• صارفین کی تعداد :
  • 5350
  • 6/27/2012
  • تاريخ :

استاد عبدالباسط کے حالات زندگي ان کي اپني زباني  ( حصّہ چہارم )

استاد عبدالباسط

سال 52 ميں جب مجھے پہلي بار حج پر جانے کي  سعادت نصيب ہوئي تو وہاں پر ميري تلاوت  کي کيسٹ بھي ريکارڈ کي گئي - اس وقت ميري تلاوت پر شيخ مصطفي اسماعيل ، مرحوم شيخ شعشاعي اور شيخ رفعت جيسے قاري حضرت کے اثرات  تھے - يہ ايک بنيادي قاعدہ ہے کہ جب بھي قرآن پاک کو دل سے پڑھا جاۓ تو دل کو اچھا لگتا ہے اور خود قاري پر بھي اثر انداز ہوتا ہے - ميں قرآن کو ايک خاص انداز ميں پڑھا کرتا تھا اور يہ انداز ميں نے کسي سے نہيں اپنايا تھا - ميں نے سنا ہے کہ اس مخصوص روش کو اب مصر ، ملائشيا ، انڈونيشيا  اور دوسرے مقامات پر اپنايا گيا ہے - مجھے بڑي خوشي ہوئي ہے کہ کوئي ميري تقليد کر رہا ہے ليکن ساتھ ہي ميں تقليد کرنے کي حوصلہ ا‌فزائي نہيں کروں گا کيونکہ تقليد کي عمر چھوٹي ہوتي ہے اور تقليد کرنے والا شخص جلد ہي دوسرے قاري حضرات کي تقليد کرکے تھک جاتا ہے - قرآن کي تلاوت کو ترقي دينے  اور اس کام کو جاري رکھنے کے ليۓ ضروري ہے کہ ہر قاري اپنے ليۓ مخصوص طرز  تلاوت اپناۓ -

دوسري طرف  اچھي آواز   قدرت کا ايک تحفہ ہوتي ہے اور مائيکروفون تو صرف ايک وسيلہ ہوتا ہے جو آواز ميں ايک قوت پيدا کرتا ہے اور اسے  دور دور تک لوگوں  تک پہنچانے ميں مدد ديتا ہے - اس ليۓ آواز کا خوب ہونا بھي بہت ضروري ہوتا ہے -

قرآن کا قاري کسي اسٹوڈيو ميں بيٹھ کر جہاں  ناظرين  يا  سامعين کے ليے تلاوت کر سکتا ہے وہيں کسي مجلس ميں موجود حاضرين کے سامنے بيٹھ کر بھي تلاوت کر سکتا ہے - بعض اوقات اچھي قرآت کے ليۓ اسٹوڈيو موزوں جگہ ہوتي ہے  اور بعض اوقات کسي مجلس ميں حاضرين کے سامنے - يہ سب قاري  کي حالت پر منحصر ہوتا ہے - قرآن کي تلاوت کرتے ہوۓ رحمتوں کا نزول ہوتا ہے - فرشتے نازل ہوتے ہيں اور وہاں اللہ کي رحمت برستي ہے - مسجد ميں تلاوت کرتے ہوۓ انسان کو احساس ہوتا ہے کہ ايک نوراني فضا  ارد گرد چھائي ہوئي ہے -

تحرير: سيد اسد الله ارسلان


متعلقہ تحريريں:

سيد قطب شہيد