• صارفین کی تعداد :
  • 9334
  • 11/20/2016
  • تاريخ :

امام خمینی(رہ)کےآثـــار اورتصانیف (حصّہ نہم)

انقلاب اسلامي ايران

۲۰. حکومت اسلامی یا ولایت فقیہ:
 یہ کتاب، سیاسی فقہ کے بارے میں ہے اور فارسی زبان میں ایک استدلالی کتاب ہے اور اسلامی حکومت اور ولایت فقیہ کے متعلق آپ کے نظریات، نیز انقلاب کے بعد نہایت حساس اور اہم ترین سیاسی موضوع کے بارے میں آپ کے موقف اور ادلہ کی توضیح پرمشتمل ہے۔
    امام خمینی ؒنے یہ مطالب ١٣٤٨ه؁ش (١٩٦٩ ء) میں تیرہ دروس کی صورت میں بیان کئے جن کو بعد میں کیسٹ سے سن کر تحریر کیا گیا اور پهر نجف اور ایران میں کتابی صورت دے دی گئی۔ البتہ آپ نے بعد میں ان مطالب کو عربی میں مختصر طورپر تحریر کیا اور کتاب البیع (جلد دوم) میں ولایت کی بحث کا ضمیمہ قرار دیا۔ اس کتاب کا آخری ایڈیشن مقدمہ، توضیحات اور فہرست کے ساته ١٣٧٣ه؁ش (١٩٩٤ ء) میں ادارہ تنظیم ونشر آثار امام خمینی ؒنے شائع کیا۔ اس کتاب کا عربی زبان میں سب سے پہلی مرتبہ ''الحکومۃ الاسلامیۃ'' کے نام سے ترجمہ کیا گیا اور نجف اشرف میں ڈیڑه سو صفحات پرمشتمل اس کتاب کو شائع کیا گیا اور انقلاب کے بعد بیروت میں ١٩٧٩ء؁ میں قاہرہ میں ١٩٧٩ء؁ میں اور عمان میں ١٤٠٩ه؁ق میں اس کو شائع کیا گیا۔
۲۱. حاشیہ بر اسفار:
 امام خمینی ؒنے سالہا سال قم میں صدر المتألہین (ملا صدرا) شیرازی ؒ (م ١٠٥٠ه؁) کی گرانقدر کتاب ''اسفار اربعہ '' کا درس دیا اور اس کے مباحث پر حواشی لکهے اور جیسا کہ ذکر کیا جاچکا ہے کہ ان دروس کی تقریرات کو سید عبد الغنی اردبیلی (م ١٣٦٩ه؁ش، ١٩٩٠ ء) نے تحریر کیا تها۔ ان تقریرات کو ادارہ تنظیم ونشر آثار امام خمینی ؒنے شرح منظومہ سبزواری کی تقریرات کے ساته تین جلدوں میں ١٣٨١ه؁ش (٢٠٠٢ ء) میں شائع کیا لیکن اصل حواشی خود امام خمینی ؒ کی تحریر کے ساته ابهی تک دستیاب نہیں ہوئے ہیں۔[1]ممکن ہے یہ حواشی تدریس ہی کے زمانہ میں پیش کئے گئے ہوں اور شاگردوں نے انہیں لکه لیا ہو لیکن افسوس کہ اصل کتاب کے مفقود ہونے کی وجہ سے حواشی بهی مفقود ہوگئے ہیں۔ ( جاری ہے )