• صارفین کی تعداد :
  • 6300
  • 6/3/2009
  • تاريخ :

تاج کیانی

تاج کیانی

تاج کیانی ، دراصل فتحعلی شاہ کا تاج ہے کہ جس میں ہیرے جواہرات جڑے ہوئے ہیں۔ یہ پہلا تاج ہے جو ساسانی بادشاہوں کے بعد بنایا گیا ، یہ تاج بھی آج مرکزی بینک کے میوزیم میں رکھا قاجاری بادشاہوں کی بے بسی اور بے چارگی کا مذاق اڑا رہا ہے۔ بہرحال مورد بحث تاج ڈھائی ہزار سالہ جشن کے دوران محمد رضا پہلوی نے جس غرور و تکبر کے ساتھ اپنے سر پر رکھا تھا، اس کا سر ایسا جھکا کہ پھر اٹھ نہ سکا اور اس کا سارا غرور اور تکبرخاک میں مل گیا ۔ آج شاہی تاج ایک شوکیس میں بند اور دیکھنے والوں کے لئے مقام عبرت بنا ہوا ہے۔

لاکھوں انسانوں کے خون اور پسینہ کی کمائی اور قومی دولت کو ایک تاج میں لگا کر چند گھنٹوں کے لئے اپنے سرپر رکھ کر شاہ ایران اور اس جیسے دیگر بادشاہ در اصل یہ بتانا چاہتے تھے کہ ان کی رعایا ان کی غلام اور محکوم ہے اور وہ ان کے حاکم ہیں پس سب کچھ ان کی ملکیت ہے وہ جیسے چاہیں اور جہاں چاہیں خرچ کریں ۔ قومی خزانہ اور بیت المال کو اپنی ملکیت سمجھنے والے زر و جواہرات میں کھیلنے والے ، سونے چاندی اور ہیرے جواہرات سے مزین تختوں پر بیٹھنے والے آج کہاں ہیں ۔ ہیرے جواہرات ، زمرد یاقوت سے مزین برتنوں میں کھانا کھانے والے کس حال میں ہیں یہ خدا بھی بہتر جانتا ہے ۔ زر و زیور میں لدھے پندھے ، اور کمخاب کے لباس پہنے والے کہاں کہاں دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں آج پوری دنیا کے لئے مایہ عبرت ہیں ۔ لیکن تاج شکن کودیکھئے جو بوریا نشین ہوتے ہوئے لاکھوں دلوں پر آج بھی حکومت کررہا ہے ۔                  

      اردو ریڈیو تہران


متعلقہ تحریریں:

اشکانیان 

سلوکیان