• صارفین کی تعداد :
  • 4171
  • 5/3/2008
  • تاريخ :

قوم ماد

خدای بزرگ است اهورامزدا، که بزرگ‌ترین خدایان است، که این زمین را آفرید، که آن آسمان را آفرید، که مردم را آفرید، که خوشبختی را برای مردم آفرید...

 ماد کی تاریخ سے متعلق روایات جو یونان قدیم کے دو مورخ ہردوت اور کتسیاس نے بیان کی ہیں وہ ایک دوسرےسے کافی مختلف ہیں۔ ماد کے بادشاہوں کی تعداد اوران کی فرمانروائی کی مدت کتسیاسکی نظریہ کے مطابق  ہردوت کی بیان کردہ تعداد سے بہت زیادہ ہیں، حالانکہ آج کے دور میں ان کا بےبنیاد ہونا مسلم اور ثابت ہوچکا ہے۔

  ۷۱۵ یا ۷۱۶   میں روما بادشاہ اور ارتو نے  دیااوکو کی مدد سے آشور کے بعض علاقوں میں شورش برپا کی . حالانکہ آشور بادشاہ سارگن دوم نے ان کی بغاوت کو سرکوب کردیا اور دیااوکو اور اس کے خاندان کو گرفتار کرکے موریا کے شہرخماہ کی طرف جلاوطن کردیا. حالانکہ موجودہ تاریخ روزگار نے جوکچھ دیا، اوکوکے بارے میں جوکچھ لکھا، وہ کچھ ہردوت نے دیوکس (مادکی حکومت وسلطنت کے بانی)کے بارے میں لکھا ہے اس سے کافی مختلف ہے۔  اس میں ۱۰سے ۱۵ سال تک کا اختلاف پایا جاتا ہے۔  احتمال اس بات کا ہے کہ دیوکس ہردوت ہی دیااوکو ہے جس کا ذکرآشوری منابع میں ذکر ہوا ہے۔  اگرچہ جوکچھ ہردوت نے دیوکس کی مستقل سلطنت اور اکباتان(ہمدان) کو  پائتخت بنانے اور اس کے اندر سات قلعوں کو بنانے کے بارے میں لکھا ہے وہ محل نزاع واختلاف ہے اوراس کا وجود ثابت نہیں ہے، اس لئے کہ آشوری فرمانروا اس طرح کی عظیم عمارتوں کو برداشت نہیں کرسکتے تھے۔

