• صارفین کی تعداد :
  • 634
  • 6/15/2011
  • تاريخ :

علاءالدين بروجردي : برطانيہ کو بولنے کا حق نہيں

علاءالدين بروجردي

اسلامي جمہوريہ ايران کي پارلمنٹ ميں قومي سلامتي اور خارجہ پاليسي کميشن کے سربراہ علاءالدين بروجردي نے کہا ہے کہ برطانوي حکومت اپنے سياہ کارناموں کي وجہ سے ملت ايران کے بارےميں کوئي بات کہنے کا حق نہيں رکھتي۔

ابنا: علاء الدين بروجردي نےبر طانوي وزارت خارجہ کے اس بيان کي طرف اشارہ کيا جسميں الزام لگايا گيا ہے کہ ايران ميں انساني حقوق کي خلاف ورزي ہورہي ہے اور ايران ديگر ملکوں کے امور ميں مداخلت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانيہ نے مشرق وسطي اور ايران ميں نہايت سياہ کارنامے انجام دئے ہيں اور يہ موضوع اس قدربے وقعت ہے کہ اس پر بات بھي نہيں کي جا سکتي۔ انہون نے گذشتہ تيس برسوں ميں ملت ايران کے خلاف برطانيہ کي سازشوں کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ برطانيہ نے ہي سب سے پہلے ايم کے او گروہ کا نام دہشتگردوں کي فہرست سے نکالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ايسے جرائم کے پيش نظر ہي ايران اور علاقے کي قوميں برطانيہ سے نفرت کرتي ہيں۔

علاء الدين بروجردي نے کہا کہ علاقے کي تحريکوں کے بارے ميں قوموں کو فيصلہ کرنا چاہيے نہ کہ بوڑھے سامراج برطانيہ کوجو قوموں کے لئے ماضي ميں بھي مصيبت تھا اور آج بھي ہے۔

انہوں نے کہا کہ امريکہ ، صيہوني حکومت اور برطانيہ کے دباو کےباوجود ملت مصر ايران سے تعلقات قائم کرنا چاہتي ہے اور سامراجي ملکوں کي مرضي کے برخلاف آج گذرگاہ رفح کھلي ہوئي ہے ۔ انہوں نے کہا ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ علاقے کي قوميں ايران سے قريب آنا چاہتي ہيں۔