• صارفین کی تعداد :
  • 2424
  • 4/4/2011
  • تاريخ :

كتاب آسمانی سے  مراد کیا ہے؟ (حصّہ دوّم)

آسمانی کتاب

اس سلسلہ میں جو تقسیم بندی كی گئی  ہے وہ معاشرہ كے اكثریت كو دیكھ كر كی گئی  ہے لیكن ھر زمانہ اور ھر معاشرہ میں كچھ لوگ ایسے پائے جاتے  ہیں جو دوسروں سے متفاوت  ہیں وہ لوگ كمی یا كیفی لحاظ سے حد اقل اور حد اكثر كے كسی ایك رتبہ پر ھوتے  ہیں، مثال كے طورپر زیادہ ترلوگ قد كے لحاظ سے زیادہ متفاوت نہیں  ہیں لیكن كچھ لوگ ایسے بھی مل جائیں گے جن كا قد بھت چھوٹا  ہے یا بھت بڑا  ہے۔ كیفی صفات جیسے ذھانت كے لئے بھی یھی قانون نافذ  ہے۔

زیادہ تر لوگ ایك جیسی ذھانت ركھتے  ہیں اور ایك مرتبہ پر پائے جاتے ہیں لیكن كچھ كند ذھن بھی ہیں تو كچھ نابغہ بھی۔ اگر معاشرہ اس طرح سے نہ ھو تو حالت طبیعی سے خارج ہے۔ ایك كلاس روم میں بھی اگر سب كے سب ذھین ھوں یا سب كے سب كند ذھن ھوں تو یہ كلاس حالت طبیعی سے خارج ہے اور زیادہ تر ایسے اجتماعات خاص مشكلات سے دوچار ھوتے  ہیں۔

مقالہ حاضر میں جو رتبہ بندی پیش كی گئی  ہے معاشرہ كے اكثر افراد اس میں شامل  ہیں اور بھت كم ایسے لوگ  ہیں جو ذكركئے گئے كسی بھی رتبہ پرن ہیں آتے  ہیں۔ مقام عمل سے گزرنے كے بعد بھت كم ایسے لوگ  ہیں جو اس رتبہ بندی كے نقطہ كمال تك پھنچے  ہیں كہ دوسرے ان تك پھنچنے سے عاجز  ہیں وہ "راسخین فی العلم"  ہیں كہ جن كی تعداد بھت كم  ہے اور وہ پیغمبر (ص) ائمہ معصومین (ع) اور بعض علماء  ہیں۔ یہ بطن قرآن سے آگاہ  ہیں البتہ سب سے اونچے درجہ پر پیغمبر (ص)  ہیں چونكہ حقیقت قرآن آپ كے قلب مبارك پرنازل ھوئی  ہے۔ "نزل بہ الروح الامین علی قلبك لتكون من المنذرین"۔

علامہ طباطبائی علم اھل بیت (ع) كے سلسلہ میں ایك آیت كی تفسیر میں لكھتے  ہیں كہ اھل بیت ان علوم كو حاصل كرسكتے  ہیں دوسرے جس كے حصول سے عاجز  ہیں، مثلاً آیت "لایمسہ الا المطھرون"  كے بارے میں علامہ طباطبائی چند مقدمہ كے ذریعہ اس طرح نتیجہ گیری كرتے  ہیں۔

1۔ "مس" سے مراد علم قرآن  ہے۔

2۔ مصداق "مطھرون" مقربون  ہیں (اس آیت كے ذیل میں روایت نبوی كے پیش نظر، كہ آنحضرت (ص) نے اسی طرح تفسیر فرمائی  ہے۔)

3۔ مقربون فرشتوں سے اعم  ہے اور اھل بیت كو بھی شامل ھوگا۔

4۔ طھارت سے مراد صرف طھارت ظاھری وباطنی ن ہیں  ہے بلكہ مراد، دلوں كو تمام وابستگی غیر خدا سے پاك كرنا  ہے۔

نتیجہ: قرآن كا علم، صرف ملائكہ كے شامل حال نہیں  ہے اور اھل بیت بھی اس میں شامل  ہیں ۔

 

مصنّف : اصغر ھادوی كاشانی

مترجم  : سید محمد جعفر زیدی

 بشکریہ مجتمع جہانی شیعہ شناسی


متعلقہ تحریریں:

كتاب آسمانی سے  مراد کیا ہے؟

عدم تحريف پر عقلى اور نقلى دليليں

عدم تحريف پر عقلى اور نقلى دليليں ( حصہ دوّم )

قرآن پر عمل اور اس سے متمسك ھونا

فرقہ وارانہ دشمنى كى خاطر اسلام كى جڑوں كو  كھوكھلا نہ كيا جائے