• صارفین کی تعداد :
  • 2539
  • 6/21/2011
  • تاريخ :

سورهء يوسف (ع) کي آيت نمبر 88-91  کي تفسير

بسم الله الرحمن الرحیم

اس آسان و عام فہم تفسير ميں ہمارا سلسلۂ گفتگو سورۂ يوسف ( ع) کي آيت اٹھاسي تک پہنچ چکا ہے چنانچہ زمانۂ قحط ميں حضرت يوسف ( ع) کے بھائيوں نے حضرت يعقوب (ع) کي تاکيد پر کہ رحمت خدا سے مايوس ہونے کي ضرورت نہيں ہے ايک بار پھر مصر کا سفر کرو ممکن ہے وہاں يوسف (ع) کا بھي سراغ مل جائے اور بنيامين کو بھي نجات حاصل ہوجائے ميں تم سب بھائيوں کو يہاں اپنے پاس ايک ساتھ ديکھنا چاہتا ہوں ان لوگوں نے مصر کا تيسرا سفر کيا اور سورۂ يوسف ( ع) کي آيت اٹھاسي کے مطابق :  " فلمّا دخلوا عليہ قالوا يا ايّہا العزيز مسّنا و اہلنا الضّرّ وجئنا ببضاعۃ مّزجاۃ فاوف لنا الکيل و تصدّق علينا انّ اللہ يجري المتصدّقين -" پھر يہ سب ( برادران يوسف ع ) جب ( يوسف ع ) کے پاس پہنچے تو کہنے لگے اے عزيز! ہم اور ہمارے اہل خاندان بڑي تکليف ميں ہيں اور ايک معمولي سے سرمائے کے ساتھ آئے ہيں آپ ہميں ہمارے حصے کا پورا پورا غلہ ديديجئے اور لطف و بخشش سے کام ليجئے اللہ خيرات و بخشش کرنے والوں کو اچھا بدلا ديتا ہے - عزيزان محترم ! تيسري مرتبہ حضرت يوسف (ع) کے بھائيوں نے کنعان سے مصر کا سفر کيا اور يوسف (ع) کے دربار ميں پہنچے تو آيت کے لب و لہجے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے يہاں عاجزي اور درماندگي کي کيفيت تھي اسي لئے عزيز مصر کے سامنے وہ اپنے اور اپنے خاندان کي تکليف اور پريشاني کا اظہار کرتے ہوئے اپني بے بضاعتي کا بھي اعلان کرديتے ہيں اور عزيز مصر کے لطف و کرم اور عطا ؤ بخشش کے اميدوار نظر آتے ہيں گويا حالات نے ان کو توڑديا ہو ، البتہ اس التجا ميں يہ خواہش بھي پنہاں تھي کہ ہمارے پاس جب اپنے حصے کے برابر غلے کي قيمت ادا کرنے کي پونچي نہيں ہے اور ہم آپ کے لطف کے اميدوار بن کر آئے ہيں تو اپنے بھائي بنيامين کو آزاد کرانے کي قوت کہاں سے پيدا کرسکتے ہيں ان کي نجات اور رہائي بھي آپ کے ہي رحم و کرم پر ہے -ظاہر ہے بھائيوں کي يہ عاجزي و ناتواني اور باپ کے بڑھاپے اور بے بسي کے تصور نے حضرت يوسف (ع) کے دل کو بے قابو کرديا آنکھيں آنسوؤں سے بھر آئيں اور انکشاف حقيقت پر مجبور ہوگئے چنانچہ سورۂ يوسف (ع) کي آيت اناسي کے مطابق : قال : ہل علمتم مّا فعلتم بيوسف و اخيہ اذ انتم جاہلون ( جناب يوسف ع نے ) کہا : کيا آپ لوگوں کو معلوم ہے آپ نے يوسف اور اس کے بھائي کے ساتھ اپني جہالت و ناداني کي حالت ميں کيا برتاؤ کيا ہے ؟ !گويا بھائيوں کے سامنے ان کي تمام کوتاہيوں اور زيادتيوں کو گنائے بغير کہ انہوں نے کس طرح ايک باپ سے اس کے عزيز بيٹے کو جدا کرديا ، کنويں ميں ڈال کر بھيڑيے کا نوالہ بن جانے کا بہانہ بنايا اور باپ کا دل دکھايا اور خود بھائي کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑديا جس نے اس کو غلام کي طرح بازار ميں بکنے اور ايک ناروا الزام کے تحت جيل جانے پر مجبور کيا اور ايک ايسے باپ پر جو خدا کا نبي تھا بيٹے کي محبت ميں گمراہ ہوجانے کا الزام لگايا يا پھر دوسرے بھائي پر چوري کے لگے الزام کا نہ صرف يہ کہ دفاع نہيں کيا بلکہ اس پر اور اس کے گم شدہ بھائي پر بھي چوري کا الزام لگاديا ان تمام باتوں کو حذف کرکے خود بھائيوں کو يوسف (ع) سے متعلق معني دار انداز ميں ايک سوال کرکے اپنے غلط کاموں کي رف متوجہ ہونے کا موقع فراہم کيا اور اس ميں بھي يہ کريمانہ انداز اپنايا کہ ان سے کہديا آپ لوگوں نے اپنے بھائي يوسف (ع) اور بنياميں کے ساتھ تمام زيادتياں جہالت و ناداني ميں انجام دي ہيں چنانچہ يہ کہے بغير کہ ميں ہي آپ لوگوں کا بھائي يوسف (ع) ہوں ، جس کے آپ سب خطا کار ہيں ان کو يہ باور کراديا کہ ميں ان کے بھائي يوسف اور بنيامين کي سر گذشت سے پوري طرح آگاہ ہوں اسي لئے عزيز مصر کي زباني يوسف (ع) اور ان کے بھائي کا ذکر سن کر انہيں حيراني ہوئي اور انہوں نے بڑے غور سے ان کي طرف ديکھا کہ کہيں عزيز مصر ہي يوسف (ع) تو نہيں ہيں آخر انہيں يوسف (ع) کے بارے ميں کيسے علم ہوگيا ؟!