• صارفین کی تعداد :
  • 10773
  • 7/4/2016
  • تاريخ :

امام خميني کي نگاہ ميں رہبري کي شرائط ( حصّہ چہارم)

ایران کا پرچم


يہ ايسي حکومت ہے کہ جسکے قانون کے مقابلے ميں سبھي مساوي اور برابر ہيں کيونکہ اسلام کا قانون الہي قانون ہے اور خداوند متعال کے سامنے سبھي مساوي اور برابر ہيں چاہے حاکم ہو يا محکوم چاہے پيغمبر (ص) ہو يا امام (ع) اور چاہے عوام(6)
رہبر عوام کے درميان:
اسلامي حاکم اور راہنما دوسرے حکام " جيسے سلاطين اور جمہوري صدور " کے مانند نہيں ہے اسلام کا حاکم وہ حاکم ہے جو مدينہ کي اس چھوٹي سي مسجد ميں تشريف لاتے اور عوام کي گفتگو سنتےتھے اور وہ لوگ جن کے ہاتھوں ميں مملکت کے امور تھے وہ بھي عوام کے تمام طبقات کي طرح مسجد ميں جمع ہوتے تھے اور انکا اجتماع ايسا ہوتاتھا جسميں اگر کوئي غير آجاتاتھا تو وہ نہيں پہچان سکتا تھا کہ انميں صاحب منصب اور صدر مملکت کون ہے اور معمولي لوگ کون ہيں لباس عام لوگوں جيسا ، طرز زندگي عوام جيسي ، عدل و انصاف کو برقرار کرنے کيلئے يہ طرز عمل تھا کہ اگر ايک معمولي شخص حکومت کے پہلے درجے کے شخص کے خلاف عدالت ميں مقدمہ دائرکرے تو وہ قاضي کے پاس پہنچ جاتے تھے اورقاضي اگرحکومت کے پہلے درجے کے شخص کو حاضر کرتا تھا اور وہ بھي حاضر ہوجاتے تھے(7)
ولايت فقيہ ڈکٹيٹري کے برژس ہے :
اسلام ميں قانون حکومت کرتاہے پيغمبر اکرم (ص) بھي الہي قانون کے تابع تھے آنحضور قانون کےمطابق عمل کرتے تھے خداوند تبارک و تعالي کا ارشاد ہے جو ميں چاہتاہوں اگر اسکے خلاف تم عمل کرو گے تو ميں تمہارا مواخذہ کروں گااورتمہاري شہ رگ (( وتينت )) کاٹ دوں گا(8) اگر پيغمبر(صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) (معاذ اللہ) ايک ڈکٹيٹر شخص ہوتے يا ايک ايسے شخص ہوتے کہ جس سے لوگ ڈرتے کہ اگر وہ کبھي موقع پاکر مکمل قدرت حاصل کرليں گے تو ڈکٹيٹري کريں گے نہ کل پيغمبر (ص) ڈکٹيٹر تھے اور نہ آج فقيہ ڈکٹيٹر ہو سکتا ہے (9)
فقيہ ميں استبداد نہيں پايا جاتاہے وہ فقيہ جو ان اوصاف کا حامل ہوتا ہے وہ عادل ہوتا ہے ايسي عدالت جو سماجي عدالت کي مظہر ، ايسي عدالت جسميں جھوٹ کا ايک کلمہ اسکو عدالت سے ساقط کردے گا ، نامحرم پر ايک نظر اس کو عدالت سے گرا دےگي ايک ايسا انسان نہ غلط عمل کرسکتا ہےاورنہ کبھي غلط کرتا ہے (10) ( جاري ہے )