• صارفین کی تعداد :
  • 182
  • 10/25/2017
  • تاريخ :

کربلا میں صحابہ رسول (ص) کا کردار

امام حسین علیہ السلام ایک فرد نہیں تھے جنہوں نے یزید بن معاویہ کی باطل حکومت کے خلاف قیام کیا بلکہ آپ(ع) اس مقدس تحریک کے عظیم راہبر تھے جواس وقت کی باطل ،اسلام دشمنی اورناجائز حکومت کے خلاف وجود میں آئی امام حسین(ع) کوپیغمبر اسلام(ص) نے ’’ہدایت کاچراغ‘‘قرار دیا تھا:(انّ الحسین(ع) مصباح الھدی وسفینۃ النجاۃ)اس وقت جب امت گمراہی کی تاریکیوں میں ڈوب رہی تھی امام حسین(ع) ہادی وراہنما بن کرایسی تحریک کاآغاز کرتے ہیں جس کا ہراسلام خواہ، غیرت منداوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدت ومحبت رکھنے والے شخص نے ساتھ دیا۔

کربلا میں صحابہ رسول (ص) کا کردار

اسلم بن کثیر الازدی(یامسلم بن کثیر):
زیارت ناحیہ میں ان کانام’’اسلم‘‘ذکرہوا ہے جبکہ کتب رجال میں بجائے’’اسلم‘‘کے ’’مسلم بن کثیر الازدی الاعرج‘‘بیان ہوا ہے زیارت ناحیہ کے جملات یوں ہیں:’’السلام علیٰ اسلم بن کثیر الازدی الاعرج ۔۔۔۔۔۔‘‘ (۴) مرحوم زنجانی نے نقل کرتے ہیں کہ یہ صحابی رسول(ص) تھے (۵)مرحوم شیخ طوسی(رہ) اورمامقانی (رہ) نے اپنی کتب رجال میں نقل کرتے ہیں کہ جنگ جمل میں تیرلگنے سے پاؤں زخمی ہوگیا تھا جس کی وجہ سے’’اعرج‘‘(ایک پاؤں سے اپاہج)ہوگئے انھوں نے صحبت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودرک کیاتھا۔

عسقلانی لکھتے ہیں:’’ مسلم بن کثیر بن قلیب الصدفی الازدی الاعرج۔۔۔الکوفی لہ ادراک للنبی(ص) ‘‘ مذید اضافہ کرتے ہیں فتح مصر میں بھی یہ صحابی رسول(ص) حاضرتھے طبری اورابن شھرآشوب نے ان کاذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کربلا میں جملۂ اولیٰ میں شہید ہوئے۔(۶)

مسلم بن کثیر’’ازد‘‘ قبیلہ کے فرد تھے جب امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے ہجرت کی توان دنوں یہ صحابی رسول(ص) کوفہ میں قیام پذیر تھے یہی وجہ ہے امام حسین علیہ السلام کوکوفہ میں آنے کی دعوت دینے والوں میں یہ شامل ہیں پھرحضرت مسلم بن عقیل (ع) جب کوفہ میں سفیرحسین(ع) بن کرپہنچے توانھوں نے حضرت مسلم بن عقیل کی حمایت کی لیکن حضرت مسلم(ع) کی شہادت کے بعد کوفہ کوترک کیااورکربلا کے نزدیک حضرت امام حسین علیہ السلام سے جاملے اورپہلے حملہ میں جام شہادت نوش کیا۔(۷)

حضرت رسول اکرم(ص) نے اپنے اس صحابی کے متعلق جوایک جنگ میں ’’اعرج‘‘ہونے کے باوجود شریک ہوئے اوراپنی جان کی قربانی پیش کی فرمایا:’’والذی نفسی بیدہ لقد رأیت عمروبن الجموح یطأُ فی الجنہ بعرجتہ۔۔۔۔۔۔‘‘ یعنی مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبض ۂ قدرت میں میری جان ہے دیکھ رہا ہوں عمرو بن الجموح کو کہ لنگڑا ہوکربھی جنت میں ٹہل رہا ہے اس بنا پرحضرت مسلم بن کثیر کابھی وہی مقام ہے کہ اگرچہ قرآن فرماتا ہے:(لیس علی الاعمی خرج ولا علی الاعرج حرج)(۸)یعنی جہاد میں شرکت نہ کرنے میں اندھے پرکوئی حرج نہیں اورنہ ہی لنگڑے پرکوئی مؤاخذہ ہے لیکن اس فداکاراسلام نے نواسہ رسول(ص) کی حمایت میں اپنی اس اپاہج حالت کے باوجود جان قربان کرکے ثابت کیا کہ اسلام کے تحفظ کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئے یہی وجہ ہے’’صاحب تنقیح المقال ‘‘ کے یہ جملے ہیں:’’شہیدالطف غنی عن التوثیق‘‘فرماتے ہیں چونکہ کربلا کے شھداء میں شامل لہذا وثاقت کی بحث سے بے نیاز ہیں۔

https://razavi.aqr.ir/portal/home/?news/485377/485538/755553/%DA%A9%D8%B1%D8%A8%D9%84%D8%A7-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B5%D8%AD%D8%A7%D8%A8%DB%81-%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84-(%D8%B5)-%DA%A9%D8%A7-%DA%A9%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1