• صارفین کی تعداد :
  • 3676
  • 6/27/2016
  • تاريخ :

جو چپ رہے گي زبانِ خنجر لہو پکارے کا آستين کا (حصّہ دوّم )

جو چپ رہے گی زبانِ خنجر لہو پکارے کا آستین کا (حصّہ دوّم )


بہر حال انسانيت اس لحاظ سے بربادي کے کگار پر ہے اور ہر کوئي  اس بربادي کے مناظر اپنے ہي تعمير کردہ مخصوص زندان کي روزن  سے ديکھنے ميں مشغول ہے وہ دن گئے جب مشرق ميں مارے گئے انسان پر مغرب نوحہ کناں ہوتا تھا  اور مغرب کے مظلوم کے متعلق مشرقي دل رنجيدہ خاطر ہوتا تھا خود غرضي،خود خواہي اورخود فريبي نے دورِ جديد کے ماڈرن انسان کي فطري ميلانات کو ہزارہاء قسم کے دبيز پردہ ميں چھپا ديا ہے يہي وجہ ہے کہ جو دل جانوروں کے از جان ہونے سے متاثر ہوئے بغير نہيں رہ سکتا تھا وہي اب انسان کي ہلاکت سے ذرہ برابر بھي ہلکان نہيں ہوتا ہے  اس صورت حال پر بس اتنا ہي کہا جا سکتا ہے کہ'' آں قدح بشکست و آں ساقي نماند''

 خير بات ہو رہي تھي ايک جوان سال ،خوبرو ،اور قوي ہيکل شخص کے خون آلود لاش کي دراصل ميں کسي اور چيز کي تلاش ميں انٹر نيٹ کي دنيا ميں سرگردان تھا  اس درد ناک منظر کو ديکھ کر ميري تلاش کا رخ ہي بدل گيا ميرے دل ميں ميرے لئے اس غير شناختہ مقتول کے متعلق مزيد جانکاري حاصل کرنے کي ٹرپ پيدا ہوئي اور اس ٹرپ نے راقم کو تين گھنٹے تک مسلسل انٹرنيٹ کے ساتھ مصروف رکھا اور چند ايک معلومات کي بنياد پر ميں اسي نتيجے پر پہنچا کہ راقم کے لئے يہ غير معروف ہلاک شدہ فرد ايک معروف قوال امجد صابري ہے جو صابري براداران کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے  مزيد کھنگالنے پر يہ بھي معلوم ہوا کہ مقتول صابري اپني خوش الحاني کے لئے بر صغير ميں ہر دلعزير تھے يہاں پر ميں اس بات کا اعتراف کرتا چلوں ہر چندکہ راقم قوالي کے فن سے نابلد ہونے کے سبب قوالي سننے کا دلدادہ نہيں البتہ گاہ بہ گاہ کہيں غيرارادي طور کسي قوال کي آواز کان ميں پڑھ جائے تو قدرتي طور پر فکرو فن کي طرف متوجہ ہونا لابدي ہے  يہي سبب ہے کہ مرحوم صابري جيسے فن کاروںکے فن اور زندگي  سے راقم کلي طور پر ناواقف ہے  سيدھي سي بات ہے کہ جس کي زندگي سے کوئي بالکل ناواقف ہو اس کي زندگي سے  اسکا متاثر  ہونا ناممکن ہے ۔ميں بھي ناواقفيت کي وجہ سے امجد صابري کي حيات اور کارناموں سے متاثر نہيں ہوں مگر ان کي موت نے مجھے يقينا متاثر کيا يقين جانئے کہ باوجود اس کے ميں نے اس شخص کو آج تک ديکھا نہيں تھا اور نہ ہي سنا تھا پھر بھي اس کے تئيں ميري ہمدردي لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہوتا گيا ?ميں نے اس کے کئي انٹر ويو سنے( جاري ہے )