• صارفین کی تعداد :
  • 9677
  • 7/27/2008
  • تاريخ :

مرزا غالب

مرزا غالب

 

فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا

ہے پر مرغ تخیل کی رسائی تاکجا

تھا سراپا روح تو ،بزم سخن پیکر ترا

زیب  محفل میں رہا ، محفل سے پنہاں بھی رہا

دید تری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہے
بن کے سوز  زندگی ہر شے میں جو مستور ہے

محفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار

جس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسار

تیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہار 

تیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وار

زندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میں
تاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میں

نطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پر

محو حیرت ہے ثرّیا رفعت پرواز پر

شاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پر

خندہ زن ہے غنچۂ دلّی گل شیراز پر

آہ ! تو اجڑی ہوئی دلّی میں آرامیدہ ہے
گلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے

لطف گویائی میں تری ہم سری ممکن نہیں

ہو تخیّل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں

ہاۓ  ! اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سرزمیں

آہ! اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بیں

گیسوۓ اردو ابھی منّت پذیر شانہ ہے
شمع یہ سودائی دل سوزی پروانہ ہے

اے جہاں آباد ! اے گہوارہ علم و ہنر

ہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام و در

ذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمر

یوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہر

دفن تجھ میں کوئی  فخر روزگار ایسا بھی ہے ؟
تجھ میں پنہاں کوئی موتی آب دار ایسا بھی  ہے ؟

 

 

کتاب کا نام : بانگ درا

شاعر کا نام : علامہ محمد اقبال

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

ہمالہ 

 گل رنگیں