• صارفین کی تعداد :
  • 4298
  • 6/5/2014
  • تاريخ :

اہل تسنن کا فقہي نظام ( حصّہ دوّم )

اہل تسنن کا فقہی نظام ( حصّہ دوّم )

دوسري صدي سے چوتھي صدي ہجري ميں  ، فقہ اہل سنت کے کمال حاصل کرنے، اور چار اماموں کے وجود ميں آنے اور ان کے فقہي مذاہب کي تاسيس کا آغاز ہوا- البتہ پہلے کے ادوار ميں فقہ کے وجود نے ، اس دور کے مقدمات کو فراہم اور نئے فقہي مذاہب کي بنياد کےلئے راہ ہموار کردي - قابل ذکر امر يہ ہے کہ بعض موارد جيسے خليفہ سوم کے دور ميں قرآن کريم کي تنظيم و ترتيب اور اس کي جمع آوري ، احاديث نبوي (ص) کي دوسري صدي سے جمع آوري اور مختلف عقائد کا ظہور ، اہل سنت کے فقہي مذاہب کے وجود ميں آنے کے جملہ عوامل ہيں - اس کے علاوہ ديگر تہذيبوں سے مسلمانوں کي آشنائي ، مختلف مکاتب کاوجود ، حکومت ميں توسيع اور اس کے نتائج اور قانوني ضروريات ميں توسيع بھي اہل سنت کے فقہي مذاہب شمار ہوتے ہيں -

اہل سنت کے پہلے فقہي مکتب کي بنياد "نعمان بن ثابت ابو حنيفہ" کے توسط سے ڈالي گئي - ابو حنيفہ ايراني نژاد تھے اور 80 ہجري قمري ميں شہر کوفہ ميں پيدا ہوئے - ابو حنيفہ فقيہ ہونے کے علاوہ اپنے زمانے کے کامياب تاجروں ميں سےتھے - ان کا شمار اہل سنت کے نزديک عظيم فقہاء ميں ہوتاہے - ابوحنيفہ ، اپنے استاد حماد بن ابي سليمان کي پيروي ميں ، نئے فقہي مکتب کو وجود ميں لائے - ابوحنيفہ کے فقہي افکار کي بنياد ، سات اصولوں ، کتاب خدا، سنت رسول خدا (ص) ، صحابہ کے اقوال ، قياسيا اجتہاد بالرائے يعني کسي مشابہ مورد کو پيش نظر رکھتے ہوئے ، درپيش قضيے ميں ان ہي مشابہ موارد کے مطابق حکم کرنا يا احکام دين کي اپني طرف سے تاويل کرنا ، اور  استحسان يعني مشابہ موارد کو مدنظر رکھے بغير مستقل طور پر جائزہ لينا اور جو چيز حق و انصاف سے زيادہ قريب ہو‘ نيز ہمارا ذوق و عقل اسے پسند کرے اسي کے مطابق حکم صادر کرنا -، نيز اجماع اور عرف پر استوار تھي - يہ مکتب کہ جسے بعد ميں حنفي مکتب سے شہرت حاصل ہوئي - حکومت کے قبول کرنے اور حنفي قاضيوں کو اسلامي ملکوں ميں بھيجے جانے سے اس مذہب کو تيزي سے فروغ حاصل ہوا - فقہ حنفي کا دائرہ ، پہلے عراق اور پھر مصر ، ماوراء النھر ، اناطوليہ ( يا موجودہ ترکي ) اور بر صغير اور حتي چين تک پھيل گيا- اگرچہ خود ابو حنيفہ حقيقت ميں اپنےفقہي مکتب کے اصلي مروج اورشارح تھے تاہم ان کے مکتب کے شاگردوں اور تربيت يافتہ افراد نے بھي فقہ حنفي کو پھيلانے ميں اہم کردار کيا - اس کے ساتھ ہي بعد ميں فقہ حنفيہ کے بہت سے پيرو  مثلا اسد بن فرات کوفي ، فقہ حنفي کو چھوڑکر فقہ مالکي سے جا ملے -  ابوحنيفہ 150 ہجري قمري ميں انتقال کرگئے - ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

حضرت زينب س کي عظيم شخصيت

امامت ديني مرجعيت کے معني ميں