• صارفین کی تعداد :
  • 10975
  • 6/24/2016
  • تاريخ :

اسلام قبول کرنے والي ناورے کي ايک خاتون کي ياديں

مسلمان خاتون


ميرا مسلمان ہونا ميرےاہل خانہ کے ليے قابل قبول نہ تھا ۔ ميري ماں نے مجھے گھر سے نکال ديا اور ميں کئ دنوں تک ناروے کے مسلمان گھروں ميں رہي۔  فارس نيوز ايجنسي کے مطابق اوسلو ميں مقيم مونيکا ہانگسلم نے "اقرا ‏‏ء،، ٹيلي وژن پر اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوۓ کہا کہ اس نے کيوں اسلام قبول کيا ۔ ميں نہ صرف پردے کو  عورت کي توھين  نہيں سمجھتي بلکہ ميں اسے عورت کي سہولت اور آساني کے لیۓ انتہائي ضروري سمجھتي ہوں ۔ مونيکا کہتي ہيں ميں نے اتفاقا اسلام قبول نہيں کيا ھے بلکہ يہ مسئلہ چند سال پرانا ھے ميں اس علاقے سے تعلق رکھتي ہوں جہاں مرد رات کو نشہ ميں دھت  گھر آتے ہيں اور اپني عورتوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر اپني اور اس کي زندگيوں کو تباہ کرتے ہيں ۔ ميں نے اسلام کو ايک امن ، صلح اور رحمت  کا دين سمجھ کر انتخاب کيا ھے اس سے پہلے کہ ميں اسلام کو قبول کرتي ميں نے قرآن مجيد کا ترجمہ پڑھا اور اس کا انجيل سے موازنہ کيا اس کے بعد ميں قرآن کي الہي تعليمات کي مجزوب ہو گئي مونيکا کے بقول اس نے نہ صرف قرآن مجيد کا مطالعہ کيا بلکہ فقہ اور سيرت پيغامبر سے بھي آشنائي پيدا کي۔ نو مسلم مو نيکا کہتي ہيں يورپ ميں لوگ انجيل کا نام تو ليتے ليکن بدقسمتي سے اس پر  عمل نہيں کرتے ليکن جن مسلمانوں نے مجھے اسلام اور قرآن سے آشنا کيا وہ خدائي اور قرآني تعلمات پر عمل پيرا ہيں اور جو کچھ قرآن وسنت ميں موجود ھے اس کا خاص خيال  کرتے ہيں  يہ وہ چند اھم چيزيں تھيں جن کو ديکھ کر ميں نے اسلام قبول کيا ۔
مونيکا  کہتي ہيں انجيل کا مطالعہ کرنے کے بعد بھي ميں اس کے مطالب کو نہ تو صحيح سمجھ سکي اور نہ وہ قابل عمل تھے لہذا ميں نے انجيل کو کنارے پر رکھ کر قرآن کا مطالعہ شروع کر ديا ۔ قرآني مطالب نے مجھے حيران کر ديا اور  ميں نے ان سے بہت ذيادہ استفادہ کيا۔ ميں سورہ توحيد کے مطالعے اور تلاوت کوقرآن سے عشق کا آغاز اور اپنے ليے امن و سلامتي سمجھتي ہوں مونيکا کہتي ہيں  ميں اس پر بہت ذيادہ خوش ہوں کہ اس وقت ميري بہت سي سہليياں  بھي اسلام قبول کر چکي ہيں اور ميں بھي ايک مسلمان ہوں مونيکا اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے خاندان کے رد عمل کي طرف اشارہ کرتے ہو۔ کہتي ہيں ميرے گھرانے کے لي۔ ميرا اسلام قبول کرنا ناقابل قبول تھا ۔ ميري ماں نے مجھے گھر سے نکال ديا ميں کافي عرصے تک مسلمان گھروں ميں رہتي رہي، اس ميں کوئي شک نہيں ميرا مسلمان ہونا شروع ميں ميرے گھر والوں کے ليئے ايک بڑي مصيبت اور بحران کي مانند تھا ليکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے حقيقت کو تسليم کر ليا اور مجھے گھر ميں واپس بلا ليا  ( جاري ہے )