• صارفین کی تعداد :
  • 10527
  • 10/11/2008
  • تاريخ :

لالچ بری بلا ہے

لالچ بری بلا ہے

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کتا بہت بھوکا تھا اور کھانے کی تلاش میں اِدھر اُدھر مارا مارا پھررہا تھا۔ اچانک اس کو ایک ہڈی ملی اس نے ہڈی کو منہ میں دبایا اور چل پڑا۔ وہ ایک نہر کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر نہر میں پڑی اور اس کو اپنا عکس دکھائی دیا۔ جب اس نے دیکھا کہ ایک کتا جس کے منہ میں بھی ایک ہڈی ہے اس کو دیکھ رہا ہے۔

تو اس نے سوچا کیوں نہ وہ اس کتے کی ہڈی بھی چھین لے۔ کیوں کے وہ کتا انتہائی مریل سا دکھائی دے رہا تھا۔ پھر اس نے سوچا کہ چلو رہنے دو ایک ہڈی تو ہے۔

 

لیکن اس کی یہ سوچ اس کے لالچ پر غالب نہ آ سکی اور اس کے دل میں یہی خواہش اٹھی کہ اگر ایک کے بجائے دو ہڈیاں مل جائیں تو مزہ رہے گا۔

یہ سوچ کر اس نے دوسرے کتے کو ڈرانے کے خاطر بھونکنے کے لیے منہ کھولا۔

اور صرف ایک بھوں کرکے رہ گیا۔

 

کیونکہ اس کے منہ میں دبی ہوئی ہڈی اس کے منہ سے پانی میں گر گئ اور پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہتی ہوئی نکل گئی۔

اب اس کتے کو بڑا افسوس ہوا کہ لالچ میں آ کر اس سے ایک ہڈی بھی گئی۔

پھر اس نے یہی سوچا کہ آئندہ وہ لالچ نہیں کرے گا۔ بلکہ جو ملے گا اسی پر قناعت کرلے گا۔

تو بچوں ہمیں بھی چاہیے کہ ہم لالچ سے بچیں کیوں کے لالچ بری بلا ہے۔ اور لالچ کرنے والے کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔

                                          پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

دو دوست

 خوشبختی اور سعادت

 نیم حکیم خطرۂ جاں

پياسا کوا

 بچو! سلام کرنا مت بھولنا

نيت کا فرق