• صارفین کی تعداد :
  • 4701
  • 1/4/2009
  • تاريخ :

فلسطین کی تاریخ اور اس پر تسلط حاصل کرنے کے طریقہ کار

palestine map

  مسئلہ فلسطین فلسطین کی تاریخ اور اس پر تسلط حاصل کرنے کے طریقہ کار کا اصل ماجرا کیا ہے؟ اس مسئلہ کی حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں اثر و رسوخ رکھنے والے یہودیوں کے ایک گروہ کو یہ سوجھی کہ یہودیوں کےلئے ایک الگ ملک کا وجود ضروری ہے۔ ان کی اس فکر سے برطانیہ نے استفادہ کیا اور اسے اپنے مسائل حل کرنے کا ذریعہ بنایا۔ یہودیوں کی خواہش تھی کہ وہ یوگانڈا کی طرف جائیں اور اسے اپنا وطن قرار دیں اسی طرح کچھ عرصہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کو بھی انہوں نے اپنا خیالی ملک بنائے رکھا۔ اس کےلئے وہ اٹلی گئے اور وہاں کے عہدہ داروں سے بھی مذاکرات کئے کیونکہ طرابلس اس وقت اٹلی کے زیر تسلط تھا لیکن اٹلی نے انہیں مثبت جواب نہ دیا۔ سرانجام وہ برطانیہ سے رشتہ جوڑنے میں کامیاب ہوئے۔ مشرق وسطی میں اس وقت برطانوی حکمرانوں کے کئی استعماری مقاصد تھے انہوں نے دیکھا کہ کیا ہی اچھا ہے کہ یہ لوگ اس خطہ میں آ جائیں لیکن ان کے آنے کا کا طریقہ کار یہ ہو کہ پہلے اقلیت کی حیثیت سے داخل ہوں پھر دھیرے دھیرے انکا دائرہ اختیار وسیع ہو جائے اور وہ اس علاقہ کے حساس مقامات پر قابض ہو جائیں کیونکہ فلسطین دنیا کے حساس نقطہ پر واقع ہے۔

 

    پھر وہ یہاں پر حکومت بنا کر برطانیہ کے اتحادی بن جائیں اور دنیائے اسلام بالخصوص دنیائے عرب کو اس خطہ میں متحد ہونے سے روک رکھیں۔ یہ بات اپنے مقام پر صحیح ہےکہ اگر اس خطہ کے لوگ بیدار ہوتے تو دشمن کے ارادوں کو بھانپ کر آپس میں متحد ہو جاتے لیکن دشمن نے بیرونی امداد، جاسوسی اور دوسرے مختلف ذرائع سے اختلاف ایجاد کیا۔ کسی کو اپنا قرب دیا تو کسی کو نشانہ بنایا،کسی کو پسپا کیا تو کسی پر شدت پسندانہ حملہ۔

 

    برطانیہ کی مدد اور تعاون اور دوسرے ممالک کی بے دریغ حمایت پہلے مرحلہ پر تھی اس کے بعد وہ دھیرے دھیرے برطانیہ سے علیحدہ ہو کر امریکہ سے جا ملے اور امریکہ نے آج تک انہیں اپنے سائے میں لے رکھا ہے۔ یوں وہ ایک ملک کو معرض وجود میں لائے اور فلسطین پر قابض ہوگئے ان کے قبضہ کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے مرحلہ میں انہوں نے جنگ و جدال نہیں کیا بلکہ مکاری کے ذریعہ داخل ہوئے اور فلسطینی کسانوں سے زمین کا بہت بڑا رقبہ اس کی اصلی قیمت سے کئی گنا زیادہ داموں پر خریدا۔ وہ سرسبز وشاداب کھیت جن پر عرب کسان زراعت کرتے تھے ان کے اصلی مالکوں سے جو یورپ اور امریکہ میں مقیم تھے مہنگے داموں خرید لئے گئے۔

 

   مالکان زمین بھی یہی چاہتے تھے کہ ان زمینوں کو فروخت کریں البتہ یہاں دلالوں اور ایجنٹوں کے کردار کی بھی خاص اہمیت ہے جن میں سے ایک ایجنٹ سید ضیا تھا جو سابقہ شاہ ایران رضا شاہ کا 1920 کی فوجی حکومت کا ساتھی تھا وہ ایران سے فلسطین گیا اور وہاں پر یہودیوں اور اسرائیلیوں کےلئے مسلمانوں سے زمینیں خریدنے کا دلال بن گیا۔ یہودیوں نے زمینیں خرید لیں اور جب وہ زمین پر قابض ہوگئے تو پھر مختلف حیلوں، بہانوں سے مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرنے لگے اور کسانوں کو بتدریج ان زمینوں سے نکالنا شروع کر دیا۔ جہاں بھی جاتے قتل وغارت گری کرتے اور اس کے ساتھ ساتھ جھوٹ اور فریب کے ذریعہ دنیا کی ہمدردی بھی حاصل کرتے تھے۔ فلسطین پر صیہونیوں کے غاصبانہ قبضے کے تین بنیادی پہلو ہیں۔

(۱) عربوں سے بدسلوکی سنگدلی اور بے رحمی

 زمین کے اصلی مالکوں سے ناروا سلوک اور شدت پسندانہ رویّہ اختیار کرنا اور کسی قسم کی لچک نہ دکھانا۔

(2) جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعہ دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنا۔

