• صارفین کی تعداد :
  • 159
  • 2/14/2018 7:30:00 PM
  • تاريخ :

ایران کا خوبصورت شہر ہمدان ایشیا کا دارالخلافہ بن گیا

ہمدان ایران کا ایک خوبصورت اور قدیمی شہر ہے۔ ہمدان صوبہ ہمدان کا مرکز ہے جو شمال سے صوبہ زنجان اور قزوین، جنوب سے صوبہ لرستان، مشرق سے صوبہ مرکزی اور مغرب سے صوبہ کردستان اور کرمان شاہ سے ملا ہوا ہے۔ ایشین ٹورارزم کیپٹل 2018 اس بات کا باعث بنا ہے کہ ہمدان شہر کے مسئولین اس کی خوبصورتی کے بارے میں مزید اقدامات انجام دیں۔ تقریبا ایک ماہ بعد ایرانی سال اپنے اختتام کو پہنچے گا اور نئے سال کے شروع پر ایران میں نوروز کے سفر شروع ہوں گے۔ نوروز کے ایام میں ایرانی عوام نئے سال کی چھٹیاں منانے کیلئے دوسرے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔

 
ایران کا خوبصورت شہر ہمدان ایشیا کا دارالخلافہ بن گیا

آہستہ آہستہ ایرانی سال اپنے اختتام کے نزدیک ہو رہا ہے اور صوبہ ہمدان نئے سال کی چھٹیاں منانے کیلئے آنے والے مہمانوں کی میزبانی کیلئے تیار ہو رہا ہے۔ ہمدان شہر کی انتظامیہ نئے سال کے مسافرین کی بہترین میزبانی کیلئے ہر ممکنہ اقدام انجام دے رہی ہے۔ صوبہ ہمدان ہر سال نوروز کے ایام میں بڑی تعداد میں داخلی اور بیرونی مہمانوں کا استقبال کرتا ہے۔ ہمدان چونکہ ایران کے مرکزی علاقوں سے کم مسافت پر واقع ہے اور اس صوبہ کے تفریحی مقامات کی سیر کیلئے زیادہ لمبا سفر نہیں کرنا پرتا اس لئے یہ شہر ہمیشہ بڑی تعداد میں سیاحوں کا مرکز بنا رہتا ہے۔ دوسری جانب اس سال ہمدان ایشیائی ممالک کے سیاحتی مرکز کے طور پیش کیا گیا ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہمدان ایران کے دارالخلافہ تہران سے دو گھنٹے اور چالیس منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں ہمدان کی آب و ہوا بہت بہتر ہوئی ہے اور اسی وجہ سے اس صوبے میں مسافروں کا رش بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ہمدان شہر کی انتظامیہ کے ایک اعلی عہدہ دار نے بتایا کہ اس شہر کی انتظامیہ انفرا سٹرکچر کو پھپلانے میں مشغول ہے، سیاحتی سرگرمیوں کی افزائش کیلئے تعمیر و ترقی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ ہمدان میونسپیلٹی اور گورنر ہاوس کے باہمی تعاون سے نوروز کے ایام میں بین الاقوامی قرآن کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ اسی طرح ان ایام میں شہر کی خوبصورتی کیلئے خصوصی پروگرام بنایا گیا ہے۔
یاد رہے صوبہ ہمدان ایران کا مشہور اور زرخیز صوبہ ہے جس میں بہت سے سیاحتی مراکز موجود ہیں۔ ان سیاحتی مراکز میں ابو علی سینا کا مزار، صوبہ کے جنگلات، مشہور غار علیصدر وغیرہ کا نام ذکر کیا جا سکتا ہے۔
منبع : خبرگزاری Mehr News