• صارفین کی تعداد :
  • 3459
  • 10/9/2010
  • تاريخ :

شادي کي نعمت کا شکرانہ

شادی کا جشن

آپ کو چاہيے کہ زندگي کے اس مرحلے کو کہ جب آپ اپني ازدواجي زندگي کا آغاز کرتے ہيں اور اپنے گھرانے کي بنياديں مضبوطي سے رکھتے ہيں، خداوند عالم کي عظيم نعمتوں ميں سے ايک نعمت تصور کريں اور اس کا شکرانہ بجا لائيں۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ خدا کا ديا ہوا ہے ’’مابنامن نعمۃ فمن اللّٰہ‘‘  ليکن اس نعمت کي طرف توجہ اورنعمت دينے والي ذات کي ياد آوري بہت اہميت کي حامل ہے۔ بہت سي ايسي نعمتيں ہيں کہ جن کي طرف انسان توجہ بھي نہيں کرتا۔ بہت سے لوگ ہيں کہ جو شادي کرتے ہيں اور بہت سي خوبيوں کے مالک بن جاتے ہيں، اچھي اور شيريں زندگي انہيں نصيب ہوتي ہے اور وہ بہترين زندگي گزارتے ہيں ليکن اس بات کي طرف بالکل متوجہ نہيں ہوتے کہ يہ کتني عظيم نعمت ہے کہ اُنہيں اپني قسمت اور مستقبل کو اچھا بنانے والا کتنا اہم موقع نصيب ہوا ہے۔

جب انسان يہ نہ سمجھ سکے تو وہ نعمت کا شکريہ بھي ادا نہيں کرسکتا اور نتيجے کے طور پر رحمت الٰہي سے محروم ہو جاتا ہے جو انسان کے شکر کي وجہ سے اس پر نازل ہوتي ہے۔

لہٰذا انسان کو چاہيے کہ اس بات کي طرف توجہ کرے کہ يہ کتني بڑي نعمت ہے اور اس نعمت کا شکرانہ کيسے ادا کيا جا سکتاہے؟ ايک وقت انسان شکريے کو فقط اپني زبان سے ادا کرتا ہے کہ ’’خدايا تيرا شکر ہے‘‘، ليکن يہ شکر اس کے دل کي گہرائيوں تک سرايت نہيں کرتا ہے ايسا شکر صرف لقلقہ زباني ہے اور اس کي کوئي قيمت نہيں۔ ليکن ايک وقت انسان اپنے دل کي گہرائيوں سے خدائے متعال کا شکر گزار ہوتا ہے اور ايسا شکر بہت اہميت کا حامل ہوتا ہے۔ ايسا انسان سمجھتا ہے کہ خداوند متعال نے اسے ايک نعمت دي ہے اور وہ حقيقت ميں اپنے شکر کا اظہار کرتا ہے۔ يہ شکر کا بہترين درجہ ہے۔ جب بھي ہم خداوند عالم کا شکريہ ادا کرتے ہيں تو اس شکرانے کي وجہ سے ہم پر ايک عمل کي انجام دہي لازم ہو جاتي ہے۔ بہت خوب، اب جب کہ خداوند کريم نے آپ کو يہ نعمت دي ہے تو اس کے بدلے ميں آپ کو کيا کام انجام دينا چاہيے؟ اس نعمت کے جواب ميں ہم سے ہماري قدرت سے زيادہ عمل کي توقع نہيں کي گئي ہے نعمت کے مقابلے ميں جو چيز ہم سے مطلوب ہے وہ يہ ہے کہ ہم اس نعمت سے اچھا برتاو کريں اور اس اچھے برتاو کو اسلام ميں معيّن کيا گيا ہے کہ جسے خانداني اخلاق و حکمت سے تعبير کيا جاتا ہے۔ يعني زندگي ميں ہميں کيا عمل اختيار کرنا چاہيے تا کہ ہماري زندگي ايک اچھي زندگي ہو۔

کتاب کا نام : طلوع عشق

مصنف :  حضرت آيۃ اللہ العظميٰ خامنہ اي

ناشر : نشر ولايت پاکستان

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

وقت پر شادي = سنّت نبوي (ص)

شادي، اسلامي اقدار کا جلوہ

زندگي کا ہدف

دوستی کے اہم اصول

دوستی کے  اہم اصول (حصّہ دوّم)

دوستی کے اہم اصول (حصّہ سوّم)

لڑكیوں كی تربیت

اسلام میں شادی بیاہ

والدین اور ٹین ایجرز

والدین اور ٹین ایجرز (حصّہ دوّم)