• صارفین کی تعداد :
  • 9797
  • 7/4/2010
  • تاريخ :

تیسری شعبان کا دن

بسم الله الرحمن الرحیم

ماہ شعبان کے مشترکہ اعمال (حصّہ چهارم)

ماہ شعبان کے مشترکہ اعمال (حصّہ پنجم)

ماہ شعبان کے مشترکہ اعمال (حصّہ ششم)

ماہ شعبان کے مشترکہ اعمال (حصّہ هفتم)

یہ بڑا با برکت دن ہے شیخ نے مصباح میں فرمایا ہے کہ اس روز امام حسین (ع) کی ولادت ہوئی نیز امام عسکری (ع) کے وکیل قاسم بن علا ہمدانی کی طرف سے فرمان جاری ہؤا کہ بروز جمعرات ۳ شعبان کو امام حسین (ع) کی ولادت باسعادت ہوئی ہے۔ پس اس دن کا روزہ رکھو اور اس روز یہ دعا پڑھو:

اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَ لُکَ بِحَقِّ الْمَوْلُودِ فِی ھذَا الْیَوْمِ الْمَوْعُودِ بِشَہادَتِہِ قَبْلَ اسْتِھْلالِہِ

اے معبود! بے شک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں آج کے دن پیدا ہونیوالے مولود کے واسطے سے کہ جس کے پیدا ہونے اور دنیا میں

وَوِلادَتِہِ، بَکَتْہُ السَّمائُ وَمَنْ فِیہا، وَالْاَرْضُ وَمَنْ عَلَیْہا، وَلَمَّا یَطَٲْ لابَتَیْہا

آنے سے پہلے اس سے شہادت کا وعدہ لیا گیا تو اس پر آسمان رویا اور جو کچھ اس میں ہے اور زمین اور جو کچھ اس پر ہے روے جبکہ

قَتِیلِ الْعَبْرَۃِ، وَسَیِّدِ الْاُسْرَۃِ، الْمَمْدُودِ بِالنُّصْرَۃِ یَوْمَ الْکَرَّۃِ، الْمُعَوَّض ِ مِنْ

اس نے زمین مدینہ پر قدم نہ رکھا تھا وہ گریہ والا شہید اور کامیاب و کامران خاندان کا سید و سردار ہے رجعت کے دن، یہ اس کی

قَتْلِہِ ٲَنَّ الْاَئِمَّۃَ مِنْ نَسْلِہِ، وَالشِّفائَ فِی تُرْبَتِہِ، وَالْفَوْزَ مَعَہُ فِی ٲَوْبَتِہِ،

شہادت کا بدلہ ہے کہ پاک آئمہ (ع) اس کی اولاد میں سے ہوئے اس کی خاکِ قبر میں شفاء  ہے اور اس کی بازگشت میں کامیابی اسی کے

وَالْاَوْصِیائَ مِنْ عِتْرَتِہِ بَعْدَ قائِمِھِمْ وَغَیْبَتِہِ، حَتّی یُدْرِکُوا الْاَوْتارَ، وَیَثْٲَرُوا الثَّارَ،

لیے ہے اور اوصیاء اسی کی اولاد میں سے ہیں کہ ان میں سے قائم غیبت ختم ہونے کے بعد وہ اپنے خون کا بدلہ اور انتقام لے کر تلافی

وَیُرْضُوا الْجَبَّارَ وَیَکُونُوا خَیْرَ ٲَنْصارٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْھِمْ مَعَ اخْتِلافِ اللَّیْلِ وَالنَّھار

کرنے والے خدا کو راضی کریں گے اور بہترین مددگار ثابت ہوںگے درود ہوان سب پر جب تک رات دن آتے جاتے رہیں

اَللّٰھُمَّ فَبِحَقِّھِمْ إلَیْکَ ٲَ تَوَسَّلُ وَٲَسْٲَلُ سُؤالَ مُقْتَرِفٍ مُعْتَرِفٍ مُسِیئٍ إلی نَفْسِہِ

اے معبود ان کا حق جو تجھ پر ہے اسے وسیلہ بناتا ہوں اور سوال کرتا ہوں اپنا گناہ تسلیم کرنے والے کیطرح کہ جس نے اپنے نفس

مِمَّا فَرَّطَ فِی یَوْمِہِ وَٲَمْسِہِ، یَسْٲَ لُکَ الْعِصْمَۃَ إلی مَحَلِّ رَمْسِہِ۔ اَللّٰھُمَّ فَصَلِّ عَلی

