• صارفین کی تعداد :
  • 4241
  • 8/23/2015
  • تاريخ :

قرآن کریم میں ائمہ (ع) کے نام  ( حصّہ ششم )

يا علي

 حقیقت یہ ہے کہ مومنین میں سے بعض مومنین کے علاوہ صدر اسلام کی اکثریت اہل بیت (علیہم السلام) خصوصا امیرالمومنین علی (علیہ السلام) کو قبول نہیں کرتی تھی اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بھی مختلف جگہوں پر بہت زیادہ مشکلات میں حضرت علی (علیہ السلام) کو پیش کرتے تھے اور اس وجہ سے لوگ ایک طرح کا منفی عکس ا لعمل ظاہر کرتے تھے کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے تھے جو کچھ دن پہلے اسلام کے دشمنوں کی صفوں میں تھے اور انہوں نے امام علی (علیہ السلام) کی تلوار کو دیکھا تھا اور وہیں سے ان کے خلاف بغض و حسد اپنے دلوں میں چھپا لیا تھا ، حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) نے بھی آپ سے لوگوں کی روگردانی کی ایک وجہ یہی بیان کی ہے ۔ دوسرے یہ کہ جاہلی غلط سنتیں ابھی لوگوں کی فکروں پرحاکم تھیں، اور بہت سے امور جیسے عُمر وغیرہ کو سیاسی امور میں داخل سمجھتے تھے ،لہذا حضرت علی (علیہ السلام) کے جوان ہونے کو معاشرہ کی رہبری کے لئے بہتر نہیں سمجھتے تھے اس کے علاوہ یہ خطرناک فکریں معاشرہ میں رائج تھیں اور بہت سے لوگ اس فکر کو لوگوں میں بیان کرتے تھے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) چاہتے ہیں کہ اپنے رشتہ داروں کو ہمیشہ کے لئے مسند حکومت پر بٹھا دیں اور اس طرح پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قیمتی خدمتوں کو ایک طرح سے سیاسی کھلواڑ سے تفسیر کرتے تھے ۔ اس مسئلہ کواس قدر رائج کیا گیا کہ غدیر کے روز حضرت علی (علیہ السلام) کا تعارف کرانے کے بعد ایک شخص نے آواز لگائی ، خدایا ! ہم سے کہا کہ میں خدا کی طرف سے آیا ہوں اور کتاب خدا لایا ہوں ،ہم نے قبول کر لیا اور اب چاہتا ہے کہ اپنے داماد اور چچا زاد بھائی کو ہمارے اوپر حاکم اور مسئول بنائے ،اگر یہ سچ کہتے ہیں تو آسمان سے ایک پتھر بھیج جو مجھے قتل کر دے ! اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں کس حد تک صحیح تھا کہ امام علی یا ائمہ علیہم السلام کا نام قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ بیان ہوتا ؟
سنت اور بیان جزئیات
اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ مختلف مسائل کی بہت سی جزئیات قرآن کریم میں بیان نہیں ہوئی ہیں ، یہ سوال پیش آتا ہے کہ اس طرح کے مسائل میں جزئیات کو حاصل کرنے کیلئے کیا کرنا چاہئے ؟ ہمارا مرجع و مآخذ کون ہے ؟ کیا قرآن کریم نے مسائل کے اس حصہ کی طرف کوئی توجہ کی ہے ؟
قرآن کریم ،قرآن کے مفسر اور احکام الہی و تعلیمات اسلامی کو حاصل کرنے کاایک منبع و مآخذ ”سنت پیغمبر“ کو بیان کرتا ہے اور کہتا ہے : ”وَ اٴَنْزَلْنا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَیْہِمْ “ (۲۷) ۔ اور آپ کی طرف بھی ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے تاکہ ان کے لئے ان احکام کو واضح کردیں جو ان کی طرف نازل کئے گئے ہیں۔
سیوطی نے ”اوزاعی“ سے نقل کیا ہے کہ اس آیت ”وَ نَزَّلْنا عَلَیْکَ الْکِتابَ تِبْیاناً لِکُلِّ شَیْءٍ “ (۲۸) ۔ اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کی وضاحت موجود ہے، کی تفسیر میں ”قال : بالسنة“ کہا ہے ،منظور یہ ہے کہ سنت کے وسیلہ سے تمام حقایق قرآن کریم میں موجود ہیں (۲۹) ۔ ( جاری ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

فضائلِ علی علیہ السلام قرآن کی نظر میں

قرآن مجید اور حضرت علی علیہ السلام کی خدمات