• صارفین کی تعداد :
  • 4288
  • 9/17/2008
  • تاريخ :

مسئلہ امامت فروع دین میں سے ہے نہ کہ اصول دین میں سے

بسم الله الرحمن الرحیم

کیا امت مسلمہ میں اتحاد کی خاطر اس مطلب کو بیان کیا جا سکتا ہے کہ مسئلہ امامت فروع دین میں سے ہے نہ کہ اصول دین میں سے ؟

یہ وہ بحثیں ہیں جو استاد معظم حاج شیخ محمد جواد فاضل لنکرانی کے فقہ اور اصول کے درس خارج کےاختتام پر مطرح ہوئیں تھیں ۔

ہم یہاں پر مختصراًکچھ ایسے مطالب جو امامت کی بحث سے مربوط ہیں ذکر کرتے ہیں ۔

مسئلہ امامت بہت اہم مسائل میں سے ہے اور یہ اعتقاد ات کی بنیاد ہے ۔

ہم طلاب جو احکام شرعیہ کے استنباط اور استخراج کے راستے میں لگے ہوئے ہیں ہمیں اس مسئلہ سے زیادہ آگاہ ہونا چاہیے ۔ ہم جتنا اپنے آپ کو اس بنیادی نکتہ سے نزدیک کریں گے اتنا ہی علمی اعتبار سے ترقی کریں گے ۔آپ جانتے ہیں کہ کچھ ایسی روایات موجود ہیں جن میں ائمہ طاہرین نے فرمایا کہ ہر وہ چیز جو ہم اہلبیت کے علاوہ لی جائے وہ باطل ہے اور صحیح نہیں ہے ۔ لہذاٰہمیں واقعی علم کو انکے در سے لینا چاہیے ۔اور ہم اس مطلب کو کسی تعصّب کی بناء پر عرض نہیں کر رہے ہیں ۔

اور ہمارے اعتقادات کے مطابق وہ لوگ جو علم کے حقیقی منبع سے متصل ہیں وہ ائمہ اطہارعلیہم الصلاة و السلام ہیں ، اگر انسان پوری دنیا میں تلاش کرے کے انکے علاوہ کسی ایسےشخص کو ڈھونڈ نکالے کہ علم واقعی کے سرچشمہ سے متصل ہو تو ان کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو گا۔

ہمارے والد محترم کہا کرتے تھے،اگر یہ جاننا چاہیں کہ حضرت علی ع نے کس کے پاس درس پڑہا ہے ؟

اور امام حسن مجتبی ع،امام حسین ع اور امام محمد باقر ع اور جعفرصادق ع تک کے علم کے پروان چڑہنے کا دورتھا انھوں نے کس کے پاس درس پڑھا ہے ؟آپ کسی آدمی کو تلاش نہیں کر پایئں گے اور کسی بھی تاریخی کتاب کو دکھا نہیں پایئں گے کہ جس میں یہ لکھا ہو ان افراد نے فلاں کے پاس علم حاصل کیا ہے ۔

اور اہل سنت کے علماء کے بارے میں صاف لکھا ہے کی انھوں نے علم صرف و نحو کو کہاں سے حاصل کیاہے قرآن کو کہاں سے سیکھا ہے تفسیر کو کس سے پڑھا ہے یہاں تک کہ انکے اساتید کے نام بھی موجود ہیں لیکن ہمارے ائمہ ع کے بارے میں ایسا کسی بھی صور ت میں نہیں مل سکتا ہے ۔

اس بناء پر جس بنیادی نکتہ کی طرف میں اشارہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ کہ اگر ہم علم حاصل کرنا چاہیں تو انھیں کے در پہ جانا چاہیے۔ اور اگریہ سیکھنا چاہیں کہ کون سے کام اچھے یا برے ہیں یا،سعادت ،، شقاوت ، فضیلت اگر ہم ان سب چیزوں کو سمجھنا چاہیں تو ہیں انھیں کی طر ف رجوع کرنا چاہیے ۔ ہمییں چاہیے کہ اخلاقی مسائل میں جتنا ہو سکے ان سے قریب ہونے کی کوشش کریں ۔ اب آشنائی اس صورت میں کہ ہم انکی احادیث کی طرف رجوع کریں اوران سے درس حاصل کریں اور اسی طرح قلبی اور باطنی طور پر بھی ہمیں ان سے رابطہ رکھنا چاہیے اور ہمیشہ انھیں سے مدد مانگنا چاہیے ۔

