• صارفین کی تعداد :
  • 3917
  • 10/22/2013
  • تاريخ :

اسلامي روايات ميں تقيہ

اسلامی روایات میں تقیہ

''تقيہ'' قرآن و سنت كے آئينہ ميں (حصّہ اول)

تقيہ اور نفاق (حصّہ دوم)

کتاب الہي ميں تقيہ (حصّہ سوم)

5-تقيہ اسلامى روايات ميں

اسلامى روايات ميں بھى تقيہ كاكثرت سے ذكر ملتا ہے-مثال كے طور پر مسند ابى شيبہ اہل سنت كى معروف مسند ہے -اس ميں (مسيلمہ كذاب) كى داستان ميں نقل ہوا ہے كہ مسيلمہ كذاب نے رسول خدا (ص) كے دو اصحاب كو اپنے اثر و رسوخ والے علاقے ميں گرفتار كر ليا اور دونوں سے سوال كيا كہ كيا تم گواہى ديتے ہو كہ ميں خدا كا نمائندہ ہوں؟ ايك نے گواہى دے كر اپنى جان بچا لى اور دوسرے نے گواہى نہيں دى تو اسكى گردن اڑادى گئي- جب يہ خبر رسول خدا (ص) تك پہنچى تو آپ(ص) نے فرمايا جو قتل ہو گيا اس نے صداقت كے راستے پر قدم اٹھايا اور دوسرے نے رخصت الہى كو قبول كرليا اوراس پر كوئي گناہ نہيں ہے (4)

ائمہ اہل بيت كى احاديث ميں بھى بالخصوص ان ائمہ كے كلمات ميں كہ جو بنوعباس اور بنو اُميّہ كى حكومت كے زمانہ ميں زندگى بسر كرتے تھے اور اس دور ميں جہاں كہيں محب على ملتا اسے قتل كرديا جاتا تھا-تقيہ كا حكم كثرت سے ملتا ہے - كيونكہ وہ مامور تھے كہ ظالم اور بے رحم دشمنوں سے اپنى جان بچانے كے لئے تقيہ كى ڈھال سے استفادہ كريں-

6-كيا تقيہ صرف كفار كے مقابلے ميں ہے؟

ہمارے بعض مخالفين جب ان واضح آيات اور مندرجہ بالاروايات كا سامنا كرتے ہيں تو اسلام ميں تقيہ كے جواز كو قبول كرنے كے علاوہ انكے پاس كوئي چارہ نہيں ہوتا- اس وقت وہ يوں راہ فرار تلاش كرتے ہيں كہ تقيہ تو صرف كفار كے مقابلہ ميں ہوتا ہے- مسلمانوں كے مقابلے ميں تقيہ جائز نہيں ہے - حالانكہ مندرجہ بالا ادلہ كى روشنى ميں بالكل واضح ہے كہ ان دو موارد ميں كوئي فرق نہيں ہے-

1- اگر تقيہ كا مفہوم متعصب اور خطرناك افراد كے مقابلے ميں اپنى جان ،مال اور ناموس كى حفاظت كرنا ہے، اور حقيقت ميں بھى يو نہى ہے، تو پھر نا آگاہ اور متعصب مسلمان اور كافركے درميان كيا فرق ہے ؟ اگر عقل و خرد يہ حكم لگاتى ہے كہ ان امور كى حفاظت ضرورى ہے اور انہيں بيہودہ طور پر ضائع كرنا مناسب نہيں ہے تو پھر ان دومقامات ميں كيا فرق ہے- ( جاري ہے )