• صارفین کی تعداد :
  • 334
  • 5/27/2016
  • تاريخ :

سعودي عرب کے تعليمي نظام ميں وہابي اور تکفيري فکر کو فروغ ديا جاتا ہے

سعودی عرب کے تعلیمی نظام میں وہابی اور تکفیری فکر کو فروغ دیا جاتا ہے

جامع۔المصطفي العالميہ کے سربراہ نے وہابي اور تکفيري فکر کو اسلام کےصحيح اصولوں کے منافي قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ سعودي عرب کے تعليمي نظام ميں وہابي اور تکفيري فکر کو فروغ ديا جاتا ہے جو اسلام کے بنيادي اور صحيح اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔مہر خبررساں ايجنسي کے نامہ نگار کي رپورٹ کے مطابق جامع۔المصطفي العالميہ کے سربراہ آيت اللہ عليرضا اعرافي نے ايک علمي سمينار سے خطاب ميں وہابي اور تکفيري فکر کو اسلام کےصحيح اصولوں کے منافي قرارديتے ہوئے کہا ہے کہ سعودي عرب کے تعليمي نظام ميں وہابي اور تکفيري فکر کو فروغ ديا جاتا ہے جو اسلام کے بنيادي اور صحيح اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔آيت اللہ اعنرافي نے کہا کہ سعودي عرب کےغلط اور منحرف  تعليمي نظام نے پوري دنيا کو سخت مشکلات سےدوچار کر ديا ہے سعودي عرب کي يونيورسٹيوں ميں اور سعودي عرب کے تمام تعليمي اداروں ميں وہابي اور تکفيري فکر کو فروغ ديا جارہا ہے اور اس غلط اور گمراہ فکر کو عالمي سطح پر بڑے زور و شور کے ساتھ پھيلايا جارہا ہے حالانکہ اس فکر کا اسلامي فکر اور اسلامي اخلاقيات سے کوئي واسطہ نہيں ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودي عرب کے تعليمي نظام ميں تفرقہ ڈالنے کي تربيت دي جاتي ہے جبکہ ايران کے تعليمي نظام ميں اتحاد اور يکجہتي اور تمام اديان کے ساتھ باہمي رواداري کا درس ديا جاتا ہے جو اسلامي اصولوں اور اسلامي افکار پر مبني ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج دنيا کے ماہرين تعليمات ايران کے درسي مواد اور سعودي عرب کے درسي مواد کا اچھي طرح موازنہ کرکے فيصلہ کرسکتے ہيں کہ کون سا تعليمي نظآم اسلامي اور اخلاقي بنيادوں پر استوار ہے اور کونسا تعليمي  نظام غير اسلامي اور تفرقہ ڈالنے کي بنيادوں پر استوار ہے اور اس موازنے کے بعد دنيا سمجھ جائے گي کہ سعودي عرب کا تعليمي نظام وہابي تکفيري فکر پر استوار ہے جو دنيا ميں دہشت گردي کي سب سے بڑي وجہ ہے اور جو يزيد اور معاويائي افکار کا آئينہ دار ہے جبکہ ايران کا تعليمي نظام حضرت محمد (ص) و حضرت علي (ع) اور اہلبيت عليھم السلام کے افکار کا مظہر ہے۔