چنانچہ سورۂ يوسف (ع) کي آيت نوے کے مطابق : قالوا انّک لانت يوسف قال انا يوسف و ہذا اخي قد منّ اللہ علينا انّہ من يّتّق و يصبر ، فانّ اللہ لا يضيع اجر المحسنين -( يوسف ع کے بھائيوں نے ) پوچھا آيا آپ ہي يوسف (ع) تو نہيں ہيں ؟ ( جواب ميں يوسف ع نے ) کہا ميں ہي يوسف (ع) ہوں اور يہ ميرا بھائي ہے ، خدا نے ہم پر بڑا احسان کيا ہے ( اور ) جو بھي تقوے اور صبر سے کام لے ( تو ) اللہ نيکوکاروں کے اجر کو ضايع نہيں جانے ديتا عزيزان گرامي ! آپ نے ملاحظہ فرمايا جناب يوسف (ع) نے کس طرح اپنے ايک معني دار سوال کے ذريعہ بھائيوں کو اپني طرف متوجہ کرليا اور وہ سمجھ گئے کہ ہونہ ہو عزيز مصر ہي يوسف (ع) ہيں ورنہ انہيں يوسف (ع) کي خبر کہاں سے ملي اور انہوں نے اپنے شبہ کو يقين ميں بدلنے کے لئے جب يوسف (ع) کي طرف پوري توجہ سے ديکھا تو يوسف (ع) کا چہرہ بھي ياد آگيا اور انہوں نے پوچھ ليا کيا آپ يوسف (ع) تو نہيں ہيں ؟ اور حضرت يوسف عليہ السلام نے بھي اب يہ راز مزيد مخفي رکھنے کي ضرورت نہيں سمجھي اور کہديا ہاں ميں ہي يوسف (ع) ہوں اور يہ بنيامين ميرا ہي بھائي ہے اور يہ ہمارے اللہ کا ہم لوگوں پر بڑا لطف و احسان ہے کہ اس نے اس مقام تک پہنچا ديا اور ہم سب ايک بار پھر يہاں ايک ساتھ ہيں اس نے مجھ کو ميرے بھائيوں سے جدا نہيں ہونے ديا يہ اللہ کا بڑا احسان ہے -البتہ حضرت يوسف (ع) نے اس نازک مرحلے ميں بھي اپني الہي نبوت کے فريضے کو فراموش نہيں کيا اپنے بھائيوں کو نصيحت کرتے ہوئے متوجہ کرديا کہ اگر کوئي انسان تقوے اور پرہيزگاري کے ساتھ دين و ايمان کي راہ ميں صبر و استقامت سے کام لے تو اللہ نيکوکاروں کے اجر کو ضائع نہيں کرتا اللہ نے آپ لوگوں کي زيادتيوں کے جواب ميں مجھے تقوے اور صبر کي قوت دے کر اس مقام تک پہنچا ديا کہ آج وہي بھائي کہ جس سے آپ کڑھتے اور حسد کرتے تھے آپ کے محسن اور معطي کے طور آپ کے سامنے کھڑا ہے -ظاہر ہے يوسف (ع) کا يہ رويہ بھائيوں کي اصلاح اور شرمندگي کا باعث بنا انہوں نے سر جھکاليا مگر يوسف (ع) نے بڑھ کر بھائيوں کو گلے سے لگاليا اور شايد يہي داستان يوسف (ع) کا وہ سب سے حسين و دلنواز منظر ہے جہاں يوسف (ع) کے بھائيوں کي آنکھوں ميں اشک ندامت اشک شوق کي صورت اختيار کرليتے ہيں -اور سورۂ يوسف (ع) کي آيت اکيانوے کے مطابق : قالوا تاللہ لقد اثرک اللہ علينا و ان کنّا لخاطبين ( يوسف ع کے بھائيوں نے ) کہا اللہ کي قسم! اللہ نے تم کو ہم پر برتري دي ہے اور يقينا" ہم سب خطاکار ہيں -عزيزان گرامي ! ديکھا آپ نے يوسف عليہ السلام کي پيغمبرانہ شان نے اپنے حاسد بھائيوں کو اپنا گرويدہ بناليا يوسف عليہ السلام کي کريمانہ رفتار نے بھائيوں کو اتنا پشيمان کيا کہ انہوں نے اپني خطا کے اعلان سے پہلے يوسف (ع) کي برتري کا اعلان کيا اور وہ بھي قسم کھاکے کہ اللہ نے آپ کو ہم پر برتري دي ہے اگر ہمارے باپ آپ کو زيادہ چاہتے تھے تو يہ آپ کا حق تھا ہم کو اس پر جلنا اور کڑھنا نہيں چاہتے تھے يقينا" ہم لوگوں سے بڑي خطا ہوئي ہے ہم اپنے خطاکار ہونے کا اقرار کرتے ہيں -اور اب زير بحث آيات سے جو سبق ملتے ہيں ان کا ايک خلاصہ :