    یہ عجیب چیز تھی کہ صیہونیوں نے میڈیا کے ذریعہ وہ جھوٹ بکے کہ جنکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ہے، انہوں نے جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے کئی دوسرے یہودی سرمایہ داروں کو اپنا گرویدہ کر لیا اور بہت سے یہودی ان کے اس جھوٹے پروپیگنڈے کا شکار ہوئے۔ حتی کہ فرانس کے ایک ماہر سماجیات مصنف ''جان پال سارٹر‘‘ کو بھی جن کا نوجوانی کے ایام میں میں بھی مداح رہ چکا ہوں، انہوں نے فریب دیا۔ میں نے ''جان پال سارٹر‘‘کی کتاب کا تیس سال پہلے مطالعہ کیا جس کا عنوان یہ تھا ''سرزمین کےبغیر افراد، بغیر افراد کی سرزمین‘‘ یعنی یہودی وہ لوگ تھے جن کے پاس کوئی سرزمین نہ تھی اور وہ فلسطین آئے جو ایسی سرزمین تھی جہاں لوگ نہیں تھے۔ لوگ نہ تھے کا کیا مطلب؟ ایک ملت وہاں پر آباد تھی جس کے بے شمار تاریخی ثبوت موجود ہیں۔ ایک غیر ملکی مصنف لکھتا ہے کہ فلسطین کا پورا علاقہ تا حد نگاہ گندم وغیرہ کے کھیتوں پر مشتمل تھا۔ انہوں نے دنیا پر یوں ظاہر کیا کہ فلسطین وہ علاقہ تھا جو غیر آباد اور بے آب وگیاہ تھا اور ہم نے آ کر اسے آباد کیا۔ یہ جھوٹ کا پلندہ تھا جس کے ذریعہ وہ اپنی مظلوم نمائی کرتے رہے، آج بھی وہ یہی کر رہے ہیں۔ امریکی جرائد ''ٹائم،اور نیوز ویک‘‘(Newsweek,time) کا بھی کبھی کبھار مطالعہ کرتا ہوں تو اس میں یہ چیز واضح ہے کہ جب بھی کسی یہودی خاندان کے لئے کوئي سانحہ پیش آتا ہے اور اس میں کسی کی موت واقع ہو جاتی ہے تو اس کی تصاویر، مقتول کا سن وسال اور اس کے بچوں کی مظلومیت کو بے حد بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جبکہ ہزاروں فلسطینی نوجوان، خاندان، بچے اور فلسطینی عورتیں ان کے ظلم کا نشانہ بنتے ہیں اور یہ واقعات کبھی مقبوضہ فلسطین اور کبھی لبنان میں پیش آتے ہیں لیکن ان کی طرف یہ جرائد اشارہ تک نہیں کرتے۔

(3) اپنے حامیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا

   مذاکرات کا ڈھونگ رچانا اپنی''لابی‘‘بنانا۔ کبھی کسی سے بات چیت کر لی تو کبھی کسی شخصیت کےساتھ بیٹھ گئے کبھی سیاستداں تو کبھی کسی روشن فکر مصنف کو پکڑ لیا ان کی ہمدردی بٹورنے کی کوشش کی۔ ان کی پالیسیوں کی یہ تین شکلیں ہیں اور اسی فریب ومکاری کے ذریعہ انہوں نے فلسطین کو ہتھیا لیا ہے۔ تسلط کے وقت بیرونی طاقتوں نے ان کا کھل کر ساتھ دیا جن میں برطانیہ سرفہرست ہے۔ اقوام متحدہ اور اس سے پہلے لیگ آف نیشنس جو جنگ کے بعد صلح کے نام پر معرض وجود میں آئیں ان سب نے سوائے چند مواقع کے ہمیشہ انہی کی حمایت کی ہے۔ ۱۹۴۸ میں اقوام متحدہ نے ایک قرارداد کے ذریعہ فلسطین کو بلاوجہ تقسیم کر دیا اور کہا گیا کہ فلسطینی سرزمین کا ۵۷ فیصد حصہ یہودیوں سے متعلق ہے جبکہ اس سے پہلے فلسطینی سرزمین میں ان کا حصہ ۵ فیصد تھا۔ اس کے بعد یہودیوں نے حکومت بنائی اور پھر مختلف قسم کے واقعات رونما ہوئے جن میں دیہاتوں اور شہروں پر وحشیانہ حملے اور بے گناہ لوگوں پر ظلم وستم کی جانب اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں پر عرب حکومتوں نے بھی غلطیاں کیں،کئی جنگیں ہوئیں، ۱۹۶۷کی جنگ میں اسرائیل نے امریکہ اور کچھ دوسرے ممالک کی مدد سے اردن، مصر اور شام کی کچھ زمینوں پر قبضہ کر لیا اور پھر ۱۹۷۳کی جنگ میں جسے انہوں نے خود ہی شروع کیا تھا پھر بیرونی طاقتوں کی مدد سے کچھ اور زمینوں پر قبضہ کر کے جنگ کے نتائج کو اپنے حق میں کرلیا۔

 

 (نماز جمعہ تہران کے خطبوں سے اقتباس )

 

 مزید اور تازہ ترین صورتحال سے آگاہی کے لیے  مرکز اطلاعات فلسطین کی ویب سائٹ دیکھیں ۔

https://palestine-info-urdu.com/ur