہ کے بعد نازل هوئی، خداوندعالم نے اس صلح کانام فتح رکھا، اور اسی صلح کے ذریعہ سے فتح مکہ کے اسباب فراھم هوئے، چنانچہ اس طرح سے آیت کے معنی واضح هوجاتے ھیں :

یعنی اے میرے حبیب ھم نے تم کو واضح طور پر فتح وکامیابی عنایت کی اور اس صلح کے بعد سے مکمل کامیابی تک آپ کی وجہ سے آپ کی قوم کے گذشتہ و آئندہ کے گناہ بخش دئے تاکہ خدا اس عظیم فتح کے ذریعہ تم پر اپنی نعمتیں نازل کرے۔

بشکریہ صادقین ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں :

انسانی امتیازات

مقدس میلانات

نیکی اور بدی کی تعریف

اصالتِ روح

اصالتِ روح (حصّہ دوّم)

اصالتِ روح (حصّہ سوّم)

اصالتِ روح (حصّہ چهارم)

اصالتِ روح (حصّہ پنجم)

اصالتِ روح (حصّہ ششم)

اصالتِ روح (حصّہ هفتم)