          ہردوت کی روایت کے مطابق مادوں نے دیوکس کو قضا کے امور میں عدالت، دیانت داری کی وجہ سے انتخاب کیا جبکہ اس نے کچھ دن کے بعد اس کام سے کنارہ گیری اختیارکرلی۔  یہاں تک کہ آخر میں لوگوں نے اس کو اپنا بادشاہ منتخب کرلیا، بہرحال دیا وکولی مادی بادشاہ کی حکومت ایک فرعی حکومت جبکہ مادی کی مستقل حکومت کا قیام بعد میں ظہورمیں آیا۔  فرورتیس(جسے یونانی زبان میں فرا ارتش کہاجاتا ہے) کو ۶۷۵ یا ۶۷۴ میں دیااوکو کاجانشین بنایا گیا ظاہرا یہ بات پارسیوں کو اپنا مطیع بنانے کے بعد کی ہے(۶۷۰۲ ق) اس نے یہ کوشش کی کہ مادوں اورمانای وکیمسری قبائل میں کہ جو آٹھویں صدی ق میں قفقاز سے ایرانی سرزمین میں داخل ہوئے تھے، آشوریوں کے خلاف متحد کرے۔  سرانجام جب فرورتیش اپنے متحد لشکر کے ساتھ آشورحکومت کی راجدھانی نینوا پہنچا، سکاھا نے پیچھے سے ان (مادوں) پر حملہ کردیا اس حملہ میں جو ظاہرا آشور بادشاہ کی درخواست پرکیا گیا تھا، فرورتیش مارا گیا (۶۵۳) اور سکاھانے ۲۸ سال تک ماد سلطنت پر قبضہ جمائے رکھا. جب ہووخشترہ اپنے باپ کا جانشین (جو ظاہرا کمسن تھا) ہوا تو اس نے مجبور ہوکر سکاھا سے صلح تو کرلی مگر بعد میں اس نے سکاھا بادشاہ اوراس کے افسروں اور عہدیداروں کو تہہ تیغ کرڈالا اوران کی حکومت کا خاتمہ کرڈالا  (۶۲۵) ہووخشترہ کا شمار ماد حکومت کے بانی کے طور پرہوتا ہے، اس نے فوج کو باقاعدہ منظم کیا، فوج میں پیادوں اورسواروں کے نظام کو تشکیل دیا اور سکاھا فوج کی باقی ماندہ سپاہ کو اپنی فوج میں داخل کرلیا اورجب ماد پارس، مانای کے قیام قبایل نے اس کی اطاعت قبول کرلی تب اس نے آشورحکومت کی داخلی وخارجی مصیبتون سے فایدہ اٹھاتے ہوئے خود کو اس عظیم سلطنت پر حملہ کیلئے تیار کیا ہووخشترہ نے اپنے ہم پیمان بنوپولسر (بادشاہ بابل) کے ساتھ چند ناکام حملوں کے بعد سرانجام نینوا کو اپنے محاصرہ میں لے لیا اوراس پرقبضہ کرنے کے بعد اس کوغارت اورویران کردیا.  (۶۱۲)کچھ مدت کے بعد آشوریوں کی رہی سہی آخری طاقت بھی ٹوٹ گئی(۶۱۰ یا ۶۰۹) اس کے بعد آشوریوں کی کہن سال عظیم الشان سلطنت کا خاتمہ ہوگیا اور وہ عظیم حکومت ماد اور بابل کے بادشاہوں نے آپس میں تقسیم کرلی اورماد کی حکومت ایک تازہ سلطنت کے طورپرایک محکم قدرت بن کر تاریخ اسلام کے صفحات پر ظاہرہوئی۔

کتیبه خشیارشا

اس کے بعد ہووخشترہ  نے اپنی سلطنت کو اور بڑھانا شروع کردیا اور ایشیاء کوچک میں لیدیا حکومت سے آمنا سامنا ہوا ان دو نئی قدرتوں کی جنگ ۵ سال تک جاری رہی اورسر انجام(۲۸مئی ۵۸۵۔)کوسورج گرہن کو فال بد سمجھ کر اس جنگ کاخاتمہ کردیا گیا اور رودھالیس کو دونوں ملکوں کی سرحد قبول کرلیا گیا، صلح کی گفتگو کے دورانی عرصہ میں ہووخشترہ کا انتقال ہوگیا اوراس کا بیٹا الیشتوویگو (یونانی زبان میں اسے آستواگس یاآستیاگ کہتے ہیں) اس کے تخت پر بیٹھنے کے بعد (۵۸۵ ق) الیشتوویگوکی ۳۵سالہ حکومت بہت کم باتیں مورخین نے نقل کی ہیں اس نے اپنی سلطنت کے آخری ایام میں بابل پر حملہ اورمران پرقبضہ کی ٹھانی مگراس سے پہلے کہ حملہ کرتا پارسی قبیلوں کی بغاوت کی خبرملی جس کا رہبر کورش ہخامنش تھا۔ امشان بادشاہ جو ظاہرا اس کا پوتا تھا، آ پہنچا اورایشتوویگو اپنے پائتخت کی طرف لوٹنے پر مجبور ہوگیا۔ تین سال تک دونوں دشمنوں میں جنگ کا سلسلہ جاری رہا آخر کار ایشتوویگو کی فوج نے اسکے خلاف بغاوت کردی اور ماد بادشاہ کو پکڑ کر کورش کے حوالہ کردیا(۵۵۰ یا ۵۴۹ ق)۔ کچھ ہی عرصہ بعد مادوں کی پائتخت پرکورش کا قبضہ ہوگیا اوراس طرح پہلی مستقل ایرانی حکومت کا زمانہ اختتام پذیر ہوگیا۔


متعلقہ تحریریں:

  ایران کا محل وقوع