اور ان افراد کو چھوڑ دیں کہ جو توسل ،شفاعت ،کی حقئقت سے آگاہ نہیں ہیں اور ہم پر اعتراض کرتے ہیں ۔یہ لوگ کسی چیز کو سمجھتے نہیں ہیں اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہیے اس لئے ان کا اس بات کو قبول نہ کرنا کسی دلیل کی بناء پر نہیں ہے ۔اب یہاں پر ایک مقابلہ کرتے ہیںجو نمازیں ہم قربةًالی اللہ پڑہتے ہیں کس حد تک خدا کے ولی کی اس پر نظر ہے اور پروردگار کی اس پرنظر تو دوسرا مرحلہ ہے جس طرح ائمہ اطہار (ع)نماز پڑھتے تھے ویسی نمازہمارے لئے محال ہے ۔

 

لیکن ضروری ہے کہ یہ جانیں کیا ہمیں کیا کرنا چاہیے کہ ہماری نمازیں بھی ان جیسی ہو سکیں اور یہ فاصلہ کم ہو جائے یہ ساری چیزیں مسئلہ امامت کی معرفت کے سائے میں حاصل ہو سکتی ہیں۔ امامت ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے کہ ہمارے ہاں عقاید میں اس سے زیادہ کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے ۔ہمارا عقیدہ ہے کہ خالص توحید صرف اسی راستے سے سمجھی جا سکتی ہے نبوت اسی رستے سے صحیح ہم تک پہونچتی ہے ۔

ان کے علاوہ ممکن نہیں ہےکہ انسان واقعی معنی میں یکتاپرست اور پیغمبر (ص)کا واقعی اطاعت گزار بن سکے ۔ وہ امامت کی جس کی اتنی اہمیت ہو افسوس کی بات ہے بعض افراد نے اس کو فروع دین میں شمار کیا ہے جسطرح امر بہ معروف و نہی از منکر،خمس وغیرہ دوسرے مسائل ہیں اور وہ اس بات سے

غافل ہیں مسئلہ امامت کی کتنی اہمیت ہے ۔ ہم طلباءحضرات کیلئے یہ چیز اظھرمن الشمس ہے کہ امامت اصول دین میں سے ہے نہ کہ فروع دین میں سے ۔ ہمارے پاس بہت سارے دلائل ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ امامت اصول دین میں سے ہے اور ایک فرعی امر نہین ہے ۔

اصل یہ ہے کہ اس کی شعاعیں تمام فروع دین کو شامل ہو جاتی ہیں ۔جس طرح نماز توحید ،پیامبر پر عقیدہ ،اور معاد کے بغیر صحیح نہیں ہے اسی طرح امامت کے اعتقاد کے بغیر نماز صحیح نہیں ہے ۔

اور اصل کے معنی یہ ہیں کی جس کا سایہ تمام دین پر احاطہ حاصل کر لے اور اس کے بغیر کسی چیز کا اعتبار بھی نہ ہو(امامت بھی بالکل اسی طرح ہے )۔

تو کیا اب شیعہ سنّی وحدت کے مسئلہ کو بہانا بنا کر یہ عنوان پیش کیا جائے کہ امامت فروع دین میں سے ہے یہ کسی بھی صورت میں صحیح نہ ہو گا۔

 

تو ان کے جواب میں کہنا چاہیے کہ مسئلہ وحدت جس کی بنیاد امام راحل حضرت امام خمینی رہ نے رکھی تھی اور اس مسئلہ پر امام سے پہلے مرحوم بروجردی نے بھی کافی تاکید کی تھی اور ان سب سے پہلے ہمارے ائمہ طاہرین نے وحدت کے مسئلہ پر کافی زور دیا اور تقیہ کی بات (جس پر ہم نے بھی مفصل دلیلیں بیان کی ہیں )اس سے مربوط ہے کہ ہماری ذمہ دار ی ہے کی اتحاد کو قائم رکھیں تا کہ کوئی اختلاف وجود میں نہ آئے۔اس بنا ءپر مسئلہ وحدت ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے بارے میں ائمہ( ع )نے بھی دستور دیا ہے ۔اور بزرگان اور مراجع کرام نے بھی اسی بات کو بیان کیا ہے ۔

کہ اس مسئلہ میں کسی طرح کے شک کی گنجائش نہیں ۔

خاص طور رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیةاللہ خامنہ ای (دام ظلہ العالی )نے اس سال کا نام سال اتحاد ملی اور انسجام اسلامی رکھا ہمیں اس کو غنیمت سمجھنا چاہیے ۔

لیکن اگر کوئی اس عنوان سے سوء استفادہ کرے اور شیعوں کے عقیدہ کو ضعیف کرے تو یہ جائزنہ ہو گا۔ ہمارے بزرگان میں سے کسی نے بھی اس بات کی اجازت نہیں دی ہیے ؟ ہمارے اماموں میں سے کسی امام نے اس بات کو پیش کیا؟ اس کے باوجود کہ وہ تقیہ کی بحث کو بھی پیش کرتے تھے اور شیعوں  کے عقیدہ کے تنزل کے دائرہ کو بھی پیش کیا ہے ؟

امام باقر علیہ السلام نے قتادہ جو اہلسنت کے بڑے علماء میں سے تھا کہا :تو کس طرح فتویٰ دیتا ہے؟

اس نے کہا میں قرآن اور سنت سے فتوی دیتا ہوں ۔حضرت نے اس سے کہا کیا تم قرآن

کو سمجھتے ہو؟اور اس کے قسم کھائی کہ واللہ ما ورثک من کتاب اللہ من حرف (تمہارے پاس کتاب خدا کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے ۔یہ ہمارے ائمہ کا بیان ہے بزرگان اہلسنت سے ۔ آیئیں اس بات کو بھی چھوڑ دیتے ہیں اور ہم ان سے کہتے کے ہمارے پاس فقہ ہے تو ان کے پاس بھی فقہ ہے ،ہمارے پاس تفسر ہے تو ان کے پاس بھی تفسیر ہے ،ہمارے پاس استنباط اور استدلال ہے تو انکے پاس بھی استنباط اور استدلال ہے ۔ ہمارے بزرگان میں کوئی بھی اس بات سے راضی نہیں ہے اور وہ اس بات کو قبول نہیں کرتے ہیں ۔

وہ بزرگان جو منادی وحدت ہیں وہ ہرگز یہ بات نہیں کہتے ہیں کہ شیعہ اپنے عقاید میں تنزّلی اختیار کریں وحدت ایک ایسا مسئلہ جو مسلمان اسلام دشمن طاقتوں کے مقابلہ میں اختیار کریںاور آپس میں اختلاف نہ کریں ۔لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وحدت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم مسئلہ امامت جو ایک اہم ترین مسئلہ ہے ہم اس سے دست بردار ہو جائیں ۔اور یہ کہیں کہ یہ ایل فرعی امر ہے بلکہ ہمیں اپنے عقاید پر پابند رہنا چاہیے (ما نودی لشیءمثل مانودی بولایة )

میں یہاں کچھ دلیلوں کی طرف اشارہ کرتا ہوں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ امامت

اصول دین میں سے ہے نہ کہ فروع دین میں سے :

پہلی دلیل :سورہ مائدہ کی کی آیت کہ جس میں خداوند متعال پیامبر (ص)سے فرماتا ہے:

یا ایّھاالرسول بلّغ ما انزل الیک من ربک و ان لم تفعل فما بلغت رسالتہ (ای پیامبر اگر اس بات کو لوگوں تک نہیں پہونچایا تو گویا رسالت کا کوئی کام انجام ہی نہیں دیا۔

(رسالتہ )میں جو ضمیر پائی جاتے ہے وہ خداوند متعال کی پلٹ رہی ہے نہ پیامبر کی طرف ،یعنی اس کے علاوہ رسالت الہی واقع ہی نہیں ہو سکتی ۔اگر امامت نہ ہو تو رسالت ناقص ہے ۔اور اس بات کے یہ معنی ہیں کہ امامت اصول دین میں سے ہے نہ کہ فروع دین میں سے ۔

دوسری آیت: سورہ مائدہ کی یہ آیت ( الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت الکم الاسلام دیناً) کہ جس پر شیعہ سنی کا اتفاق ہے کہ یہ آیت واقعہ غدیر سے مربوط ہے کہ جب پیامبر اکرم حجةالوداع سے واپس آ رہے تھے اور حضرت علی -ع- کی ولایت کا اعلان کیا۔

