• صارفین کی تعداد :
  • 3678
  • 6/26/2016
  • تاريخ :

جو چپ رہے گي زبانِ خنجر لہو پکارے کا آستين کا

جو چپ رہے گی زبانِ خنجر لہو پکارے کا آستین کا


آج علي الصبح ميں اپنے ذاتي کمپيوٹر(پپpersonnel computer) پپر ايک شوشل نيٹ ورکنگ سائٹ ديکھنے ميں مصروف تھا کہ اچانک ميري نظر ايک خون آلود تصوير پر پڑي ۔يہ تصوير غالباً ايک جواں سا ل ،خوب رو ،دراز قد  اور قوي جسامت والے فرد کي تھي۔ خون سے لت پت يہ تصوير  باوجود اس کے ميرے لئے کسي اجنبي کي تصوير تھي  ليکن پھر بھي ميري رگِ حميت پھڑکي اورميرے دل کو يکايک غمزدگي نے کچھ يوں آگھيرا،گويا مقتول ميرے اپنے احباب ميں سے ہو۔
يقينا انسا ن  خون ناحق  بہتا ہو اديکھ کر اگر ٹس سے مس نہ ہو تو وہ انسان کہلانے کا حقدار نہيں ہے ۔کيونکہ انساني فطرت اس طرح کے مناظر سے متاثر ہوئے بغير نہيں رہ سکتي ہے ۔ البتہ مختلف قسم کے رجحانات بسا اوقات اس فطرت کا گلہ گھونٹ ديتے ہيں اور پھر کسي رد عمل سے قبل ايک شخص انساني خون کي بھي اپني ايک مخصوص نگاہ  سے جانچ پڑتال کرنا اگر يہ خون اس کے اپنے ذاتي تمائلات  سے ميل کھائے تو ممکن ہے وہ اس غم ميں خون کے آنسو رونے کي حد تک چلا جائے بصورت ديگر اس بہيميت کو عجيب و غريب تاويلات کے ذريعے کارِ خير گرداننا  اس مزاج کے لوگوں کي ايک مجبوري بن چکي ہے غرض کہنے کا يہ ہے کہ وہ خالص انساني جذبہ قريب قريب اب فوت ہو چکا ہے کہ جو ايک نو جوان کي مسخ شدہ لاش کو ديکھ کر اس کا شناختي کارڈ ديکھنے کا قائل نہيں ہوتا ہے برژس اس کے دورِ حاضر ميں کسي بھي ناحق قتل پر ردِ عمل ظاہر کرنے سے قبل ہر فرد اس کا تفتيش کرنے ميں لگ جاتا ہے کہ مقتول کي قوميت کيا ہے ؟ اس کا کس مذہب ومسلک سے تعلق رکھتا ہے؟ کس ملک ميں پيدا ہوا اور کس سرزمين پر مارا گيا ؟ اس کے مشاغل کيا تھے؟ وغيرہ وغيرہ اور اس پہلو کا سب سے درد ناک اور افسوسناک پہلو يہ ہے اگر قاتل تفتيش کنندہ شخص سے فکري،قومي،مسلکي،مذہبي اور نظرياتي رشتہ رکھتا ہو تو وہ فوراً يہ رائے قائم کي جاتي ہے کہ يہ قتل حق بہ جانب ہے ( جاري ہے )