سے برائی کی ہے آج کے دن اور گزری ہوئی رات میں تو وہ سوال کرتا ہے اپنی موت کے دن تک کیلئے اے معبود! پس حضرت محمد (ص) اور

مُحَمَّدٍ وَعِتْرَتِہِ، وَاحْشُرْنا فِی زُمْرَتِہِ ، وَبَوّئْنا مَعَہُ دارَ الْکَرامَۃِ، وَمَحَلَّ الْاِقامَۃِ ۔

انکے خاندان پر رحمت فرما اور ہمیں اسکے گروہ میں محشور فرما اور ہمیں بزرگی والے گھر اور جائے قیام کے سلسلے میں انکے ساتھ جگہ دے

اَللّٰھُمَّ وَکَما ٲَکْرَمْتَنا بِمَعْرِفَتِہِ فَٲَکْرِمْنا بِزُلْفَتِہِ، وَارْزُقْنا مُرافَقَتَہُ وَسابِقَتَہُ،

اے معبود! جیسے تو نے ان کی معرفت کے ساتھ ہمیں عزت دی اسی طرح ان کے تقرب سے بھی نوازا اور ہمیں ان کی رہنمائی عطا کر

وَاجْعَلْنا مِمَّنْ یُسَلِّمُ لاََِمْرِھِ، وَیُکْثِرُ الصَّلاۃَ عَلَیْہِ عِنْدَ ذِکْرِھِ، وَعَلی جَمِیعِ

اور انکی ہمراہی نصیب فرما ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جو ان کاحکم مانتے اور ان کے ذکر کے وقت ان پر بکثرت درود بھیجتے ہیں نیز

ٲَوْصِیائِہِ وَٲَھْلِ ٲَصْفِیائِہِ، الْمَمْدُودِینَ مِنْکَ بِالْعَدَدِ الاثْنَی عَشَرَ، النُّجُومِ الزُّھَرِ،

ان کے سارے جانشینوں پر اور برگزیدہ اہل خاندان پر جن کی تعداد کو تو نے بارہ تک پورا فرمایا ہے جو چمکتے ہوئے ستارے ہیں

وَالْحُجَجِ عَلی جَمِیعِ الْبَشَرِ ۔ اَللّٰھُمَّ وَھَبْ لَنا فِی ہذَا الْیَوْمِ خَیْرَ مَوْھِبَۃٍ، وَٲَ نْجِحْ

اور وہ تمام انسانوں پرخدا کی حجتیں ہیں اے معبود! آج کے دن ہمیں بہتریں عطاؤں سے سرفراز فرما اور ہماری سبھی حاجات

لَنا فِیہِ کُلَّ طَلِبَۃٍ، کَما وَھَبْتَ الْحُسَیْنَ لُِمحَمَّدٍ جَدِّھِ، وَعاذَ فُطْرُسُ بِمَھْدِھِ، فَنَحْنُ

پوری کر دے جیسے تو نے حسین (ع) کے نانا حضرت محمد (ص) کو خود حسین (ع) عطا فرمائے تھے اور فطرس نے انکے گہوارے کی پناہ لی پس ہم انکے روضہ

عائِذُونَ بِقَبْرِھِ مِنْ بَعْدِھِ نَشْھَدُ تُرْبَتَہُ وَنَنْتَظِرُ ٲَوْبَتَہُ، آمِینَ رَبَّ الْعالَمِینَ ۔

کی پناہ لیتے ہیں انکے بعد اب ہم انکے روضہ کی زیارت کرتے ہیں اور انکی رجعت کے منتظر ہیں ایسا ہی ہو اے جہانوں کے پالنے والے۔

اس کے بعد امام حسین (ع) کی دعا پڑھے کہ جو آپ نے یوم عاشورہ کوپڑھی جب کہ آپ دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے اور وہ دعا یہ ہے:

اَللّٰھُمَّ ٲَ نْتَ مُتَعالی الْمَکانِ، عَظِیمُ الْجَبَرُوتِ، شَدِیدُ الْمِحالِ، غَنِیٌّ عَنِ الْخَلائِقِ،

اے معبود! تو بلند تر منزلت رکھتا ہے تو بڑے ہی غلبے والا ہے زبردست طاقت والا، مخلوقات سے بے نیاز،

