• صارفین کی تعداد :
  • 3059
  • 10/19/2013
  • تاريخ :

ميٹھي زبان سے برے  الفاظ

میٹھی زبان سے برے  الفاظ

عام طور پر ديکھا گيا ہے کہ بچے اپنے غصے کا اظہار عجيب طريقے سے کرتے ہيں اور ايسا کرتے وقت وہ زبان کا بڑي بے دردي سے استعمال کرتے ہيں -  اپنے غصے کا اظہار کرنے کے ليۓ وہ زبان سے ايسے نازيبا الفاظ استعمال کرتے ہيں کہ جنہيں ہم " گالياں " کہتے ہيں -

ايک ماں کہتي کہ جب اس نے اپنے بيٹے  کو گالي دينے سے منع کيا تو جواب ميں بچے نے جواب ديا کہ ميرے پاس اپنے  دکھ کا اظہار کرنے کے ليۓ کوئي اور الفاظ نہيں ہيں -

بعض الفاظ کسي خاص معني کے ساتھ بچوں کے ذہنوں پر نقش ہو جاتے ہيں کہ ان کي جگہ کوئي بھي دوسرا  لفظ نہيں لے سکتا ہے -  اس کے باوجود ايسے الفاظ کے استعمال کے ليۓ کوئي نہ کوئي قاعدے اور قوانين  موجود ہوں تو بہتر ہے - ضروري نہيں  ہے کہ بچے اپنے احساسات کا اظہار ہميشہ ايسے ہي طرح کے الفاظ کو استعمال کرکے کريں -

ايک پانچ سال کے بچے نے اپني ماں کو  پکارتے ہوۓ " احمق " کا لفظ استعمال کيا -  ماں نے بلند آواز سے بچے سے کہا "  تمہيں ہرگز يہ اجازت نہيں ہے کہ تم مجھے احمق کہو "

بچے نے اپني ماں کي بات سننے کے بعد کمرے کو ترک کيا - آدھے گھنٹے کے بعد وہ دوبارہ اپني ماں کے پاس آيا اور ماں سے ايک رياضي کا سوال پوچھا - ماں نے جواب ديا کہ مجھے ابھي اس کا جواب نہيں معلوم ہے مگر ميں تمہارے ليۓ اس کا درست جواب معلوم کر سکتي ہوں - بچے نے بغير کسي ہچکچاہٹ سے ماں کو جواب ديا کہ مجھے معلوم ہے کہ مجھے آپ کو احمق کہنے کي اجازت نہيں ہے مگر ميں يہ تو کہہ سکتا ہوں کہ آپ  کند ذہن ہيں - جب اسے ماں کو " احمق " کہنے کي اجازت نہ ملي تب بچے نے دوسرے الفاظ کا استعمال کرتے ہوۓ اپنا انتقام لے ليا - اس بار بچے نے جن الفاظ کا استعمال کيا گو کہ اس کا مفہوم تو پہلے جيسا تھا مگر قدرے مۆدبانہ الفاظ استعمال کيے - ( جاري  ہے  )