• صارفین کی تعداد :
  • 4513
  • 9/8/2014
  • تاريخ :

تاريخ اسلام اور اتحاد مسلمين ( حصّہ سوّم )

بسم الله الرحمن الرحيم

اس سے پہلے بتايا جا چکا ہے کہ اسلام کي تعليمات کو عام کرنے کے ليے امام زين العابدين ط‘ کا واحد ہتھيار آپ کي دعا تھي آپ نے اپنے عقيدت مندوں کو يہ سکھايا کہ اسلامي فوج اور مسلمانوں کے ليے کس طرح دعا کريں-

امام زين العابدين ط‘ اس دعا ميں جو ""دعائے اہل ثغور"" کے نام سے مشہور ہے يوں فرماتے ہيں-

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰي مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہِ وَ حَصِّن ثُغُورَ المُسلِمِينَ بِعِزَّتِکَ وَ اَيِّدحُمَاتِھَا بَقُوَّتِکَ وَ اَسبِغ عَطَايَاھُم مِن جِدَتِکَ اَللّٰھُمَّ صَلِ عَلٰي مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہِ وَکَثِّر عَدَّتَھُم وَاشحَذ اَسلِحَتَھُم وَاحرُس حَوزَتَھُم وَامنَع حَومَتَھُم وَ اَلِّف جَمعَھُم وَدَبِّر اَمرَھُم وَ وَاتِر بَينَ مِيَرِھِم وَتَوّحَّد بِکِفَايَۃِ مُۆنِھِم وَاعضُدھُم بِالنَّصرِ وَاَعِنھُم بِالصّبرِ وَالطُف لَھُم فِي المَکرِ :- اے خدا محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  اور آل محمد ط‘ پر درود بھيج، مسلمانوں کي جماعت بڑھا، ان کے ہتھيار تيز کر، ان کے علاقے کي حفاظت کر، ان کي صف کي قابل توجہ حد مضبوط بنا، ان کي جماعت ميں يک جہتي برقرار  رکھ، ان کے کام پورے کر، ان کو روزي ان کے پيچھے پيچھے (ساتھ ساتھ9 پہنچا، ان کے اخراجات پورے کر، ان کو اپني مدد سے طاقتور بنا صبر اور ثابت قدمي سے ان کي امداد کر اور ان کو اپنے دشمنوں کے مقابلے ميں اپنا راستا پالينے کي خفيہ حکمت عملي عطا فرما- (صحيفہ ، ستائيسويں دعا)

پھر کافروں پر لعنت بھيجنے کے بعد فرماتے ہيں:

اَللّٰھُمَّ وَقَوِّ بَذٰلِکَ مِحَالَ اَھلِ الاَسلاَمِ وَحَصِّن بِہِ دِيَارَھُم وَثَمِّر بِہِ اَموَالَھُم وَفَرِّغھُم عَن مُحَارَبَتِھِم لِعِبَادَتِکَ وَعَن مُنَابَذَتِھِم لِلخَلوَۃِ بِکَ حَتّٰي لا يُعبَدَ فِي بَقَاعِ الاَرضِ غَيرُکَ وَلاَ تُعَفَّرَ لاَحَدٍ مِّنھُم جَبھَۃٌ دُونَکَ :- (نوٹ، يہ دعا واقعي کتني اچھي اور جامع ہے، اس دور ميں مسلمانوں کو چاہيے کہ يہ دعا دن رات پڑھا کريں اور اس کے معافي سے سبق ليں اور خدا سے چاہيں کہ وہ انہيں ميل جول ، اتحاد، صفوں کا گٹھاۆ اور عقل کي روشني عطا فرمائے)-

اے خدا! اس دور انديش وسيلے سے مسلمانوں (يا ان کے مقامات) کو طاقت عطا کر، ان کے شہر مستحکم اور ان کي دولت زيادہ کر، ان کو اپني بندگي اور عبادت کے ليے اور اپنے ساتھ تنہائي اختيار کرنے کے ليے دشمنوں کي جنگ اور رگڑے جھگڑے سے فرصت اورسکون عطا فرماتا کہ روئے زمين پر تيرے سوا دوسرے کي عبادت نہ ہو اور تيرے سوا ان کي پيشاني کسي کے آگے نہ جھکے-

امام زين العابدين ط‘ اس بليغ اور پر تاثير دعا ميں (جو ان دعاۆں ميں سب سے لمبي ہے) لشکر اسلام کو اس کام کے ليے جو اس کے شايان شان ہے اس طرح آمادہ کرتے ہيں کہ وہ عسکري اور اخلاقي خوبيوں کے مالک بنيں اور دشمنوں کي صفوں کے مقابلے ميں پوري طرح مل کر کھڑے ہوجائيں-

آپ اس دعا کے پردے ميں اسلامي جہاد کي فوجي تعليم، نتيجہ ، مقصد اور اس کے فائدے بيان کرتےہيں اور دشمن سے تصادم اور جھڑپوں ميں جنگي حکمت عملي کي وضاحت کرتے ہيں، اور ساتھ ساتھ يہ بھي آجاتا ہے کہ لڑائي کے بيچ ميں خدا کي محبت، اس پر بھروسا ، گناہوں سے پرہيز اور خدا کي خاطر جہاد کرنا دھيان سے نہ اترے-  ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

وہابيت کي ترويج

وہابيت کے سائے ميں