عَرِیضُ الْکِبْرِیائِ قادِرٌ عَلی مَا تَشائُ قَرِیبُ الرَّحْمَۃِ ، صَادِقُ الْوَعْدِ، سَابِغُ النِّعْمَۃِ،

بے حد و حساب بڑائی والاہے جو چاہے اس پر قادر، رحمت کرنے میں قریب، وعدے میں سچا، کامل نعمتوں والا،

حَسَنُ الْبَلائِ، قَرِیبٌ إذا دُعِیتَ، مُحِیطٌ بِما خَلَقْتَ، قابِلُ التَّوْبَۃِ لِمَنْ تابَ إلَیْکَ،

بہترین آزمائش کرنے والاہے تو قریب ہے جب پکارا جائے جسکو پیدا کیا تو اسے گھیرے ہوئے ہے تو اسکی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے

قادِرٌ عَلی مَا ٲَرَدْتَ ، وَمُدْرِکٌ مَا طَلَبْتَ، وَشَکُورٌ إذا شُکِرْتَ، وَذَ کُورٌ إذا ذُکِرْتَ،

تو جو ارادہ کرے اس پر قادر ہے جسے تو طلب کرے اسے پالینے والا ہے اور جب تیرا شکر کیا جائے تو قدر کرتا ہے تجھے یاد کیا جائے

ٲَدْعُوکَ مُحْتاجاً، وَٲَرْغَبُ إلَیْکَ فَقِیراً، وَٲَ فْزَعُ إلَیْکَ خائِفاً، وَٲَبْکِی إلَیْکَ

تو بھی یاد کرتا ہے میں حاجتمندی میں تجھے پکارتا اور مفلسی میں تیری رغبت کرتا ہوں تیرے خوف سے گھبراتا ہوں مصیبت میں تیرے

مَکْرُوباً، وَٲَسْتَعِینُ بِکَ ضَعِیفاً، وَٲَ تَوَکَّلُ عَلَیْکَ کافِیاً، احْکُمْ بَیْنَنا وَبَیْنَ قَوْمِنا

آگے روتا ہوں کمزوری کے باعث تجھ سے مدد مانگتا ہوں تجھے کافی جان کر توکل کرتا ہوں فیصلہ کردے ہمارے اور ہماری قوم کے

بِالْحَقِّ، فَ إنَّھُمْ غَرُّونا وَخَدَعُونا وَخَذَلُونا وَغَدَرُوا بِنا وَقَتَلُونا، وَنَحْنُ عِتْرَۃُ نَبِیِّکَ

درمیان کہ انہوں نے ہمیں فریب دیا اور ہم سے دھوکہ کیا ہمیں چھوڑدیا اور بے وفائی کی اور ہمیں قتل کیا جبکہ ہم تیرے نبی (ص) کا گھرانہ اور

وَوَلَدُ حَبِیبِکَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاﷲِ الَّذِی اصْطَفَیْتَہُ بِالرِّسالَۃِ وَائْتَمَنْتَہُ عَلی وَحْیِکَ،

تیرے حبیب محمد (ص) بن عبداللہ کی اولاد ہیں جن کو تو نے تبلیغ رسالت کے لیے چنا اور انہیں اپنی وحی کا امین بنایا

فَاجْعَلْ لَنا مِنْ ٲَمْرِنا فَرَجاً وَمَخْرَجاً بِرَحْمَتِکَ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔

پس اس معاملے میں ہمیں کشادگی اور فراخی دے اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم والے۔

ابن عیاش سے روایت ہے کہ میں نے حسین بن علی بن سفیان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ امام جعفر صادق (ع) تین شعبان کو مذکورہ دعا پڑھتے اور فرماتے تھے کہ یہ امام حسین کی پاک ولادت کا دن ہے۔

تیرھویں شعبان کی رات

یہ شب ہائے بیض ﴿روشن راتوں﴾ میں سے پہلی رات ہے، اس رات اور اس کے بعد کی دونوں راتوں میں پڑھی جانے والی نمازوں کی ترکیب ماہ رجب کے اعمال میں ذکر ہوئی ہے۔ پس اس کے مطابق یہ نمازیں ادا کی جائیں۔

 

نام کتاب مفاتیح الجنان و باقیات الصالحات (اردو) 
تألیف خاتم المحدثین شیخ عباس بن محمد رضا قمی 
تر جمہ ہئیت علمی مؤسسہ امام المنتظر (عج) 
ویب سائٹ https://www.alhassanain.com