• صارفین کی تعداد :
  • 13452
  • 3/28/2016
  • تاريخ :

مردوں اور خواتین کے خوابوں میں فرق

خوابوں کے نگر کے 10 ذہن گھما دینے والے حقائق حصه دوم


یہ کوئی حیرت انگیز نہیں مرد حضرات کے خواب عام طور پر خواتین کے گرد گھومتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں خواتین کو خوفناک خوابوں کا تجربہ زیادہ ہوتا ہے۔
ویسٹ انگلینڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق خواتین تین طرح کے خوفناک خوابوں کو دیکھتی ہیں یا انہیں تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، دہشت انگیز خواب (تعاقب یا زندگی کو خطرہ)، کسی پیارے کو کھونے کا خواب یا الجھن میں ڈال دینے والے خواب۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مردوں کے مقابلے میں اگر خواتین سے کسی اہم خواب کی تفصیلات بتانے کو کہا جائے تو انہیں متاثر کرنے والے خوفناک خواب کو زیادہ تفصیلی اندازہ میں بیان کردیں گی اور اہم بات یہ ہے کہ صنف نازک کے خواب جذباتی طور پر بھی مردوں کے مقابلے میں زیادہ شدت والے ہوتے ہیں۔
آپ خوابوں کو کنٹرول بھی کرسکتے ہیں
اگر آپ قابل فہم خوابوں میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ کو ویڈیو گیمز کا سہارا لینا چاہئے کیونکہ یہ دونوں ہی متبادل حقائق کی نمائندگی کرتے ہیں۔
کینیڈا کی گرانٹ میکوئن یونیورسٹی کی تھقیق کے مطابق ویڈیو گیمز اور خواب یقیناً مکمل طور پر ایک جیسے نہیں کیونکہ گیمز کو کمپیوٹر اور گیمنگ کنسول سے کنٹرول کیا جاتا ہے جبکہ خواب انسانی ذہن سے ابھرتے ہیں۔
تاہم اگر کوئی فرد دن بھر میں کئی گھنٹے گیموں کی ورچوئل دنیا میں گزارے تو وہ جس طرح گیم کے ماحول کو کنٹرول کرتے ہیں اس طرح خوابوں کو بھی اپنے بس میں کرسکتے ہیں۔
تحقیق میں بھی بتایا گیا ہے کہ بہت زیادہ ویڈیو گیمز کھیلنے والے افراد کے خواب زیادہ قابل فہم ہوتے ہیں اور اکثر وہ خود کو اپنے جسموں سے باہر یعنی روح کی شکل میں دیکھتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ اپنے خوابوں کی دنیا پر زیادہ بہتر طریقے سے اثرانداز ہوپاتے ہیں بالکل اس طرح جیسے ویڈیو گیم کے کسی کردار کو کنٹرول کررہے ہو۔
اس طرح کے کنٹرول کے ذریعے یہ گیمرز اپنے خون خشک کردینے والے خواب کو تفریحی بھی بناسکتے ہیں۔
ذہنی تناﺅ کا توڑ بھی ہوتے ہیں خواب
ذہنی تناﺅ میں کمی کے لیے بہت زیادہ ادویات لینے یا محنت کی ضرورت نہیں بلکہ خوابوں کے نگر کا دورہ بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دوران نیند خواب دیکھنے سے دماغ میں ایسے خاص کیمیکلز کی سطح میں کمی ہوتی ہے جن کا تعلق تناﺅ سے ہوتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ خواب دیکھنے کے دوران ذہنی تناﺅ سے منسلک ایک دماغی کیمیکل نوریفائنفرائن کی سطح میں کمی ہوتی ہے اور نیند کی اس رنگارنگ وادی میں کھونے سے انسانی جذباتی طور پر مضبوط ہوتا ہے اور وہ ذہنی طور پر خود کو پہلے سے بہتر محسوس کرنے لگتا ہے۔
آپ رات بھر میں اندازوں سے بھی زیادہ خواب دیکھتے ہیں
