• صارفین کی تعداد :
  • 2331
  • 7/13/2013
  • تاريخ :

رسول اللہ (ص) اور صالحين سے تبرک و توسل

رسول اللہ (ص) اور صالحین سے تبرک و توسل

اہل تشيع اور اہل سنت کے برعکس، وہابي اصولي طور پر توسل اور تبرک سے ہر حال ميں نہي کرتے ہيں اور اس سنت حسنۂ الہيہ کے معتقدين کو مشرک، مرتد اور کافر سمجھتے ہيں حالانکہ اہل سنت کے منابع حديث ميں اس مہم پر تاکيد اور توسل و تبرک کي تائيد ہوئي ہے:

{انّ حُرمةَ النبي ميتاً كحرمته حياً}1

پيغمبر اکرم (ص) کا احترام وصال کے بعد، زمانۂ حيات کي طرح، ہے-

چنانچہ ہم ان توہين آميز اور نہايت بے بنياد وہابي شبہات کے جواب ميں ابتداء ميں تاريخي مستندات کا حوالہ ديتے ہيں اور بعض صحابہ اور اہل سنت کے اکابرين کي روش اور عمل سے استناد کرتے ہيں-

رسول اللہ (ص) سے صحابہ کا تبرک اور توسل اور آپ (ص) کي قبر شريف کا احترام شعائر اللہ کي تعظيم کا مصداق ہے اور آيات کريمہ اس عمل کي تائيد کرتي ہيں- خداوند متعال نے فرمايا:

{وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ} ؛2.

اور جو بھي اللہ کے (شعائر) کي تعظيم کرے يہ تعظيم اس کے دلوں کي پرہيزگاري کا نتيجہ ہے-

1- فتح شام کے بعد مدينہ واپسي پر عمر بن خطاب کا سب سے پہلا عمل يہ تھا کہ وہ مسجدالنبي (ص) پہنچے اور رسول اللہ (صلي اللہ عليہ و آلہ) کو پر سلام بھيجا- 3

2- ابن عساکر نقل کرتا ہے: عمر بن خطاب بيت المقدس سے واپسي پر "جابيہ" کے علاقے ميں پہنچے تو بلال نے عمر سے درخواست کي "مجھے شام ميں رہنے ديں"، چنانچہ عمر نے ايسا ہي کيا اور انہيں شام ميں چھوڑ کر گئے- بلال جو رسول اللہ (ص) کے مۆذن تھے، کو خواب ميں ديدار رسول (ص) کا شرف حاصل ہوا اور رسول خدا (ص) نے فرمايا: اے بلال! يہ کيا جفا ہے؟ کيا ابھي وہ وقت نہيں آيا کہ ميري زيارت کے لئے آۆ؟ بلال جاگے تو بہت غمگين اور خائف ہوئے- اپنے مرکب پر سوار ہوئے اور قبر رسول (ص) کي زيارت کے لئے مدينہ منورہ مشرف ہوئے اور رو رو کر اپنا چہرے سے قبر مطہر کو مَس کرنا شروع کيا؛ جب حسن و حسين (عليہما السلام) آئے تو انہيں گلے لگايا اور دونوں کو چوما- 4  (جاری ہے)

 

حوالہ جات:

1- سبل الهدى و الارشاد،ج 11،ص 439

2- سوره حج (22) آيه 32

3- شفاءالسقام ص 44

4- اسد الغابة ج1 ص 208

 

ترجمہ و تحریر: محمد حسین حسینی

 


متعلقہ تحریریں:

رسول (ص ) کے صحابي کي قبر کي بےحرمتي

کربلا کے متعلق تحقيقي مواد اور مدارس کي ذمہ داري