• صارفین کی تعداد :
  • 7456
  • 10/7/2008
  • تاريخ :

پرندے کی فریاد

پرنده

بچوں کے لیے

 

آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ
وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا

 

آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی

اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا

 

لگتی ہے چوٹ دل پر آتا یاد جس دم

شبنم کے آنسوؤں پر کلیوں کا مسکرانا

 

وہ پیاری پیاری صورت وہ کامنی سی مورت

آباد جس کے دم سے تھا میرا آشیانہ

 

آتی نہیں صدائیں اس کی مرے قفس میں

ہوتی مری رہائی اے کاش میرے بس میں

 

کیا بد نصیب ہوں میں گھر کو ترس رہا ہوں

ساتھی تو ہیں وطن میں، مَیں قید میں پڑا ہوں

 

آئی بہار کلیاں پھولوں کی ہنس رہی ہیں

میں اس اندھیرے گھر میں قسمت کو رو رہا ہوں

 

اس قید کا الٰہی  دکھڑا کسے سناؤں

ڈر ہے یہیں قفس میں، مَیں غم سے مر نہ جاؤں

 

جب سے چمن چھٹا ہے یہ حال ہو گیا ہے

دل غم کو کھا رہا ہے ، غم دل کو کھا رہا ہے

 

گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے

دکھتے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے

 

آزاد مجھ کو کر دے،  او قید کرنے والے

میں بے زباں ہوں قیدی ، تُو چھوڑ کر دعا لے

 

شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال

پیشکش: شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

 اٹھاتا ہوں پھر ہاتھ لب پہ دعا ہے

 تاروں بھری رات

 رات

 زميں پہ پھول آسماں پہ تارے

 ہماری زبان – ترانہ 

 خدا کي تعريف