• صارفین کی تعداد :
  • 4522
  • 8/21/2015
  • تاريخ :

قرآن کریم میں ائمہ (ع) کے نام ( حصّہ چہارم )

زکيه

قرآن کریم کا کلیات کو بیان کرنا بھی واضح ہے کیونکہ قرآن کریم تمام لوگوں کے لئے الہی ہدایت کا پیغام ہے اور انسان کی مادی اور معنوی دونوں زندگیوں کو شامل ہے اور قرآن کریم نے انسانی زندگی کے تمام مادی، معنوی، فردی، اجتماعی، اخلاقی ، دنیوی اور اخروی پہلووں پر روشنی ڈالی ہے ۔
فطری سی بات ہے کہ ان تمام مطالب کو ایک کتاب میں تفصیلی طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا بلکہ کلی، معیاری اور مسئلہ کو حل کرنے والا ضروری متن لایا جا سکتا ہے ۔ اس کی فرعی شاخوں کی تفصیل اس کے انبیاء، جانشین اور ہدایت یافتہ لوگوں پر چھوڑ دی جائے (۱۸) ۔
جیسا کہ روایات میں بیان ہوا ہے کہ امام صادق (علیہ السلام) کے ایک شاگرد ابوبصیر نے امام سے یہی سوال کیا تھا (۱۹) اور آپ نے اس سوال کے جواب میں قرآن کریم کے اس خاص طریقہ کے طرف اشارہ کیا اور فرمایا : جس وقت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے لئے نماز کی آیت نازل ہوئی تو خداوندعالم نے تین یا چار رکعت نہیں بیان کی ، یہاں تک کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اس کی وضاحت فرمائی۔ زکات کی آیت نازل ہوئی ، لیکن خداوند عالم نے نہیں بتایا کہ چالیس درہم میں سے ایک درہم زکات دی جائے ، لہذا بعد میں رسول خدا (ص) نے اس کی وضاحت فرمائی، جب حج کی آیت نازل ہوئی تو خدا نے نہیں فرمایا کہ طواف میں خانہ کعبہ کے ساتھ چکر لگائے جائیں ،پھر بعد میں رسول خدا (ص) نے لوگوں کے سامنے وضاحت فرمائی ۔ ”اٴَطیعُوا اللَّہَ وَ اٴَطیعُوا الرَّسُولَ وَ اٴُولِی الْاٴَمْرِ مِنْکُمْ “علی ، حسن اور حسین (علیہم السلام) کی شان میں نازل ہوئی اور رسول خدا (ص) نے علی (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ”جس کا میں مولی اور آقا ہوں اس کے یہ علی مولی اور آقا ہیں اور فرمایا میں تمہیں کتاب خدا اور اپنے خاندان کے متعلق وصیت کرتا ہوں کیونکہ میں نے خداوندعالم سے درخواست کی ہے کہ ان دونوں کے درمیان جدائی نہ ہو یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیںاور خداوند عالم نے میری یہ درخواست قبول فرما لی ہے “ (۲۰) ۔
امام محمد باقر (علیہ السلام) نے اس متعلق فرمایا ہے : خداوندعالم نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر نماز نازل کی ، لیکن تین یا چار رکعت کا تذکرہ نہیں کیا ،یہاں تک کہ رسول خدا (ص) نے اس کی وضاحت فرمائی ، نیز فریضہ حج کو نازل فرمایا ،لیکن طواف کی تعداد نازل نہیں کی ،پھر پیغمبر اکرم (ص) نے اس کی تفسیر کی ، اسی طرح ہماری امامت ہے ،خداوند عالم نے آیت ”اٴَطیعُوا اللَّہَ وَ اٴَطیعُوا الرَّسُولَ وَ اٴُولِی الْاٴَمْرِ مِنْکُمْ “ نازل فرمائی اور پیغمبر اکرم (ص)نے اولوالامر کو ائمہ اثنی عشر سے تفسیر فرمایا اوراگر پیغمبر اکرم(ص) خاموش رہ جاتے اور بیان نہ کرتے تو آل عباس، آل عقیل اور دیگر لوگ مدعی ہوجاتے کہ اولی الامر سے مراد ہم ہیں ․․․(۲۱) ۔ ( جاری ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

قرآن مجيد ولايت اميرالمومنين (ع) کا گواہ1
قرآن مجید اور حضرت علی علیہ السلام کی خدمات