• صارفین کی تعداد :
  • 1519
  • 3/23/2012
  • تاريخ :

حضرت اميرالمۆمنين علي بن ابيطالب (ع) کي ولايت و امامت 1

من کنت مولاه فهذا علي مولاه

ايت اللہ العظمي حسين مظاہري

اميرالمۆمنين علي ابن ابي طالب سلام اللہ عليہ کي امامت و ولايت بلافصل کے اثبات کے لئے ايک ہزار سے زائد دليليں پيش کي گئي ہيں اور بزرگ شيعہ و سني علماء نے اس سلسلے ميں مستقل کتابيں تحرير کي ہيں؛ جيسے شيعہ علماء کي عبقات الانوار (السيد حامد حسين النقوي اللكھنوى)، المراجعات (علامہ سيد عبدالحسين شرف الدين العاملي)، الغدير(علامہ عبدالحسين اميني)، اور احقاق الحق (علامہ شہيد سيد نوراللہ التستري) وغيرہ اور سني علماء کي ينابيع المودة (الشيخ الحافظ سليمان البلخي القندوزي الحنفي) فصول المہمہ (نور الدين المالكي)، اور شرح نہج البلاغہ (وعز الدين ابن أبي الحديد المعتزلي) وغيرہ- ان کتابوں ميں بے شمار دليليں دي گئي ہيں ليکن ہم يہاں صرف تين دليلوں پر روشني ڈالتے ہيں:

دليل اول: اميرالمۆمنين عليہ السلام ہر لحاظ سے بالخصوص علمي لحاظ سے سب پر مقدم ہيں اور اگر آيت مباہلہ کے سوا اميرالمۆمنين (ع) کي فضيلت کي کوئي دوسري علامت نہ بھي ہوتي جس ميں اللہ تعالي نے آپ (ع) کو نفسِ رسول (ص) قرار ديا تو يہي ايک آيت يہ ثابت کرنے کے لئے کافي تھي کہ علي عليہ السلام افضل مخلوقات ہيں؛ خداوند متعال اس آيت ميں ارشاد فرماتا ہے: "فَمَنْ حاجَّكَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جائَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوا نَدْعُ اَبْنائَنا وَ اَبْنائَكُمْ وَ نِسائَنا وَ نِسائَكُمْ وَ اَنْفُسَنا وَ اَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْكاذِبينَ" (1)

اب جو شخص اس بارے ميں آپ سے کٹ حجتي کرے‘ اس کے بعد کہ يہ علمي دلائل آپ کے پاس آگئے، تو کہہ ديجيے کہ آۆ!ہم بلاليں اپنے بيٹوں کو اور تمہارے بيٹوں کو اور اپني عورتوں کو اور تمہاري عورتوں کو اور اپنے نفسوں کو اور تمہارے نفسوں کو- پھر التجا کريں اور جھوٹوں پر اللہ کي لعنت قرار ديں-

.............

مآخذ:

1-‌ سورہ آل عمران آيت 61-


متعلقہ تحريريں:

حضرب زہراء (س) کے خطبوں ميں ولايت اميرالمۆمنين (ع) 3