• صارفین کی تعداد :
  • 621
  • 9/10/2016
  • تاريخ :

رہبر معظم کے حج کے پيغام کي بھر پور حمايت

رہبر معظم کے حج کے پیغام کی بھر پور حمایت

عالمي اہلسنت مزاحمتي يونين کے سربراہ اور اہلسنت کے ممتاز عالم دين شيخ ماہر حمود نے رہبر معظم انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي امام خامنہ اي کے حج کے پيغام کي بھر پور حمايت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج پوري دنيا نجدي وہابيوں کے فتنوں اور دہشت گردانہ کارروائيوں کي لپيٹ ميں آ گئي ہے اور نجدي فتنہ پروروں کو آل سعود کي بھر پور حمايت حاصل ہے ايران کے روحاني پيشوا کا پيغام درست اور بروقت اقدام ہے جس پر عالم اسلام کو بھر پور توجہ مبذول کرني چاہيے۔
مہر خبررساں ايجنسي نے العالم کے حوالے سے نقل کيا ہے کہ عالمي اہلسنت مزاحمتي يونين کے سربراہ  اور اہلسنت کے ممتاز عالم دين شيخ ماہر حمود نے رہبر معظم انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي امام خامنہ اي  کے حج کے پيغام کي بھر پور حمايت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج پوري دنيا نجدي وہابيوں  کے فتنوں اور دہشت گردانہ کارروائيوں کي لپيٹ ميں آ گئي ہے اور نجدي فتنہ پروروں کو آل سعود کي بھر پور حمايت حاصل ہے۔ ايران کے روحاني پيشوا کا پيغام درست اور بروقت اقدام ہے جس پر عالم اسلام کو بھر پور توجہ مبذول کرني چاہيے انھوں نے کہا کہ آل سعود ايک وحشي ، جاہل ، نادان اور نجدي پرور خاندان ہے جس کي حج کے معنوي ، اخلاقي ،روحاني اور سياسي پہلووں پر کوئي  توجہ نہيں ہے آل سعود کي توجہ صرف ماديات پر مرکوز ہے اور وہ حج سے صرف مادي فوائد حاصل کرتے ہيں اور انھيں امريکي اور اسرائيلي مفادات ميں خرچ کرتے ہيں۔
علماء اہلسنت کے ممتاز عالم دين نے کہا کہ مني ميں صرف ايراني حجاج ہي شہيد نہيں ہوئے بلکہ مني کے 7000 شہداء ميں ايران کے صرف 465  حاجي شہيد ہوئے اور ايرانيون نے عزت اور حرمت کے ساتھ اپنے شہيد حجاج  کي شناخت کي اور انھيں عزت اور عظمت کے ساتھ دفن کيا جبکہ باقي شہداء کا تعلق ديگر اسلامي ممالک سے تھا اور انھوں نے اپنے حاجيوں کو سعودي عرب کے حکام کے رحم و کرم پر چھوڑديا اور ان کي بغير سناخت کے تدفين ہو گئي  انھوں نے کہا کہ دوسرے اسلامي ممالک نے اپنے شہداء کي مشکوک موت کے بارے ميں صاف اور شفاف تحقيقات کا مطالبہ کيوں نہيں کيا؟ مني کے شہيدوں کو بغير کسي شناخت ، تشخيص اور تحقيق  کےکيوں دفن کرديا گيا؟ وہ دروازہ کيوں بند کرديا گيا جس سے حجاج گزررہے تھے ۔

انھوں  نے کہا کہ جب تک مني کے المناک واقعہ کي غير جانبدارانہ  اسلامي کميشن کے ذريعہ صاف اور شفاف تحقيقات نہيں ہوتيں تب تک سعودي عرب کے حکام ملزم اور مجرم شمار ہوں گے تحقيقات کے بعد پتہ چلےگا کہ سعودي عرب کے حکام قصوروار ہيں يا نہيں۔
اہلسنت کے ممتاز عالم دين نے کہا کہ سعودي عرب کے حکام نے ايراني حجاج کو حج سے محروم کرکے سنگين اور تاريخي جرم و جنايت کا ارتکاب کيا ہے انھوں نے کہا کہ نجدي شرپسندوں نے سرزمين وحي کا نام تبديل کرکے آل سعود کے نام پر رکھ ديا انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہيے کہ وہ سرزمين وحي کو سعودي عرب کے نام سے نہيں بلکہ حجاز کے نام سے پکاريں حجاز پر آل سعود نے ويسے ہيغاصبانہ قبضہ کررکھا ہے جيس فلسطين پر اسرائيل کا غاصبانہ قبضہ ہے۔
انھون نے سعودي عرب کے نجدي مفتيوں کے ايران کے خلاف بيانات کو باطل اور کفر پرمبني قرارديتے ہوئے کہا کہ نجدي خود دائرہ اسلام سے خارج ہيں وہ خود مشرک ہيں وہ امريکہ اور آل سعود کے بت کي پرستش کررہے ہيں
۔انھوں نے کہا کہ نجدي پہلے بھي اسلام کے لئے خطرہ تھے اور آج بھي اسلام کے لئے بہت بڑا خطرہ ہيں کل بھي انھيں سامراجي طاقتوں کي حمايت حاصل تھي اور آج بھي ان کي پشت پر سامراجي طاقتوں کا ہاتھ ہے وہ کل بھي اسلام کے دشمن تھے اور آج بھي اسلام کے دشمن ہيں۔