 

اس آیہ شریفہ میں کچھ اہم موضوعات پائے جاتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اگر امامت نہ ہو تو دین ناقص ہے اور ایسے جسم کی مانند ہو جاتی ہے کہ جس کا سر نہ ہو ۔

اسی مسئلہ کی بناء پر خدا نعمتیں تمام ہوئی ہیں ۔

اور خدا اس دین سے راضی ہے کہ جس میں ولایت پائی جاتی ہو ۔

پس معلوم ہوا کہ امامت اصول دین میں سے ہے اور اس کے بغیر کوئی بھی اسلام نہیں ہے ۔ اور امامت ہی کی وجہ سے نعمتیں تمام ہوئی ہیں ۔روایات میں بھی ایک مشہور روایت پائی جاتی ہے کہ جس وقت علماء کسی سے بحث کرتے تھے تو اس حدیث کو دلیل کے عنوان سے پیش کرتے تھے اور مقابل اسی وجہ سے مغلوب ہو جا تا تھا وہ حدیث یہ ہے( من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتةالجاہلیہ)اگر کوئی شخص اس حال میں

مر جائے کہ وہ اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانتا ہو تووہ جاہلیت کی موت مرے گا۔

جاہلیت کی موت سے مراد یہ ہے یعنی اسلام سے پہلے مرا ہویعنی غیر مسلمان مرا ہو۔

یہ روایت اہلسنت کی اکثر کتابوں میں موجود ہے کہ جن کو مرحوم علامہ امینی نے کتاب الغدیرکی دسویں جلد میں اہل سنت کی بہت ساری کتابوں کا تذکرہ کیاہے جیسے مسند احمد حنبل، السنن الکبری بیہقی،معجم الکبیرطبرانی ۔۔وغیرہ ہیں کی جنہوں نے اس حدیث کو مختلف تعابیر کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ اب یہ امام کہ جس کی معرفت ہر انسان کیلئے ضروری ہے یہ وہی مسئلہ امامت ہے کہ جس کے ہم معتقد ہیں ۔وگرنہ وہ حاکم کہ جس کولوگ انتخاب کریں اور اس کو رئیس قرار دیں کہ نہ جس کی عدالت کا پتہ ہو نہ اس کے تقوے کی کوئی خبر ہو وہ کبھی اسلام کے ساتھ میل نہیں کھا سکتا بلکہ اس ادمی کی معرفت اسلام کے ساتھ میل کھاتی ہے کہ جو حقیقت اسلام سے آشنا ہو علم کامل کا مالک ہو اور معصوم بھی ہو ۔

 

اگر انسان ایسے شخص کو پہچانے بغیر مر جائے وہ واقعاً جاہلیت کی موت مرا ہے اس بناءپر یہ روایت بھی اچھے طریقے سے اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ امامت اصول دین میں سے ہے نہ کی فروع دین میں سے ۔

یہ بات بزرگوں کے کلمات میں بھی واضح طور ہر موجود ہے مثال کے طور پر :مرحوم ملامھدی نراقی کتاب شھاب الثاقب کہ جو کچھ ہی عرصہ پہلے چاپ ہوئی ہے اس میں واضح طور پر بیان کرتے ہیں کہ امامت اصول دین میں سے ہے اور اس بات پر ایک عقلی دلیل ذکر کرتے ہیں ۔انھوں نے فرمایا ہے کہ ہر وہ دلیل جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبوت اصول دین میں سے ہے اور اس پر اعتقاد ایمان کا ایک جزءہے وہی دلیل بالکل اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ امامت اصول دین میں سے ہے ۔

نبی بندوں اور خداکے درمیان ایک واسطہ ہے خدااور اسکے بندوں درمیان ایک حجت ہے احکام کو جس طرح خدانے فرمایاہے بیان کرتا ہے اور امامت بھی نبوت کا ادامہ ہے اور احکام دین کا محافظ بلکہ خود دین ہے اس بناءپر اس کا مرتبہ خود نبوت کا مرتبہ ہونا چاہیے ۔جس طرح انسان بغیر نبوت کے مسلمان نہیں ہو سکتا اور نبوت دین کے محکم اصول میں سے ہے امامت بھی بالکل اسی طرح ہے ۔

