• صارفین کی تعداد :
  • 4145
  • 2/25/2009
  • تاريخ :

علامہ سید افتخار حسین نقوی  کی شخصیت اور خدمات

علامہ سید افتخار حسین نقوی

    انسان نے اپنی پہچان کے عجیب و غریب پہلو متعارف کرائے ہیں کسی نے اپنی پہچان اپنے خاندان و قبیلے سے کرائی تو کسی نے اپنی دولت اور اقتدار کو ہی اپنی پہچان سمجھ لیا کسی نے برائیوں میں نام پیدا کیا تو کسی نے مسلسل عبادات کو اپنی پہچان بنا لیا کوئی دنیا کی طرف لپکا تو کسی نے تارک الدنیا ہو کر اپنی ایک شناخت لوگوں کے سامنے پیش کی۔

     بہت کم لوگ ایسے نظر آتے ہیں جن کی زندگی ہمہ جہت کمالات اور مرقع حسنات ہوتی ہے جو اپنی زندگی کی لکیریں خود کھینچتے ہیں اور اپنی منازل کے سنگ راہ خود تراشتے ہیں اور وہ اس باریک بینی کے ساتھ کہ زندگی کے تمام حقائق ان پر منکشف ہونے شروع ہو جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ عمومی نظر سے نہ تو انہیں سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کی باطنی کیفیات کو مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

 

    علامہ سید افتخار حسین نقوی کی شخصیت بھی کچھ اسی طرح ہے اور ان کے قریب رہنے والے لوگ انہیں انہی حقائق کے تناظر میں دیکھتے اور سمجھتے ہیں کیونکہ ان کی زندگی انہی حقائق کی ترجمان ہے وہ ایک عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک درویش منش، سادہ، پرخلوص، جذبہ خدمت خلق سے سرشار، باریک بین، صاحب فہم و ادراک اور ایک اہل دل شخصیت ہیں جن کا بچپن، جوانی اور بزرگی انہی صداقتوں کی آئینہ دار ہے اور آج وہ ایک مسیحا کے طور پر افقِ انسانیت پر چمک رہے ہیں۔

آپ کی ولادت 1951ء میں ضلع ملتان کے مشہور گائوں جنگل بہیڑا عقب اسماعیل آباد ٹیکسٹائل ملز قصبہ مظفر آباد تحصیل و ضلع ملتان میں ہوئی۔ ابتدائی دینی و دنیاوی تعلیم ملتان ہی کے دینی ادارے مخزن العلوم العربیہ الجعفریہ شیعہ میانی سے حاصل کی۔

 قومی خدمات میں حصہ لینے کا بے حد شوق آپ کو بچپن ہی سے تھا چنانچہ جس وقت آپ میٹرک میں تھے اس دوران مطالبات کمیٹی کی تحریک زوروں پر تھی۔ جب 1967-66 ء میں راولپنڈی میں علامہ سید محمد دہلوی کی کال پر احتجاجی کنونشن منعقد ہوا تو جووفد ملتان سے راولپنڈی کے لئے آیا اس وفد میں ایک کمسن میٹرک کا طالب علم سید افتخار حسین بھی موجود تھا، یہی جذبہ آپ کو ماں کی گود سے ورثہ میں ملا تھا جو آج تک آپ کی پوری عملی زندگی میں پھیلا ہوا نظر آتاہے۔آپ پاکستان سے دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1969ء کے وسط میں اعلیٰ تعلیم کیلئے نجف اشرف عراق چلے گئے جہاں دنیا کے عظیم اسکالرز سے آپ نے فیض حاصل کیا۔

 

1978ء اسلام آباد میں معروف دینی درس گاہ جامعہ اہل بیت اپنے ابتدائی مراحل میں تھی اس کی اہمیت کے پیش نظر آپ کو یہاں تدریس کیلئے مدعو کیا گیا اور آپ بطور وائس پرنسپل مدرسہ ہذا میں اپنے فرائض سرانجام دینے لگے۔ اسلام آباد میں آپ کا قیام آپ کا بھرپور دینی و قومی فعالیت کا دور تھا اس دوران آپ نے اسلام آباد کے ہر ہر سیکٹر میں نوجوانوں کیلئے اخلاقی دروس، تربیتی و تعلیمی ورکشاپس کا آغاز کیا۔ آپ کا یہ سلسلہ دروس بہت کامیاب رہا جس کے نتیجہ میں بہت سارے نوجوان آپ کے گرد جمع ہو گئے اور علمی پیاس بجھانے لگے۔ آپ نے نوجوانوں کو دور حاضر کے علمی چیلنجز سے نمبرد آزما ہونے کیلئے تیار کیا۔

