• صارفین کی تعداد :
  • 2491
  • 11/16/2008
  • تاريخ :

ہم سے کیا پوچھتے ہو ہجر میں کیا کرتے ہیں

کالا گلاب

ہم سے کیا پوچھتے ہو ہجر میں کیا کرتے ہیں
تیرے لوٹ آنے کی دن رات  دعا کرتے ہیں

 

اب کوئی ہونٹ نہیں ان کو چرانے آتے

میری آنکھوں میں اگر اشک ہوا کرتے ہیں

 

تیری تو جانے ،پر اے جان تمنا ہم تو

سانس کے ساتھ تجھے یاد کیا کرتے ہیں

 

تو ہی پہلو میں ورنہ دسمبر میں ہوہیں

دھوپ میں بیٹھ کے اخبار پڑھا کرتے ہیں

 

کبھی یادوں میں تجھے بانہوں میں بھر لیتے ہیں

کبھی خوابوں میں تجھے چوم لیا کرتے ہیں

 

تیری تصویر لگا لیتے ہیں ہم سینے سے

پھر ترے خط سے تری بات کیا کرتے ہیں

 

گر تجھے چھوڑنے کی سوچ بھی آۓ دل میں

ہم تو خود کو بھی وہیں چھوڑ دیا کرتے ہیں

 

شاعر کا نام : وصی شاہ

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

 باندھ لیں ہاتھ سینے پہ سجالیں تم کو

 ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے

اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا

 اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کردو

 آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر

TOO late