لہذ اگر کوئی امامت کی دلیلوں پر ایک اجمالی نظر بھی ڈالے تو وہ کھبی شک نہیں کرے گا کی امامت اصول دین میں سے نہیں ہے۔

 

اور اگر کسی کا عقیدہ اس کے علاوہ ہو تو یہ اعتقاد شیعوں کا اعتقاد نہیں ہو گا۔ یعنی ایک شیعہ کسی بھی صورت میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ امامت فروع دین میں سے ہے۔اس سے ہٹ کہ جب ہم کلامی کتابوں کو دیکھتے ہیں کو جو امامت کی تعریف کرتی ہیں اس یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہلسنت بھی امامت کے اس طرح معنی کرتے ہیں گویا کہ ایک اصل دین ہے مگر امامت کے مصداق کے بارے میں یہ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں ۔

اہلسنت کے بعض علماء جیسے قاضی بیضاوی نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ امامت اصول دین میں سے ہے ۔اب اگر ہم اور یہ واضح دلیلیں موجود ہوں تو کیا ہم امامت کو ایک جزئی امر قرار دے سکتے ہیں ؟

کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امامت فروع دین میں سے ہے ؟

 

امامت ایک ایسا مرکزی نکتہ ہے کہ جس کی وجہ سے تمام عبادتیں قبول ہو سکتی ہیں اس سے بڑھ کے تمام کاموں کی حقیقت چاہے وہ فرعی ہوں یا اصلی ان سب کی روح امامت ہے ۔اور ایک مختصر سے الفاظ میں تمام فروع دین کی بازگشت امامت کی طرف ہے اور کوئی بھی عمل بغیر امامت اور ولایت کے علاوہ قابل قبول نہیں اور وہ کسی کام نہیں ائیں گے ۔ لیکن یہ کبھی کبھی سنا جاتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ امامت فروع دین میں سے ہے نہ کہ اصول دین میں سے وہ لوگ اس بات آشنا نہیں ہیں کہ ہماری دلیلیں کیسی ہیں وہ لوگ دلیلوں سے اگاہ نہیں ہیں ۔یہ وہ لوگ ہیں کہ وہ تمام آیتیں اور روایتیں جو امامت پر دلالت کرتی ہیں ان کا انکار کرتے ہیں ۔

اور وہ یہ کہتے ہیں نماز بغیر ولایت کے بھی قبول ہے اور اسی طرح حج بھی بغیر ولایت کے قبول ہے ۔

ان شاءاللہ خداوند متعال ہم کو شیطان رجیم کے شرّ سے محفوظ رکھے ۔

مجھے یہاں پر ان بحثوں سے جو اخلاقی نکتہ پیش کرنا ہے وہ یہ ہےکہ انسان جڑھ تلاش کرے اگر وہ اپنے نفس کی اصلاح کیلئے کوئی قدم اٹھانا چاہتا ہے تو پہلے کہاں سے شروع کرے ؟

انسان کو چاہیے کہ وہ اصل کی تلاش کرے سیر و سلوک اور تہذیب نفس میں امامت کا

ایک اہم رول ہے اور اس مسئلہ کی طرف توجہ کیے بغیر انسان کسی جگہ تک نہیں پہونچ سکتا ہے ۔

عبارت( اللھم عرفنی حجتک) ہماری دعاوں کا ایک حصہ ہونا چاہیے کہ خداوند متعال انسان کوتوفیق عطا کرے کہ انسان اپنے زمانے کے ا مام کو پہچانے اور ان بزرگان کی طرف توجہ کئے بغیر انسان خدا کو نہیں پہچان سکتا۔ اس بناءپر ہمارا جتنا رابطہ امامت سے محکم ہو گا ہماری نمازوں کو اتنا ہی عروج ملے گا ، اگرہمارا عقیدہ امامت پر محکم ہو گا نوافل کی ادائیگی میں ہماری توفیقا ت میں اضافہ ہوگا ۔ لیکن ہم کیا کریں تا کہ ہم ان انوار مقدسہ کو پہچانیں یہ خود ایک اہم بحث ہے کہ جس کو کسی دوسری  جگہ پیش کیا جائے گا۔  .

۔https://www.j-fazel.org


متعلقہ تحریریں:  

 امامت کی تعریف