• صارفین کی تعداد :
  • 5126
  • 1/4/2009
  • تاريخ :

 ڈاکٹر موسی ابو مرزوق  سے انٹرویو

ڈاکٹر موسی ابو مرزوق

ڈاکٹر موسی ابو مرزوق کا شمار اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے اہم راہنماؤں میں ہوتا ہے- حال ہی میں مصر کی میزبانی میں فلسطینیوں کی مفاہمت کے سلسلے میں ہونے والی بات چیت میں ڈاکٹر مرزوق حماس کے وفد کے سربراہ کے طور پر شریک رہے- فلسطینی جماعتوں کے مابین مفاہمت کی یہ کوششیں کیوں کر ناکام ہوئیں؟ حماس سمیت دیگر فلسطینی جماعتوں نے صدر محمود عباس اور مصری قیادت سے کس امر پر اختلاف کیا اور مذاکرات سے کیوں معذرت کی؟ ان امور کے حوالے سے مرکز اطلاعات فلسطین نے ان نے سے خصوصی گفتگو کی جو قارئین کے لیے پیش کی جاتی ہے-

 سوال : مرکز اطلاعات فلسطین: مصر میں مفاہمتی بات چیت سے حماس کی اچانک معذرت کے کیا اسباب تھے؟

ڈاکٹر مرزوق: قاھرہ میں آنے والے مذاکرات سے معذرت صرف حماس کا فیصلہ نہیں بلکہ جہاد اسلامی اور صاعقہ جیسی تنظیموں سے پوری گفت و شنید کے بعد مل کر یہ مؤقف اختیار کیا کہ ہم مذاکرات میں شامل نہیں ہو سکیں گے- رہا یہ سوال کہ مذاکرات سے گریز کے اسباب کیا تھے؟ ظاہر ہے حماس اور اس کی ہمنوا تنظیمیں جو مطالبات لے کر قاھرہ گئی تھیں وہ پورے نہیں ہو پا رہے تھے- مذاکرات کی کامیابی کے لیے جس فضاء کی ضرورت تھی نہ صرف یہ کہ ایسی فضاء پیدا کرنے کی کوشش نہ کی گئی بلکہ مفاہمت کا جو ماحول بن رہا تھا اسے بھی خراب کرنے کی کوشش کی جاتی رہی-

ہماری خواہش تھی کہ مذاکرات سے قبل غرب اردن میں حماس ارکان کی پکڑ دھکڑ اور عباس ملیشیا کی جانب سے مزاحمت کاروں کو انتقام کا نشانہ بنانے کی پالیسی ترک کردی جائے- اس کے علاوہ صدر عباس کے زیر انتظام جیلوں میں حماس کے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، لیکن صدر عباس نے نہ صرف ایسا کرنے سے انکار کیا بلکہ عقوبت خانوں میں حماس قیدیوں کی موجودگی ہی سے مکر گئے- یہ وہ بنیادی اسباب تھے جن کی بناء پر ہمیں بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی تھی- ایسے میں مزید گفتگو وقت کا ضیاع تھا-

 سوال : مرکز اطلاعات فلسطین: مصری حکام سے جاری رہنے والی بات چیت کا مختصر احوال کیا ہے؟

ڈاکٹر مرزوق: فلسطین میں مصالحت اور مفاہمت کے قیام کی تیاری کے لیے اول تو فلسطینی جماعتوں کے درمیان طویل عرصے سے بات چیت جاری تھی- یہی بات چیت آگے چل کر قاھرہ بات چیت کے لیے تمہید قرار دی جا سکتی تھی- حماس کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ مصالحت کے لیے کی جانے والی کوششوں اور بات چیت کو مؤثر بنایا جائے, کیونکہ 14 جون 2007ء میں حماس اور فتح کے درمیان اختلافات سے انتشار کی جس فضاء نے جنم لیا تھا اسے ختم کرنے کے لیے اتنے ہی شدت کے ساتھ اقدامات کیے جانے کی بھی ضرورت ہے- حماس شروع دن سے داخلی انتشار کے خاتمے کے لیے کوشاں رہی ہے- تاکہ قوم میں اتحاد اور یگانگت کی فضاء پیدا کی جا سکے-

قاھرہ نے بھی اس امر میں دلچسپی لی- مصری حکام کی فلسطینی جماعتوں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں لیکن غلطی یہ ہوئی کہ وہ مسودہ جس پر فلسطینی تنظیموں نے مذاکرات اور بحث کرنا تھی اسے ذرائع ابلاغ میں شائع کردیا گیا- فلسطینی مصالحت کے لیے کی جانے والی کوششوں کو آخر دم تک خفیہ ہی رکھا جانا چاہیے تھا- مصالحت کے لیے حماس نے بھی اپنی ایک دستاویز تیار کرکے مصری حکام کو دی اور قاھرہ میں ہونے والی مصر حماس ملاقاتوں میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ حتمی مسودے کی تیاری کے لیے دو طرفہ اور سہہ فریقی بات چیت کی جائے گی-

اس ضمن میں طے پایا کہ پہلے قاھرہ حماس اور فتح کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کرے گا جبکہ فتح کا نقطہ نظر یہ تھا کہ بات چیت سہہ فریقی ہونی چاہیے- قاھرہ مذاکرات میں یہ طے پایا تھا کہ باہمی بات چیت کو کامیاب اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے خوشگوار فضاء پیدا کرنے کی ضرورت ہے، لیکن ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بجائے فضاء کو بہتر بنانے کے صدر عباس اور ان کی جماعت نے مذاکرات کی فضاء کو مزید مکدر کرنے کی کوشش کی- مغربی کنارے میں حماس کارکنان کی پکڑ دھکڑ کا غیر معمولی سلسلہ شروع کردیا گیا اور حماس اور دیگر تنظیموں کے زیر انتظام چلنے والے رفاعی اداروں کو بند کردیا گیا-

اندھا دھند پکڑ دھکڑ سے 1996ء کے دوران ہونے والی گرفتاریوں کی یاد تازہ ہوتی ہے- اس صورتحال میں مصر بھی شریک سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ اس کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت میں قاھرہ کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کو ایسے اوچھے اور مذاکرات مخالف اقدامات سے روکیں-

تیسری اہم چیز مذاکرات اور ملاقاتوں کی تیاری کے حوالے سے ہے- ملاقاتوں کے حوالے سے میڈیا میں کچھ غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی- کہا گیا کہ شرکاء مذاکرات دو دھڑوں میں تقسیم ہیں- ایک گروہ مذاکرات کا منتظم اور نگران ہے جبکہ دوسرا صرف بات سننے کے لیے حاضر ہو رہا ہے- اس حوالے سے بھی مصر سے بات چیت کی مزید ضرورت ہے تاکہ مذاکرات کی کامیابی کی خواہش بہتر انداز میں پوری ہو سکے-

 سوال : مرکز اطلاعات فلسطین: سنا ہے قاھرہ مذاکرات سے قبل خالد مشعل اور مصری انٹیلی جنس چیف عمر سلیمان کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا- یہ کہاں تک درست ہے؟

ڈاکٹر مرزوق: ہمارے قاھرہ پہنچنے سے قبل ہی حماس کے سیاسی شعبے کے صدر محترم خالد مشعل نے مصری انٹیلی جنس چیف عمر سلیمان کے سامنے مذاکرات کی کامیابی کے لیے پورا نقشہ پیش کردیا تھا- ہماری ملاقات اور براہ راست بات چیت کی کامیابی کے لیے مصر کو ہمارے مؤقف سے تفصیلی طور پر آگاہ کرنا بھی ضروری تھا-

 سوال : (مرکز اطلاعات فلسطین) قاھرہ میں اختتامی اجلاس کے صدر محمود عباس کے زیر صدارت انعقاد پر آپ نے اعتراض کیا- ایک طرف آپ انہیں آئینی صدر بھی تسلیم کرتے ہیں- آپ ایک جانب انہیں مسائل کا باعث قرار دیتے ہیں اوردوسری جانب انہیں مسائل کے حل کے لیے ضروری بھی سمجھتے ہیں؟

ڈاکٹر مرزوق: جہاں تک صدر محمود عباس کے منصب صدارت کا معاملہ ہے، حماس نے انہیں نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون بھی کیا، لیکن حماس کا ان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ خود کو ایک خاص گروہ کا ترجمان قرار دینے کے بجائے فلسطینی عوام کی ترجمانی کریں-

گزشتہ ڈیڑھ برس کے عرصے میں ہم نے یہ بات نوٹ کی کہ صدر عباس ہمارے لیے نہ صرف ذاتی طور پر اختلافی شخصیت ہیں بلکہ اختلافات پیدا کرنے کا باعث ہیں- گزشتہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں ہمیں بڑے تجربات حاصل ہوئے - ہم کئی بار فتح کے ساتھ مل بیٹھے لیکن ہمیں ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا- سینیگال میں مذاکرات شروع ہوئے تو صدر عباس کے مندوب حکمت زید نے ہاتھ اٹھا کر کہہ دیا کہ انہیں صدر عباس نے مذاکرات سے علیحدگی کی ہدایت کر دی ہے- یمن کے دارالحکومت صنعاء میں مذاکرات ہوئے صدر عباس نے ناکام بنا دیے-  سعودی عرب کی جانب سے مصالحت کی کوششوں کا تجربہ ہمارے سامنے ہے-

 قاھرہ میں 2005ء میں مذاکرات ہوئے صدر عباس کی وجہ سے وہ بھی بے نتیجہ ثابت ہوئے- بہرحال صدر عباس اس سارے اختلافات کے باوجود اور ان سے ہمارے تحفظات کے باوصف ہماری خواہش ہے کہ صدر عباس قاھرہ مذاکرات کے غیر جانبدارانہ انداز میں شرکت کریں-تیسرا نکتہ ایک معروضی معاملہ ہے- جب ہم مذاکرات میں کامیابی کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ تمام گروہ ایک ساتھ مذاکرات میں شریک ہوں- ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایک گروہ بات چیت کر رہا ہے اور دوسرا خاموش تماشائی ہے-  پھر ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ایک گروہ مذاکرات کی سرپرستی کرے اور دوسرا مؤرد الزام قرار دیا جائے- مذاکرات کی کامیابی کے لیے فریقین کا ملاقاتوں میں موجود ہونا ضروری ہے- ماضی میں یہ المیہ رہا ہے کہ ہم نے جب بھی مذاکرات کی کامیابی کے لیے کوئی پیش رفت کی فریق ثانی یا تو غائب ہوگیا یا پھر الزامات کی بوچھاڑ کر دی گئی-

بات چیت کی کامیابی کی ضمانت تب ہی دی جا سکتی ہے جب فریقین کھلے دل سے ایک دوسرے کی بات سنیں اور حکمت اور عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اختلافات حل کریں- حالات کی یہ وہ تصویر ہے جس نے ماضی میں کامیابی کی تمام راہیں مسدود رکھیں یہی وجہ ہے کہ ہمارا شروع دن سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ اس صورتحال کو تبدیل کیا جائے- اس ضمن میں مصری حکام سے تواتر کے ساتھ اپنا مؤقف دوہرایا، لیکن ہمیں مصری حکام کی جانب سے ایسی کوئی وضاحت نہ مل سکی اور نہ کوئی کامیابی حاصل ہو سکی- ہم تک جو معلومات پہنچتی رہیں وہ زیادہ تر ذرائع ابلاغ میں پھیلائی گئی افواہیں تھیں- حماس نے ہمیشہ قومی وحدت اور تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی خواہش کی تاکہ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے-

سوال : مرکز اطلاعات فلسطین: ذرائع کے مطابق مصر نے مصالحتی مسودے میں حماس کی ترامیم مسترد کردی ہیں- آپ کا کیا مؤقف ہے؟

ڈاکٹر مرزوق: مصالحتی مسودہ ترامیم و تبدیلی سے ماوراء نہیں ہوسکتا- مصر کی جانب سے جو مسودہ پیش کیا گیا وہ حتمی نہیں بلکہ اس پر بحث ضروری تھی- ہم نے مسودہ حاصل کیا اور اس کے اہم پہلوؤں پر مناسب غور و حوض کے بعد اپنے اختلاف اور اتفاق کی حقیقت سے آگاہ کردیا-

سوال : مرکز اطلاعات فلسطین: دیگر جماعتیں ماضی کے مصالحتی معاہدات کے تناظر میں اس معاہدے کے قائم رہنے کی ضمانت طلب کررہی تھیں- آپ کے خیال میں کیا یہ اعلان صنعاء اور اعلان مکہ و ڈاکار وغیرہ سے مختلف معاہدہ ہو سکتا ہے؟ اور اگر معاہدہ ہو جائے تو اس کی کامیابی کی ضمانت دی جا سکتی ہے؟

ڈاکٹر مرزوق: اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے ہمیں ماضی اور آج کے حالات کو سامنے رکھنا ہوگا- ماضی میں ہونے والے معاہدات کے دوران علاقائی اور عالمی سطح پر حالات مختلف تھے اور اب بالکل اس سے مختلف ہیں- اسرائیل اور امریکہ میں سیاسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں- فلسطین میں صدارتی انتخابات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں- یہ سب تبدیلیاں آئندہ کسی بھی معاہدے پر اثر انداز ہوں گی-

میں یہ بات بلاتردد کہتا ہوں کہ مصری مسودے میں تبدیلیوں کا حجم نسبتاً زیادہ تھا لیکن ہم اس مسودے کو من و عن تسلیم نہیں کرسکتے- مسودے میں بعض امور غیر ضروری تھے- ان پر بعد از مصالحت بات کی جاسکتی ہے- مثلاً اسرائیل سے جنگ بندی، مسئلہ القدس اور پناہ گزینوں کی واپسی جیسے موضوعات غیر ضروری تھے- اسی طرح بعض اہم صدارتی انتخابات جیسے بنیادی مسلمات کو شامل نہیں کیا گیا تھا-

 سوال : مرکز اطلاعات فلسطین: غرب اردن میں عباس ملیشیا کی جانب سے حماس ارکان پر حملوں کی کوششیں ہوتی رہیں- مبصرین کا خیال ہے کہ قاھرہ نے ایسی کارروائیاں روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی؟

ڈاکٹر مرزوق: یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ مصر نے مغربی کنارے میں عباس ملیشیا کی کارروائیاں روکنے کی صلاحیت ہونے کے باوجود اس حوالے سے کوئی ٹھوس کردار ادا نہیں کیا- ماضی میں جب مصری ثالثی کے تحت مذاکرات ہوئے ہیں تو قاھرہ نے فلسطینی اتھارٹی پر دباؤ کے ذریعے حماس کے قیدی رہا کیے تھے لیکن اب کی بار اس نے اس اہم ایشو پر سوچا تک نہیں- حماس نے اس امر کے حوالے سے مصری حکام سے ٹیلیفونک بات چیت میں اس مسئلے کی جانب توجہ دلائی تو مصر نے اس میں تعاون سے یکسر انکار کر دیا- اگر قاھرہ صدر عباس سے اس حوالے سے بات چیت کرتا تو گرفتاریوں کا باب بند ہوسکتا تھا-

عباس ملیشیا کی جانب سے حماس راہنماؤں کی گرفتاریوں، ریاستی جبر و تشدد کے ساتھ ساتھ رفاعی اداروں اور زکوة کمیٹیوں تک کو بند کردیا تھا- صاف ظاہر ہے ایسی حالت میں جب ایک فریق اسرائیل کی مضبوطی اور قوم پر حملوں کا مرتکب ہو رہا ہو تو مصالحت کی کوششیں کیسے بار آور ثابت ہوسکتی ہیں-

 سوال : مرکز اطلاعات فلسطین: قاھرہ کی جانب سے حماس کے پارلیمانی وفد کو بیرون ملک رفح راہداری سے سفر کے لیے اجازت نہ دینا اور ترمیمی مسودے کی منظوری سے قاھرہ انحراف سے کیا آپ کسی دوسرے ثالث کی تلاش پر غور کریں گے؟

ڈاکٹر مرزوق: ہم نے مصر کو بطور ثالث کے تسلیم کیا ہے- حماس نے مختلف مراحل میں مصر سے برادرانہ انداز میں بڑے شفاف اور کھلے دل سے بات چیت کی- یہ الگ بات ہے کہ حماس کو مصر کے غزہ اور دیگر امور کی پالیسیوں سے اختلافات رہے ہیں- حماس نے مستقل تعلق کی استواری کے لیے کئی نکات پر ترامیم کی ضرورت سے بھی مصر کو آگاہ کیا- مصر بطور ایک ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک کے فلسطینی عوام اور حماس سے منصفانہ پالیسی اپنانے کا پابند ہے- مسئلہ فلسطین کے حوالے سے مصر کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا- مصر کی جانب سے فلسطینی پارلیمینٹیرینز کو بیرون سفر جانے کی اجازت نہ دینا اور رفح گزرگاہ کو بند کردینا باعث افسوس ہے، تاہم اس موضوع پر بھی مصر سے بات چیت ہو رہی ہے-

سوال : مرکز اطلاعات فلسطین: قاھرہ مذاکرات کا بائیکاٹ کرنے والی دیگر چار تنظیموں اور حماس کے مؤقف میں کس حد تک مطابقت پائی جاتی ہے؟

ڈاکٹر مرزوق: حماس اور بائیکاٹ کرنے والی دیگر تنظیموں کے مؤقف میں کوئی بڑا فرق نہیں- تمام تنظیموں کا مطالبہ تھا کہ مذاکرات کامیاب بنانے کے لیے ایسی فضاء پیدا کی جائے جو اس کی کامیابی کی ضامن بن سکے- مذاکرات میں عرب ممالک کے لیے بھی خاص پیغام ہو تاکہ انہیں مسئلہ فلسطین کی جانب مبذول کرایا جا سکے-

اس کے علاوہ دیگر تنظیموں کا مطالبہ یہ بھی تھا کہ صدر محمود عباس کسی ایک گروہ کی ترجمانی کے بجائے مذاکرات میں وہ فلسطینی قوم کے نمائندے کے طور پر شریک ہوں- غرب اردن میں حماس اور دیگر تنظیموں کے خلاف گرفتاریوں کا سلسلہ بند کیا جائے-

 

 مزید اور تازہ ترین صورتحال سے آگاہی کے لیے  مرکز اطلاعات فلسطین کی ویب سائٹ دیکھیں ۔

https://palestine-info-urdu.com/ur