• صارفین کی تعداد :
  • 4217
  • 9/5/2012
  • تاريخ :

جمع قرآن سے متعلق متضاد اور متصادم روايات

قراآن کریم

حديث رسول کي روشني ميں قرآن آپ کے حيات طيبہ ہي ميں مرتب ہونے کي دليل

 حيات پيغمبر ہي ميں قرآن کے مرتب ہونے پر قرآني دلائل

قرآني آيات اور سورتوں کي ترتيب

قرآن مجيد کي جمع آوري

١)-”‌زيد بن ثابت سے مروي ہے کہ”‌ابوبکر اور عمر کے حکم پر قرآن (خود ) ميں نے جمع کيا-“

2)-”‌ابن شہاب نے حذيفہ يماني سے نقل کيا ہے کہ عثمان نے زيد بن ثابت ،عبد اللہ بن زبير،سعيد ابن عاص،اور عبد الرحمن ابن حرث کو حکم ديا کہ قرآن جمع کريں-

3)-ابن شيبہ نے حضرت علي  - سے نقل کيا ہے کہ آپ نے فرمايا:کہ سب سے زيادہ اجر والے ابوبکر ہيں اس لئے کہ وہ پہلے شخص ہيں کہ جنھوں نے قرآن جمع کيا-

4)-سالم بن عبد اللہ سے مروي ہے کہ ابوبکر نے قرآن کو کاغذوں ميں جمع کيا اور عثمان نے اس کام کو تکميل تک پہنچايا-

5)-يحييٰ بن عبد الرحمن کہتے ہيں کہ عمر نے قرآن جمع کرنے کا ارادہ کيا اور لوگوں ميں اعلان کيا کہ جس کے پاس قرآن ہو وہ ہم تک پہنچائے-  (صحيح بخاري باب جمع قرآن)

چنانچہ روايات کا ايک حصہ يہ بتاتا ہے کہ قرآن ،عثمان ابن عفان کے زمانہ ميں جمع ہوا- جبکہ کچھ روايات يہ بتاتي ہيں کہ قرآن ابوبکر کے زمانہ ميں جمع ہوا- بعض روايات بتاتي ہيں کہ قرآن عمر کے زمانہ ميں جمع ہوا-

اس کے علاوہ جمع کرنے والے افراد کے بارے ميں بھي روايات ميں شديد اختلاف ہے -ان روايات ميں تضاد اور تناقص خود اپني جگہ اس امر ميں مانع ہے کہ ان ميں سے کس کو ترجيح دي جائے جب کہ يہ روايات متضاد اور ايک دوسرے سے متصادم ہونے کے علاوہ خود ان روايات سے بھي معترض ہيں کہ جن ميں يہ وارد ہوا ہے کہ قرآن خود پيغمبرد اکرم  (ص)  کے زمانہ ميں جمع ہوا ہے-

زمانہ حيات رسول ہي ميں قرآن کے مرتب شدہ ہونے کے عقلي دلائل

1) - آيات قرآني،حديث اور سيرت پيغمبر اکرم  (ص)  کے علاوہ خود عقل بھي اس بات کو تسليم نہيں کرتي کہ خدا کا وہ آخري پيغمبر  کہ جو معمول سے مسئلہ حتٰي کہ کسي کو ناجائز ہلکي سي خراش پہنچانے کي ديت کے احکام کي اہميت کو بھي وضاحت سے بيان فرماکر دنيا سے رخصت ہو وہ ترتيب قرآن جيسے اہم کام اور ذمہ داري کو دوسروں پر چھوڑ کر اس دنيا سے کوچ کر جائے يہاں تک کہ اس کو اس ضمن ميں کوئي ہدايت بھي نہ کرے اور اس کتاب خدا کو کہ جسے رہتي دنيا تک انسانيت کي ہدايت اور سعادت کے لئے خدا وند عالم نے ہميشہ باقي رہنے والا معجزہ بنا کر عنايت کيا ہو، اس کو امت کے رحم و کرم پر چھوڑ کر دنيا سے چلا جائے اور پھر امت کو بھي سالہا سال گزرنے کے بعد اس کي تدوين و ترتيب کا احساس پيدا ہو-

2)-اس کے علاوہ مسلمانوں کے تمام فرقے اس بات پر متفق ہيں کہ قرآن ہر قسم کي تحريف ،زيادتي اور نقص سے محفوظ ہے اگر قرآن زمانہ حيات پيغمبر ہي ميں جمع      شدہ نہ ہوتا اور آنحضرت (ص)  کے بعد جمع کيا جاتا تو اس کا اس زمانہ ميں ہم تک من و عن پہنچنا اور کسي کمي و بيش سے محفوظ  رہنا بعيد از عقل ہے -

لہٰذا علماء شيعہ کے نزديک يہ مسلم ہے کہ قرآن خود حيات پيغمبر اکرم (ص)  ہي ميں جمع کيا جا چکا تھا - اس کي ترتيب کو کسي اور سے منسوب کرنا چاہے اسے عثمان سے منسوب کيا جائے يا حضرت علي (ع) سے محض غلط ہے - جہاں تک حضرت علي عليہ السلام کے قرآن جمع کرنے کا تعلق ہے تو حضرت  نے شان نزول اور اس کي مصاديق کے لحاظ سے اسے جمع کيا ہے-

اور عثمان کے جمع قرآن سے مراد يہ ہے کہ ايک عرصہ گزر نے کے بعد لوگوں نے کلمات قرآن کو اس کے مرادف الفاظ ميں تبديل کرکے قرات ميں اختلاف کرنا شروع کيا اور يہ اختلاف يہاں تک پہنچا کہ ايک دوسرے کي قرات پر الزام و تکفير شروع کر دي - ہر ايک گروہ نے اپنے لئے ايک عليٰحدہ مصحف ايجاد کيا جسے مصحف عبداللہ ابن مسعود ، مصحف عبداللہ ابن عباس ، مصحف حفصہ، مصحف عائشہ، اور  ديگر مصاحف -

عثمان نے ان تمام مصاحف کو ختم کر کے اصل مصحف جو  پيغمبر اکرم  (ص)  کے زمانہ ميں قرات شدہ قرآن تھا اس کو رائج رکھا-

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان