• صارفین کی تعداد :
  • 9007
  • 12/16/2007
  • تاريخ :

جديد جنسي اخلاق کے حاميوں کے نظريات

لاله سفيد

جديد جنسي اخلاق کے علمبرداروں کے نظريات مندرجہ ذيل تين اصولوں پر مبني ہيں:

۱۔ ہر فرد کي آزادي اس حد تک ضرور محفوظ رہني چاہئے جہاں تک وہ دوسروں کي آزادي ميں مخل نہ ہو۔

۲۔ انسان کي خوشحالي کا راز اس ميں موجود تمام صلاحيتو ں اور جذبوں کي پرورش ميں پنہاں ہے‘ اگر وہ صلاحيتيں اور جذبات سبوتاژ ہو جائيں تو خود پرستي اور اس قسم کي ديگر (نفسياتي) بيمارياں عود کر آتي ہيں۔ جب خواہشات ميں رد و بدل ہوتا ہے تو اس عمل کے دوران ميں وہ درہم برہم ہو جاتي ہيں‘ يعني بعض خواہشات کي تکميل ہو جاتي ہے اور بعض تشنہ رہ جاتي ہيں‘ لہٰذا خوشحال زندگي کے لئے ضروري ہے کہ انسان کي تمام صلاحيتوں اور خواہشات کي يکساں طور پر پرورش ہو۔

۳۔ قناعت اور سيري سے اشياء کي طرف انساني رغبت کم ہوتي ہے‘ جبکہ ممانعت سے يہ رغبت بڑھتي ہے۔ جنسي مسائل اور ان کے ناخوشگوار نتائج سے مکمل طور پر انساني توجہ ہٹانے کے لئے واحد صحيح راستہ يہي ہے کہ تمام (جنسي) پابندياں اٹھا لي جائيں اور انسان کو آزادي دے دي جائے‘ کيونکہ فتنہ پھيلانا‘ کينہ رکھنا اور انتقام لينا بگڑے ہوئے جنسي اخلاق کي علامتيں ہيں۔

نئے جنسي نظام اخلاق کي بنياد مذکورہ تينوں اصولوں پر رکھي گئي ہے‘ ہم آگے چل کر ان پر سير حاصل بحث کريں گے۔

 

نئے جنسي اخلاق کا تنقيدي جائزہ

قديم جنسي اخلاق کے بارے ميں جديد اخلاقي نظام کے حاميوں کے نظريات اور جنسي اخلاق کي اصلاح کے لئے تجاويز کا ذکر کئے بغير مذکورہ اصولوں پر بحث کرنا چنداں مفيد نہ ہو گا۔

محدود معلومات رکھنے والے لوگ ممکن ہے بحث کے ہمارے موجودہ طريقے کو غير ضروري اور غير مفيد سمجھيں‘ ليکن ہمارے خيال ميں موجودہ معاشرے ميں اس قسم کے مسائل پر بحث کرنا اس لئے ضروري ہے کہ يہ نہ صرف نامور فلاسفہ اور مفکرين کي توجہ کا مرکز رہے ہيں‘ بلکہ نوجوانوں کي محفلوں ميں بھي زيرموضوع رہے ہيں۔ اکثر نوجوان جن کي فکري صلاحيتيں محدود ہيں اور وہ زيربحث مسائل کا منطقي تجزيہ کرنے کي صلاحيت نہيں رکھتے‘ ممکن ہے ان افکار کو پيش کرنے والے فلاسفہ کي شہرت اور شخصيت سے مرعوب ہو کر انہيں سو فيصد درست اور منطقي سمجھ بيٹھيں۔

غنچه گل

لہٰذا قارئين کو اس پس منظر سے پوري طرح آگاہ کرنا ضروري ہے کہ جنسي افکار کا جو سيلاب مغرب سے آيا ہے اور ہمارے نوجوان ان افکار کي صرف ابجد سے واقف ہوئے ہيں اور "آزادي" اور "مساوات" کے خوش نما نعروں سے متاثر ہو کر انہيں سينے سے لگائے بيٹھے ہيں‘ کہاں جا کر رکے گا؟ کب ختم ہو گا؟ کيا انساني معاشرہ اس طوفان ميں اپنا سفري جاري رکھ سکے گا يا يہ آدمي کے قد سے بڑا لباس ہے؟ يہ راستہ انساني تباہي پر تو ختم نہيں ہو گا؟

اس کشمکش ميں (چاہے اختصار کے ساتھ) ان مسائل پر بحث کرنا ضروري ہو جاتا ہے۔

جنسي اخلاق کي اصلاح کے مدعي يہ دعويٰ کرتے ہيں کہ قديم جنسي اخلاق کے جو اسباب اور سرچشمے تھے وہ اب کلي طور پر ختم ہو چکے ہيں يا ختم ہو رہے ہيں‘ لہٰذا اب جبکہ وہ حالات و اسباب ہي موجود نہيں تو کيوں نہ اس اخلاقي نظام کو بھي خيرباد کہہ ديا جائے جس ميں خشکي اور سختي کے سوا کچھ نہيں۔

اس اخلاق کي تخليق کے باعث ان امور کے علاوہ بعض ايسے جاہلانہ اور ظالمانہ واقعات بھي موجود ہيں جو انسان کي ذاتي حيثيت‘ مساوات اور آزادي کے منافي ہيں‘ لہٰذا انسانيت اور مساوات کي خاطر بھي ايسے اخلاقي نظام کے خلاف جنگ کرنے کي ضرورت ہے۔

 

يہ مدعي قديم جنسي اخلاق پيدا ہونے کے جو اسباب گنواتے ہيں‘ يہ ہيں:

"مرد کي عورت پر حاکميت‘ مردوں کا حسد‘ اپنے باپ ہونے کا اطمينان حاصل کرنے کے لئے مرد کي کوششيں‘(يعني ايک مرد کي بيوي سے جو اولاد پيدا ہوتي ہے‘ اس کے بارے ميں شوہر کو يہ اطمينان ہو کہ وہي اس کا باپ ہے۔مترجم) جنسي رابطے کے ذاتاً فحش ہونے کے بارے ميں راہبانہ اور مرتاضانہ نظريات‘ ماہواري کي وجہ سے عورت کو اپني ناپاکي کا احساس اور اس مدت ميں مرد کي عورت سے کنارہ کشي‘ انساني تاريخ ميں مرد کي طرف سے عورت کو پہنچنے والي ايذائيں اور آخرکار وہ معاشي اسباب جو عورت کو ہميشہ سے مرد کا دست نگر بنائے رکھے ہيں۔"

جيسا کہ ظاہر ہے يہ عوامل ظلم و ستم يا خرافات کا نتيجہ ہيں‘ چونکہ پہلے پہل زندگي محدود تھي‘ لہٰذا اس ماحول ميں ايسے افکار قبول کر لئے جاتے تھے ليکن اب مرد کي عورت پر حاکميت ختم ہو چکي ہے۔ جديد طب کي ايجاد کردہ مانع حمل ادويہ سے پدري اطمينان حاصل کر ليا جاتا ہے‘ لہٰذا اب ضروري نہيں رہا کہ قديم وحشيانہ طريقہ ہي اپنايا جائے‘ اب راہبانہ اور مرتاضانہ عقائد دم توڑ رہے ہيں۔ ماہواري کي وجہ سے عورت کو اپني نجاست کا جو احساس ہوتا ہے اسے (طبي) معلومات بڑھا لينے سے ختم کيا جا سکتا ہے‘ کيونکہ يہ معمول کا ايک جسماني عمل ہے۔ ايذا رساني کا دور بھي ختم ہو گيا‘ جو معاشي اسباب عورت کو غلام بنائے ہوئے تھے اب ان کا بھي کوئي وجود نہيں رہا اور آج کي عورت نے اپنا معاسي استحکام حاصل کر ليا ہے۔ علاوہ ازيں حکومت بتدريج اپنے (سماجي) اداروں کو وسعت دے رہي ہے جو عورت کو دورانِ حمل‘ وضع حمل اور دودھ پلانے کے دنوں ميں اپني حمايت کا يقين دلاتے ہيں اور اسے مرد سے بے نياز کرتے ہيں‘ اس طرح دراصل باپ کي جگہ خود حکومت لے ليتي ہے۔ حسد کو اخلاقي ورزشوں سے ختم کيا جا سکتا ہے‘ لہٰذا ان تبديليوں کے ہوتے ہوئے قديم اخلاقي نظام پر پابند رہنے کي کيا ضرورت باقي رہ جاتي ہے؟

يہ وہ اعتراضات ہيں جو قديم جنسي اخلاق پر کئے جاتے ہيں اور انہي دلائل کي موجودگي ميں جنسي اخلاق کي اصلاح کا مطالبہ کيا جاتا ہے۔