• صارفین کی تعداد :
  • 4657
  • 1/29/2008
  • تاريخ :

خدا اپنے بندے کی بات سنتا ہے

 

دست دعا

قرآن کریم میں خدا وند متعال ارشاد فرماتا ہے کہ وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لِي وَ لْيُؤْمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ اے پیغمبر (ص) جب میرے بندے میرے بارے میں تجھ سے سوال کریں ، تو ان سے کہو کہ میں ان سے قریب تر ہوں اور جو مجھے پکارتا ہے میں اس کی آواز قبول کرتا ہوں پس وہ میری آواز پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ صراط مستقیم پالیں

کلام الہی کی اس الہام بخش آیۃ سے دعا کو شرف قبولیت بخشنے کے لئےچند شرائط پیدا کئے جاسکتے ہیں ۔

کیا آپ نے کلمہ  عبادی پر غور کیا ہے ؟

آپ بندے سے کیا سمجھتے ہیں اور اس کی کیا تشریح کرتے ہیں ؟

ہاں قابل توجہ نکتہ یہی ہے کہ خدا کا بندہ بن کر اس کی بندگی کرنی چاہیے اور جان لینا چاہیے کہ بندگی، بردگی اور غلامی نہیں ہے اور اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ خدا وند ہمیشہ سے ہمارا مالک ہے اور مالک رہےگا اور وہ ایسا مالک ہے جو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور وہ ہمیشہ اپنے بندے کے ہمراہ ہے لہذا ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ ایسے مالک کے ساتھ ہماری رفتار کیسی ہونی چاہیے اور ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ ہمارے وجود میں کوئی چیز اس سے زیادہ مؤثر نہیں ہے۔  

2 : اگر مجھے پکارو گے میں قبول کرونگا:

آیت کے دوسرے حصے کے بارے میں ہمیں غور و فکر کرنا چاہیے کہ کلمہ الداع طلب کرنے اور درخواست کرنے کے معنی میں ہیں اُجيبُ دَعوَةَ الدَاعِ اِذَا دَعانِ

جب ہم دعا کرتے ہیں تو کیا واقعی ہم چاہتے ہیں کہ خدا ہماری درخواست کو پورا کرے ؟ میرا مقصد ہے کہ کیا ہمارے ہوش و حواس اور ہماری توجہ خدا کی طرف مبذول ہے کہ عالم ہستی میں صرف وہی ذات ہے جو اگر چاہے تو کام ہوجاتا ہے اور اگر نہ چاہے تو نہیں ہوتا!!

یا یہ کہ جب ہم دعا کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں یہ تصور کار فرما ہوتاہے کہ خدایا تو بھی میری مدد کر اگر چہ کام فلاں شخص کے ہاتھ میں ہے ۔

جب ہم اس قدر سمجھ لیں :

1 : کوئی کام ہم سے بننے والا نہیں ہے

2 : اور اس سلسلے میں دوسروں کا حال بھی یہی ہے

جب ہم ایک فقیر کی طرح بارگاہ کریم میں ہاتھ پھیلائیں گے تو یقینا اس کا کرم و جود و سخا جوش میں آئے گا اور ہماری دعا مستجاب ہوگي