• صارفین کی تعداد :
  • 4234
  • 11/4/2014
  • تاريخ :

محرم شمشير پرخون کي فتح کا مہينہ

محرم شمشیر پرخون کی فتح کا مہینہ

محرم ايک عظيم سرمايہ ہے جسے خداوندعالم نے اپنے بندوں کے حوالے کيا ہے تاکہ اس سے استفادہ کرکے انسان ہميشہ اچھے اور برے کي تميز کرنے کے ساتھ ساتھ حادثات زمانہ کے دوران وہ فتنوں کے سينوں کو چاک کرکے انھيں ناکام بنا سکے اور يوں وہ ان فتنوں کے ہولناک گرداب ميں غرق ہونے سے بچ جائے -سرکار سيد الشہداء امام حسين عليہ السلام کے بارے ميں رسول اکرم حضرت محمد مصطفي صل اللہ عليہ وآلہ وسلم کي يہ معروف حديث جس ميں آپ نے فرمايا کہ فقط امام حسين کي تعريف و تمجيد نہيں ہے بلکہ سرکار دوعالم نے يہ حديث اس لئے ارشاد فرمائي تھي کہ سب کو قيامت تک کے لئے يہ معلوم ہونا چاہئے کہ امام حسين عليہ السلام راہ ہدايت کے مشعل فروزاں ہيں اور سب لوگ ان کي اتباع و پيروي کرکے دين خدا کي نصرت کريں تاکہ گمراہي اور ضلالت کے گڑھوں ميں گرنے سے خود کو بچا سکيں- پيغمبر اسلام کے پيش نظر جو چيز تھي وہ يہ کہ محرم اور تحريک عاشورہ سے زندگي گذارنے کا درس حاصل کرو اور اس طرح سے امام حسين عليہ السلام کے مقصد کو آگے بڑھاو تاکہ درس کربلا انساني معاشرے کي انفرادي اور اجتماعي زندگي ميں عملي شکل اختيار کرسکے اور پھر اس طرح صحيح معنوں ميں ہم امام حسين عليہ السلام کے پيرو اور ان کے عزادار کہلائيں -اسلامي جمہوريہ ايران ميں يہ کام امام خميني رہ نے بہترين شکل ميں انجام ديا امام خميني(رہ) کا يہ معروف جملہ جس ميں آپ نے فرمايا تھا محرم شمشير پر خون کي فتح کا مہينہ ہے ان انقلابي تحريک ميں عملي ميں طور پر متجلي ہے اوراسي سبق نے ايران کے اسلامي انقلاب کو کاميابي سے ہمکنار کيا - ايران کے اسلامي انقلاب کي کاميابي کويقيني طورپرواقعہ کے عاشورکے درس سے الہام لينے اوراس واقعہ کے پرتو ميں ہي ديکھا جانا چاہئے کيونکہ اسلامي انقلاب نے واقعہ عاشورہ سے بھرپور فائدہ اٹھايا اوراسي کواپنے لئے نمونہ قرارديا اوريہ سلسلہ آج بھي جاري ہے اورآئندہ بھي ايران کا اسلامي انقلاب واقعہ عاشورہ کے ہي پرتو ميں اپني سرگرمياں جاري رکھے گا -ايران کے عوام نے اسلامي انقلاب کوآساني سے کامياب نہيں بنايا ہے يا اس نے اپنے ملک ميں جواسلامي نظام قائم کياہے وہ آساني سے ممکن نہيں ہوا ہے - گذشتہ تيس برسوں ميں ايران کے عوام نے اسلامي انقلاب اوراسلامي نظام کي حفاظت کے لئے بے پناہ قربانياں دي ہيں اورآئندہ بھي اس کے ثمرات کے تحفظ کے لئے کسي بھي قرباني سے دريغ نہيں کريں گے ان کے سامنے واقعہ عاشورہ ہے-حضرت امام حسين عليہ السلام نے جوانقلاب ميدان کربلاميں بپا کيا تھا اس کي حفاظت ميں امام زين العابدين اورجناب زينب کبري سلام اللہ عليھما نے جوقربانياں دي ہيں وہ کربلاکے ميدان ميں قرباني دينے والوں کي قربانيوں سے کہيں زيادہ سخت ودشوارتھيں اورآج ايران کے عوام بھي اس بات کواچھي طرح جانتے ہيں کہ انقلاب بپا کرنے سے زيادہ سخت اس کي حفاظت اوراس کے ثمرات کا تحفظ ہے اسي لئے ايران کے عوام محرم اورصفرکوانقلاب کے ثمرات کے تحفظ کے تعلق سے بہت ہي اہم موقع کے طورپرديکھتے ہيں اوران ايام سے پوري طرح استفادہ کرنے کي کوشش کرتے ہيں -امام خميني رہ کے نقطہ نگاہ سے اسلام ايک انسان سازمکتب ہے اوراسلامي انقلاب بھي اصل اسلام کے نام پرہي برپاہوا ہے اورايران کا اسلامي نظام بھي ملت ايران کے لئے ايک سعادت بخش نطام ہے اورملت ايران نے اس کے حق ميں ووٹ دے کراسے قائم کيا اورگذشتہ تيس برسوں سے اس کي حفاظت بھي کر رہي ہے - ايران کے عوام آج اپني عزت وسربلندي کو امام خميني(رہ) کي قيادت کا مرہون منت سمجھتے ہيں جنھوں نے اس قوم کو استکبار کے چنگل سے آزاد کرايا اور استبدادي حکومتوں سے نجات دلائي- (جاري ہے)


متعلقہ تحریریں:

خرافہ کيا ہے؟

طاغوت کے خلاف اٹھنے والي تحريکوں کي حمايت