• صارفین کی تعداد :
  • 3034
  • 4/4/2011
  • تاريخ :

انجام بخیر

مسکراہٹ

منظر۔۔ ایک تنگ و تاریک کمرہ جس میں بجز ایک پرانی سی میز اور لرزہ براندام کرسی کے اور کوئی فرنیچر نہیں۔

زمین پرایک چٹائی بچھی ہے جس پر بےشمار کتابوں کا انبار لگا ہے۔ اس میں سے جہاں جہاں کتابوں کی پشتیں نظر آتی ہیں وہاں شیکسپیئر، ٹالسٹائے، ورڈزورتھ و غیرہ مشاہیر ادب کے نام دکھائی دے جاتے ہیں۔ باہر کہیں پاس ہی کتے بھونک رہے ہیں۔ قریب ہی ایک برات اُتری ہوئی ہے۔ اس کے بینڈ کی آواز بھی سنائی دے رہی ہے جس کے بجانے والے دق، دمہ، کھانسی اور اس کے دیگر امراض میں مبتلا معلوم ہوتے ہیں۔ ڈھول بجانے والے کی صحت البتہ اچھی ہے۔

پطرس نامی ایک نادار معلم میز پر کام کر رہا ہے۔ نوجوان ہے لیکن چہرے پر گزشتہ تندرستی اور خوش باشی کے آثار صرف کہیں کہیں باقی ہیں، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑے ہوئے ہیں۔ چہرے سے ذہانت پسینہ بن کر ٹپک رہی ہے۔ سامنے لٹکی ہوئی ایک جنتری سے معلوم ہوتا ہے کہ مہینے کی آخری تاریخ ہے۔

باہر سے کوئی دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ پطرس اُٹھ کر دروازہ کھول دیتا ہے۔ تین طالب علم نہایت اعلیٰ لباس زیب تن کئے اندر داخل ہوتے ہیں۔

پطرس۔۔ حضرات اندر تشریف لے آئیے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ میرے پاس صرف ایک کرسی ہے۔ لیکن جاہ و حشمت کا خیال بہت پوچ خیال ہے۔ علم بڑی نعمت ہے، لہذا اے میرے فرزندو، اس انبار سے چند ضخیم کتابیں انتخاب کرلو اور ان کو ایک دوسرے کے اوپر چُن کر ان پر بیٹھ جاؤ۔ علم ہی تم لوگوں کا اوڑھنا اور علم ہی تم لوگوں کا بچھونا ہونا چاہیئے۔

(کمرے میں ایک پر اسرار سا نور چھا جاتا ہے۔ فرشتوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سنائی دیتی ہے)۔

طالب علم۔۔ (تینوں مل کر) اے خدا کے برگزیدہ بندے۔ اے ہمارے محترم استاد۔ ہم تمہارا حکم ماننےکو تیار ہیں۔ علم ہی ہم لوگوں کا اوڑھنا اور علم ہی ہم لوگوں کا بچھونا ہونا چاہیئے۔

(کتابوں کو جوڑ کر ان پر بیٹھ جاتے ہیں)

پطرس۔۔ کہو اے ہندوستان کے سپوتو! آج تم کو کون سے علم کی تشنگی میرے دروازے تک کشاں کشاں لے آئی؟

پہلا طالب علم۔۔ اے نیک انسان! ہم آج تیرے احسانوں کا بدلہ اتارنے آئے ہیں۔

دوسرا طالب علم۔۔ اے فرشتے! ہم تیری نوازشوں کا ہدیہ پیش کرنے آئے ہیں۔

تیسرا طالب علم۔۔ اے مہربان! ہم تیری محنتوں کا پھل تیرے پاس لائے ہیں۔

پطرس۔۔ یہ نہ کہو! خود میری محنت ہی میری محنت کا پھل ہے۔ کالج کے مقرر اوقات کے علاوہ جو کچھ میں نے تم کو پڑھایا اس کا معاوضہ مجھے اس وقت وصول ہوگیا جب میں نے تمہاری آنکھوں میں ذکاوت چمکتی دیکھی۔ آہ! تم کیا جانتے ہو کہ تعلیم وتدریس کیسا آسمانی پیشہ ہے۔ تاہم تمہارے الفاظ سے میرے دل میں ایک عجیب مسرت سی بھر گئی ہے۔ مجھ پر اعتماد کرو۔ اور بالکل مت گھبراؤ۔ جو کچھ کہنا ہے تفصیل سے کہو۔

پہلا طالب علم۔۔ (سروقد اور دست بستہ کھڑا ہو کر) اے محترم استاد!ہم علم کی بےبہا دولت سے محروم تھے، درس کے مقررہ اوقات سے ہماری  پیاس نہ بجھ سکتی تھی۔ پولیس اور سول سروس کے امتحانات کی آزمائش کڑی ہے۔ تو نے ہماری دستگیری کی اور ہمارے تاریک دماغوں میں اجالا ہوگیا۔ مقتدر معلم! تو جانتا ہے، آج مہینے کی آخری تاریخ ہے، ہم تیری خدمتوں کا حقیر معاوضہ پیش کرنے آئے ہیں۔ تیرے عالمانہ تجربے اور تیری بزرگانہ شفقت کی قیمت کوئی ادا نہیں کرسکتا۔ تاہم اظہار تشکر کے طور پر جو کم مایہ رقم ہم تیری خدمت میں پیش کریں اسے قبول کر کہ ہماری احسان مندی اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔

پطرس۔۔ تمہارے الفاظ سے ایک عجیب بےقراری میرے جسم پر طاری ہوگئی ہے۔

(پہلے طالب علم کا اشارہ پا کر باقی دو طالب علم بھی کھڑے ہوجاتے ہی۔ باہر بینڈ یک لخت زور زور سے بجنے لگتا ہے)۔

پہلا طالب علم۔۔ (آگے بڑھ کر) اسے ہمارے مہربان مجھ حقیر کی نذر قبول کر۔ (بڑے ادب واحترام کے ساتھ اٹھنی پیش کرتا ہے)

دوسرا طالب علم۔ ۔ (آگے بڑھ کر) اسے فرشتے میرے ہدیےکو شرف قبولیت بخش۔ (اٹھنی پیش کرتا ہے)

تیسرا طالب علم۔۔ (آگے بڑھ کر) اے نیک انسان مجھ ناچیز کو مفتخر فرما۔ (اٹھنی پیش کرتا ہے)۔

پطرس۔۔ (جذبات سے بےقابو ہو کر رقت انگیز آواز سے) اے میرے فرزندو! خداواند کی رحمت تم پر نازل ہو۔ تمہاری سعادت مندی اور فرض شناسی سے میں بہت متاثر ہوا ہوں۔ تمہیں اس دنیا میں آرام اور آخرت میں نجات نصیب ہو۔ اور خدا تمہارے سینوں کو علم کے نور سے منور رکھے۔ (تینوں اٹھنیاں اُٹھا کر میز پر رکھ لیتا ہے)۔

طالب علم۔۔ (تینوں مل کر) الله کے برگزیدہ بندے ہم فرض سے سبکدوش ہوگئے۔ اب ہم اجازت چاہتے ہیں کہ گھر پر ہمارے والدین ہمارے ليے بےتاب ہوں گے۔

پطرس۔۔ خدا تمہارا حامی و ناصر ہو اور تمہاری علم کی پیاس اور بھی بڑھتی رہے۔

(طالب علم چلے جاتے جاتے ہیں)۔

      تحریر : پطرس بخاری

          کتاب کا نام   :  پطرس کے مضامین

       پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

روپ

شوہر بیگم

ریل

بس

لڈو