• صارفین کی تعداد :
  • 887
  • 9/19/2013
  • تاريخ :

انقلاب اسلامي ظلم کا مخالف اور اس سے پرہيز کا پيغامبر

انقلاب اسلامی ظلم کا مخالف اور اس سے پرہیز کا پیغامبر

 رہبرانقلاب اسلامي نے فرمايا ہے کہ سامراجي نظام کو اس وجہ سے اسلامي انقلاب سے دشمني ہے کہ اسلامي انقلاب ظلم سے مقابلہ کرنے اور دوسروں پرظلم کرنے سے پرہيز کرنے پر تاکيد کرتا ہے- رہبرانقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے آج سپاہ  پاسداران کے سابق اور موجودہ  کمانڈروں اور عھديداروں سے ملاقات ميں فرمايا کہ سامراج نے دنيا کو دو حصوں يعني ظالم اور مظلوم ميں تقسيم کر رکھا ہے ليکن اسلامي انقلاب اپنے ہمراہ ظلم کي مخالفت اور ظلم سے پرہيز کا پيغام لے کر آيا اور اسي پيغام کي وجہ سے قوموں نے اسلامي انقلاب کا استقبال کيا اور يہ انقلاب ايراني سرحدوں ميں محدود نہيں رہا- آپ نے فرمايا کہ سامراجي ملکوں کے تمام اقدامات و بيانات، منجملہ ايران کے ايٹمي پروگرام کے بارے ميں امريکہ کے پروپگينڈوں کا سامراج کے مقابل اسلامي انقلاب کے اسي پيغام کے تناظر ميں تجزيہ کرنا چاہيے- رہبرانقلاب اسلامي نے فرمايا کہ ظالم و جابر اور سامراج سے وابستہ حکومتيں نيز عالمي لٹيروں کے نيٹ ورک، تين بنيادي پاليسيوں پر عمل پيرا ہيں جو جنگ پسندي، غربت کو ہوا دينا اور برائياں پھيلانے سے عبارت ہيں اور چونکہ اسلام ان پاليسيوں کا مخالف ہے لہذا اسي وجہ سے سامراج اسلام کي مخالفت کرتا ہے- رہبرانقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي خامنہ اي نے فرمايا کہ ايران امريکہ اور غير امريکہ کي خاطر نہيں بلکہ اپنے اسلامي عقائد کي بنا پر ايٹم بم بنانے اور اسکے استعمال کا مخالف ہے ليکن ايران کے پرامن ايٹمي پروگرام کے مخالفين کا حقيقي ہدف کچھ اور ہے- رہبرانقلاب اسلامي نے سپاہ پاسداران کي درخشاں کارکردگي کو ملت ايران کے تشخص اور کامياب تجربوں کا ثبوت قرار ديا- آپ نے فرمايا کہ انقلابي باقي رہنا اور انقلاب کي اقدار پر عمل پيرا ہونا اور ثبات قدم سپاہ پاسداران کے وجود کے خوبصورت جلوے ہيں- رہبرانقلاب اسلامي نے فرمايا کہ سپاہ پاسداران کبھي بھي دنيا ميں آنے والي تبديليوں اور اندرون ملک تبديليوں کي ضرورت کي بنا پر اپنے بنيادي اور صحيح موقف سے پيچھے نہيں ہٹي ہے- رہبرانقلاب اسلامي نےفرمايا کہ اسلامي انقلاب کي حفاظت کرنے کےلئے سپاہ کو مختلف ميدانوں ميں آنے والي تبديليوں سے آشنا ہونا چاہيے اور حالات کي مکمل شناخت رکھني چاہيے- آپ نے فرمايا کہ يہ ضروري نہيں ہےکہ سپاہ پاسداران سياسي ميدان ميں بھي سرگرم عمل ہو ليکن انقلاب کے نگہبان کي حيثيت سے مختلف انحرافي، غير انحرافي اور وابستہ گروہوں نيز ديگر سياسي دھڑوں پر بھر پور نظر رکھني چاہيے- آپ نے سفارتکاري کي پيچيدگيوں کي طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمايا کہ سفارتکاري کا ميدان، مذاکرات کي خواہش اور مذاکرات کا ميدان ہے ليکن يہ سارے کام بنيادي چيلنج کے تناظر ميں آنے چاہيں- آپ نے داخلي اور خارجي ميدانوں ميں صحيح اور منطقي پاليسيوں کي حمايت کرتے ہوئے فرمايا کہ فاتحانہ لچک جو بنيادي شرائط پر مبني ہو بعض موقعوں پر ضروري ہوتي ہے- آپ نے فرمايا کہ ملت ايران منطق اور علمي راستے پر آگے بڑھ رہي ہے ليکن دشمن اپنے ذاتي تضاد کي بنا پر پسپا ہونے پرمجبور ہے گرچہ وہ اس کا اعتراف نہ کرے اور اس صف آرائي ميں کاميابي اس کے نصيب ميں ہوگي جو منطق اور علمي طريقے سے آگے بڑھ رہا ہے۔

 

متعلقہ تحریریں:

بحران شام کے حل کے حوالے سے ايران کي جاري کوششيں

آيت اللہ سيد حسن طاہري خرم آبادي کي تدفين