غربت اور محتاجي انسان کے غرور کو چور کرديتي ہے يوسف (ع) کے بھائيوں نے کبھي کہا تھا " ہم سب ايک قوي و توانا گروہ کي شکل رکھتے ہيں " اور ہمارے مقابلے ميں يوسف (ع) کو ترجيح دينا معاذاللہ يعقوب (ع) کي جہالت ہے ايک دن وہ آتا ہے کہ عاجزي اور بے چارگي کے ساتھ عزيز مصر کے سامنے لطف و کرم کي بھيک مانگتے نظر آتے ہيں لہذا قوت اور تعداد پر اکٹرنا ، سر پر غرور کو ايک نہ ايک دن نيچا کرديتا ہے-

انسان کو نيکي اور احسان سے کام لينا چاہئے کيونکہ اللہ نيکوکاروں کو ہميشہ اچھا بدلا ديتا ہے -

ظلم و ستم خصوصا" عزيز و اقارب کے ساتھ انسان کو کبھي چين کي نيند نہيں لينے ديتا کسي نہ کسي دن ظلم کا انجام سامنے آتا ہے اور انسان اپنے کئے پر شرمندہ ہوتا ہے -

جواں مردي انتقام ميں نہيں بلکہ قدرت و طاقت حاصل ہونے کے بعد خطاکار کو بخشش دينے ميں ہے مظلوم کا کريمانہ برتاؤ ظالم کو شرمندگي کے ساتھ ہميشہ کے لئے اپنا دوست  بھي بناليتا ہے -

بہت سے تاريخي حقائق وقت گزرنے کے ساتھ آشکارا ہوتے ہيں اور جو چيز ہميشہ پائدار رہي ہے حق و حقيقت ہے ورنہ باطل ايک سراب کے سوا کچھ نہيں ہے -

حکومت و امامت کا حق اسي کو حاصل ہے جو ناگوار حادثوں کو خوشي کے ساتھ تحمل کرسکے اور انتقام و کينہ کے جذبوں سے پاک ہوکر رحم و مروت سے کام لے سکے-

اگر حق روشن ہونے کے بعد گناہ کا اعتراف کرليں اور خود کو خطاکار مان کر معافي طلب کريں تو ممکن ہے خدابھي گناہ معاف کردے -

بشکریہ آئی آر آئی بی


متعلقہ تحریریں:

سورۂ یوسف ( ع) کی آيت نمبر 78-79  کی تفسیر
سورۂ یوسف ( ع) کی آيت نمبر 77 کی تفسیر

سورۂ یوسف ( ع) کی آيت نمبر 76 کی تفسیر
سورۂ یوسف کی آیت نمبر 70 کی تفسیر
سورۂ یوسف کی آیت نمبر 69 کی تفسیر