• صارفین کی تعداد :
  • 3946
  • 10/3/2014
  • تاريخ :

فلسفہ اور اسرار حج کيا ہيں؟ ( تيسرا حصّہ )

مکہ

3- ثقافتي پہلو: مسلمانوں کا ايام حج ميں دنيا بھر کے مسلمانوں سے ثقافتيرابطہ اور فکر و نظر کے انتقال کے لئے بہترين اور موثر ترين عامل ہوسکتا ہے-

خصوصاً اس چيز کے پيش نظر کہ حج کا عظيم الشان اجتماع دنيا بھر کے مسلمانوں کي حقيقي نمائندگي ہے (کيونکہ حج کے لئے جانے والوں کے درميان کوئي مصنوعي عامل موثر نہيں ہے، اور تمام قبائل، تمام زبانوں کے افراد حج کے لئے جمع ہوتے ہيں)

جيسا کہ اسلامي روايات ميں بيان ہوا ہے کہ حج کے فوائد ميں سے ايک فائد ہ يہ ہے کہ اس کے ذريعہ پيغمبر اکرم (ص) کي احاديث اور اخبار ؛عالم اسلام ميں نشر ہوں-

”‌ہشام بن حکم“ حضرت امام صادق عليہ السلام کے اصحاب ميں سے ہيں کہتے ہيں: ميں نے امام عليہ السلام سے فلسفہ حج اور طواف کعبہ کے بارے ميں سوال کيا تو امام عليہ السلام نے فرمايا: ”‌خداوندعالم نے ان تمام بندوں کو پيدا کيا ہے اور دين و دنيا کي مصلحت کے پيش نظر ان کے لئے احکام مقرر کئے، ان ميں مشرق و مغرب سے (حج کے لئے) آنے والے لوگوں کے لئے حج واجب قرار ديا تاکہ مسلمان ايک دوسرے کو اچھي طرح پہچان ليں اور اس کے حالات سے باخبر ہوں، ہر گروہ ايک شہر سے دوسرے شہر ميں تجارتي سامان منتقل کرے اور پيغمبر اکرم (ص) کي احاديث و آثار کي معرفت حاصل ہو اور حجاج ان کو ذہن نشين کرليں ان کو کبھي فراموش نہ کريں، (اور دوسروں تک پہونچائيں)(3)

اسي وجہ سے ظالم و جابر خلفاء اور سلاطين ؛مسلمانوں کو ان چيزوں کے نشر کرنے کي اجازت نہيں ديتے تھے ، وہ خود اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپني مشکلوں کو دور کرتے تھے اور ائمہ معصومين عليہم السلام اور بزرگ علمائے دين سے ملاقات کرکے قوانين اسلامي اور سنت پيغمبر پر پردہ ڈالتے تھے-

اس کے علا وہ حج ؛عالمي پيمانہ پر ايک عظيم الشان کانفرنس کا نام ہے جس ميں دنيا بھر کے تمام مسلمان مکہ معظمہ ميں جمع ہوتے ہيں اور اپنے افکار اورابتکارات کو دوسرے کے سامنے پيش کرتے ہيں-

اصولي طور پر ہماري سب سے بڑي بد بختي يہ ہے کہ اسلامي ممالک کي سرحدوں نے مسلمانوں کي ثقافت ميں جدائي ڈال دي ہے، ہر ملک کا مسلمان صرف اپنے بارے ميں سوچتا ہے، جس سے اسلامي معاشرہ کي وحدت نيست و نابود ہوگئي ہے، ليکن حج کے ايام ميں اس اتحاد اور اسلامي ثقافت کا مظاہرہ کيا جا سکتا ہے-

چنانچہ حضرت امام صادق عليہ السلام نے کيا خوب فرمايا ہے (اسي ہشام بن حکم کي روايت کے ذيل ميں): جن قوموں نے صرف اپنے ملک ،شہروں اور اپنے يہاں در پيش مسائل کي گفتگو کي تو وہ ساري قوميں نابود ہوجائيں گي اور ان کے ملک تباہ و برباد اور ان کے منافع ختم ہوجائيں گے اور ان کي حقيقي خبريں پشتِ پردہ رہ جائيں گي-(4) ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

اعمال حج كے بارے ميں

طواف اور نماز طواف كے بارے ميں