یک دفعہ پھر مرکز علم قم المقدسہ کا رُخ کیا جہاں پر جدید تقاضوں کے علمی چیلنجوں کا جواب دینے کے لئے نوجوان علماء کی تربیت کے واسطے دو سالہ کورس '' راہِ حق'' قم انسٹیٹیوٹ میں حضرت آیت اﷲ اُستاد مصباح یزدی کی زیر نگرانی  رکھا گیا تھا جس میں تقابل ادیان، جدید و قدیم فلسفہ 'جدید انداز سے تفسیر قرآن، اسلامی ریاست،نفاذ شریعت کا طریقہ کار اور اسلام کا نظریہ حکومت جیسے اہم موضوعات پر لیکچرز و دروس کا اہتمام کیا گیا تھا

 اس کورس  میں حصہ لینے کی غرض سے 1980ء کے آخر میں آپ ایران کی سرزمین قم المقدسہ تشریف لے گئے اور وہاں سے 1982ء میں واپس تشریف لے آئے۔آپ نے جولائی1998میں اپنا سیاسی عمل چھوڑ دیااور ایک نئے جذبہ اور سوچ کو لے کر آپ تعلیمی میدان عمل میں اُترے اور آج آپ کی سرپرستی میں ملک بھر میںخدمت خلق کا ایک وسیع نیٹ ورک چل رہاہے جو ہر طرح کے مذہبی تعصبات سے بالاتر خالصتاً انسانیت کی خدمت اور مظلوموں کی نصرت پر مبنی ہے اور یہ تعلیم وتربیت کا وسیع کارو ان ہے یہ کاروان ان لوگوں کی مدد کیلئے ہے جو جہالت وغربت کی چکی میں پس رہے ہیں شروع ہی سے آپ کا نظریہ رہا ہے کہ پاکستان کی تمام تر مشکلات کا سبب جہالت اور غربت ہے چنانچہ آپ نے ایسے افراد جو جہالت و افلاس اور محرومیوں کا شکار ہیں اور بنیادی انسانی ضروریات سے محروم زندگی بسر کر رہے ہیں ان میں تعلیم عام کرنے، ان کی مالی مشکلات حل کرنے کیلئے اپنے تمام تر مساعی جمیلہ کو وقف کررکھا ہے، آپ تمام تر تعلیمی، تربیتی، خدماتی، رفاہی، تبلیغی سرگرمیوں کو امام خمینی ٹرسٹ (رجسٹرڈ) پاکستان، النور ویلفیئر ٹرسٹ اسلام آباد، النور ویلفیئر ٹرسٹ آزاد کشمیر اور اسی طرح کے دیگر فلاحی اداروں کے ذریعہ انجام دے رہے ہیں ۔

علامہ سید افتخار حسین نقوی النجفی کے زیر سایہ مندرجہ ذیل  ٹرسٹ کام کر رہے ہیں۔

١۔     امام خمینی ٹرسٹ جس کا مرکزی آفس ماڑی انڈس میں ہے۔

٢۔    النور ویلفیئرٹرسٹ اسلام آباد۔

٣۔    النور ویلفیئرٹرسٹ آزادکشمیر

٤۔    کربلاشاہ معصوم ٹرسٹ مظفرگڑھ

٥۔    امام رضا ویلفیئرٹرسٹ لیہ

٦۔    امام عصر ٹرسٹ جھنگ

٧۔    انجمن سماجی بہبود پکی شاہ مردان میانوالی

٨۔    انڈس ویلفیئرسوسائٹی میانوالی

ان کے علاوہ بھی ڈیرہ غازی خان، رحیم یارخان، ڈیرہ اسماعیل خان، پارہ چنار، خوشاب میں ویلفیئرسوسائیٹیزاور رفاہی انجمنوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔

 

تحریر: سید مشبر علی کاظمی (  القمر آن لائن ڈاٹ کام )