ویسے تو عام خیال ہے کہ رات بھر میں ایک فرد ایک خواب ہی دیکھ پاتا ہے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ گہری نیند میں جانے کے صرف 90 منٹ کے اندر ہی ہم لوگ درجنوں خواب دیکھ لیتے ہیں، تو وہ میں یاد کیوں نہیں رہتے؟ تو اس کا جواب ہے کہ وہ بہت بیزار کن ہوتے ہیں۔
درحقیقت لوگوں کو ایسے خواب زیادہ اید رہتے ہیں جو کسی بھی طرح غیرمعمولی یا عجیب و غریب ہو، جبکہ بیشتر خواب عام روزمرہ کی زندگی کے حوالے سے ہوتے ہین جیسے کپڑوں پر استری یا ای میل چیک کرنا وغیرہ۔
درحقیقت ان خوابوں کے ذریعے ہمارا دماغ دن بھر کے اقدامات کو دوہرا رہا ہوتا ہے تاکہ انہیں یاداشت میں محفوظ کیا جاسکے اور ان سے سیکھا جاسکے۔
مگر حیرت انگیز خواب خاص طور پر وہ جو آپ کو جاگنے پر مجبور کردیں ان کا اثر دیرپا ہوتا ہے یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے آپ حقیقی زندگی میں کوئی غیرمعمولی واقعہ دیکھ لے جسے بھول پانا مشکل ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر کوئی فرد برہنہ گلی میں بھاگنے لگے تو آپ کو ارگرد موجود سینکڑوں افراد میں سے کوئی یاد نہیں رہے گا مگر وہ برہنہ شخص چونکا دینے والے فرق کی وجہ سے ذہن میں ثبت ہوجائے گا۔
بو کے ذریعے بھی خوابوں کو بدلنا ممکن
یہ تو درست ہے کہ روشنی یا الارم کلاک کی آواز کے ذریعے خواب میں دخل ڈالا جاسکتا ہے مگر کچھ چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو کہ خواب کو بالکل ہی بدل کر رکھ دیتی ہیں اور کسی خوشگوار خواب کو نائٹ میئر میں تبدیل کردیتی ہیں اور ان میں سرفہرست ہے بو جو کہ خوابوں پر ڈرامائی اثرات مرتب کرتی ہے۔
جرمنی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق آپ کے سونے کے کمرے میں اچھی خوشبو خوشگوار خوابوں کا باعث بن سکتی ہے جبکہ بدبو کا نتیجہ خون خشک کردینے والے خوابون کی شکل میں نکلتا ہے۔
اس تحقیق کے دوران پندرہ رضاکاروں کو سونے کے دوران خوشگوار مہک جیسے گلاب اور گندے انڈوں کی بدبو سونگھنے پر مجبور کیا گیا اور پھر انہیں اٹھا کر خوابوں کے بارے میں پوچھا گیا۔
جس سے معلوم ہوا کہ جنھوں نے گلاب کی مہک کو سونگھا تھا ان کے خواب بھی مثبت اور خوشگوار تھے جبکہ گندے انڈوں کی بو نے خواتین کے خوابوں کو بھی دہشت ناک بنادیا۔
خوفناک خواب مزاج پر ہوتے ہیں اثرانداز
دہشت زدہ؟ مایوس؟ یا ذہنی تھکن کے شکار ہیں؟ تو ہوسکتا ہے کہ آپ راتوں کو ڈراﺅنے خوابوں کو زیادہ دیکھتے ہو کم از کم ایک تحقیق میں تو یہی عندیہ دیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق کسی فرد کے خوفناک خوابوں کی تعداد اور ان کی ذہنی کیفیات کے درمیان مضبوط تعلق ہوتا ہے۔
جتنے زیادہ آپ ڈراﺅنے خواب دیکھیں گے اتنے ہی زیادہ آپ چڑچڑے اور ذہنی طور پر الجھن کا شکار ہوتے جائیں گے۔
یقیناً ایسا ہوسکتا ہے کہ ذہنی طور پر پہلے سے ہی مایوسی کے شکار افراد کو زیادہ ڈراﺅنے خوابو ںکا سامنا ہوتا ہو مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ نیند کی وادی کے بھیانک نظارے آپ کے جاگتے ہوئے ذہن کو بھی تباہی کے راستے پر ڈال دیتے ہیں۔